ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ماحولیات نے  انڈین فاریسٹ سروس کے وسط ملازمت تربیتی پروگرام کے شرکاء سے تبادلۂ خیال کیا، ماحولیات کے تحفظ کی حصولیابیوں اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں کو اجاگر کیا


روایتی ضابطہ جاتی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر پائیدار ترقی کے قائد، اختراع کار اور سہولت کار بنیں: جناب بھوپیندر یادو کی آئی ایف ایس  افسران سے اپیل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 11:29AM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں انڈین فاریسٹ سروس کے وسط ملازمت تربیتی پروگرام کے تیسرے مرحلے (19ویں بیچ) کے شرکاء سے تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر موجود معزز شخصیات میں ایم او ای ایف سی سی کے سکریٹری جناب نریندر بھوشن، ڈائریکٹر جنرل (جنگلات) اور خصوصی سکریٹری( ایم او ای ایف سی سی ) جناب سنتوش تیواری، وزارت میں اے ڈی جی (جنگلی حیاتیات) جناب رمیش پانڈے، اندرا گاندھی نیشنل فاریسٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جناب راجندر پرساد کھجوریا کے علاوہ وزارت کے دیگر سینئر افسران شامل تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261012113052_a62e9b.jpg

مختلف ریاستی کیڈروں سے تعلق رکھنے والے انڈین فاریسٹ سروس( آئی ایف ایس)کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے، جناب یادو نے ہندوستان کے جنگلات، جنگلی حیاتیات اور ماحولیاتی ورثے کے تحفظ میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے جنگلی حیاتیات کے تحفظ، جنگلات اور درختوں کے احاطے میں اضافے، کاربن کو جذب کرنے، جنگلاتی علاقوں اور آبی خطوں کے تحفظ اور قدرتی خطوں کی بحالی کے شعبوں میں ہندوستان کی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ جیسی عوامی شمولیت پر مبنی پہلوں کے علاوہ ’مشٹی‘، ’اراولی گرین وال‘ اور ’نگر وَن یوجنا‘ کا بھی ذکر کیا۔ وزیر موصوف نے زور دیا کہ ’وکست بھارت@2047‘ کے تصور میں معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یکجا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات، موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی سرگرمیوں و تحفظِ ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنے کو بڑے چیلنج قرار دیا، جن سے نمٹنے کے لیے سائنسی طریقوں اور مقامی برادریوں کی شمولیت ضروری ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان خوش قسمت ہے کہ یہاں آب و ہوا، ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کی وسیع اقسام پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات اور جنگلی حیاتیات کے تحفظ کے لیے آئی ایف ایس افسران کو حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور زمینی سطح پر مؤثر انداز میں قیادت کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیاتیاتی وسائل اس کرۂ ارض کے سب سے اہم اور بنیادی وسائل ہیں۔ اسی لیے افسران کو میدانی سطح پر منصوبوں پر عمل درآمد کے تجربے کے ساتھ ساتھ وزارت کی سطح پر مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی سازی کا تجربہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزیر موصوف نے افسران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ روایتی اندازِ فکر سے ہٹ کر سوچیں اور اپنے شعبوں میں درپیش چیلنجوں کے عملی حل تلاش کریں۔

انڈین فاریسٹ سروس کے بدلتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب یادو نے افسران پر زور دیا کہ وہ روایتی ضابطہ جاتی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر پائیدار ترقی کے قائد، اختراع کار اور سہولت کار بنیں۔ انہوں نے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس)، ریموٹ سینسنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجیز کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے روایتی علم سے استفادہ کرتے ہوئے مسلسل صلاحیت سازی اور مقامی برادریوں کی شمولیت کو بھی ضروری قرار دیا۔ وزیر موصوف نے افسران سے اپیل کی کہ وہ اداروں کو مضبوط بنائیں، مؤثر فیصلہ سازی اور جنگلات کے انتظامی منصوبے تیار کرنے کے لیے اختراعی طریقے اپنائیں اور ہندوستان کے ماحولیاتی مستقبل کے تحفظ کے تئیں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261012113100_f1992b.jpg

ایم سی ٹی پروگرام 2026

اندرا گاندھی نیشنل فاریسٹ اکیڈمی (آئی جی این ایف اے) کی جانب سے 12 اکتوبر سے 6 نومبر 2026 تک منعقد کیا جا رہا وسطِ ملازمت تربیتی پروگرام، مرحلہ سوم (19ویں بیچ)،آئی ایف ایس کے ان افسران کے لیے تیارکیا گیا ہے جنہیں 7 سے 9 سال کا تجربہ حاصل ہے۔ اس پروگرام میں 18 کیڈروں کے 68 افسران شرکت کر رہے ہیں، جو فیلڈ اور پالیسی سازی کے شعبوں میں متنوع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ دلچسپیوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کا نظم و نسق، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل جنگلات کا انتظام، قدرتی مسکن کی بحالی، قدرتی خطوں کی بحالی اور ماحولیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد جیسے موضوعات شامل ہیں۔

اس پروگرام کو قیادت کی صلاحیتوں، پالیسیوں پر مؤثر اور حکمت عملی کے تحت عمل درآمد اور میدانی سطح پر جنگلات کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں جدید ٹیکنالوجیز اور عصری طریقۂ کار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت ’متعلقہ مرکزی وزارتوں کا تربیتی ماڈیول‘ افسران کو اہم مرکزی وزارتوں اور اداروں کے کام کاج سے واقف کرائے گا، تاکہ مختلف شعبوں کے باہمی روابط اور پالیسی کے ڈھانچوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے۔ اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے موضوعاتی دوروں میں جنگلی حیاتیات کے انتظام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحول دوست سیاحت اور مقامی برادریوں کی شمولیت سے جنگلات کے انتظام کے بہترین طریقوں پر توجہ دی جائے گی۔

 

انتظامی ماڈیول میں قیادت اور فیصلہ سازی، انسانی وسائل اور مالیاتی انتظام، مشترکہ جنگلاتی وسائل کا نظم و نسق، مذاکرات اور تنازعات کا حل، تبدیلی کا انتظام، ابلاغ اور اخلاقی قیادت جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ آخر میں، ’جنگلاتی ماڈیول‘ کے تحت ابھرتے ہوئے مسائل کا احاطہ کیا جائے گا، جن میں ماحولیاتی کنونشنز، جنگلات کے شعبے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، جنگلی حیاتیات کے شعبے میں قومی سطح پر قیادت، حیاتیاتی تنوع کا نظم و نسق، موسمیاتی مالیات، جنگلاتی حقوق کے قانون (ایف آر اے )سے متعلق مسائل، آبی گزرگاہوں کی دیکھ بھال، جنگلات کے تحفظ سے متعلق قانون میں حالیہ ترامیم اور انسانوں و جنگلی حیاتیات کے درمیان تصادم شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261012113108_782d8b.jpg

*****

ش ح۔ م ش۔ ص ج

U. No-4997


(ریلیز آئی ڈی: 2322123) وزیٹر کاؤنٹر : 11