بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
آزادی کے بعد ڈبرو گڑھ نے پہلا بین الاقوامی کارگو بوگی بیل سے بنگلہ دیش بھیجا
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے بوگی بیل سے ڈھاکہ کے لیے 540 ٹن اے پی سی ایل میتھانول کی ترسیل کا آغاز کیا، آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے ورچوئل شرکت کی
براہما پترا (این ڈبلیو-2) پر یہ سفرہندوستان کے شمال مشرق کو بیرونی منڈیوں سے جوڑنے والے فریٹ کوریڈور (مال برداری کے راستے) کے طور پر دریا کی افادیت کو جانچنے کا ایک تجربہ ہے
1956 میں خاموش ہو جانے والی سٹیمر کی سیٹی کی آواز آج پھر سنائی دی ہے:سربانند سونووال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 OCT 2026 4:02PM by PIB Delhi
540 میٹرک ٹن میتھانول لے جانے والا ایک بارج آج یہاں ڈبرو گڑھ کے بوگی بیل ٹرمینل سے ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے لیے روانہ ہوا۔ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں(ایم او پی ایس ڈبلیو) کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے بوگی بیل سے کشل کنور کے ذریعے دھکیلنے والے جہازڈی ایل بی پٹکئی کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما تقریب میں عملی طور پر شامل ہوئے۔ 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد، قصبے کے دریائی گھاٹ کے بند ہونے کے تقریباً 70 سال بعد، بالائی آسام سے کسی غیر ملکی بندرگاہ پر یہ پہلا کارگو بھیجا گیا ہے۔
میتھانول جو ریاست کی ملکیت والی آسام پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ(اے پی سی ایل) نے نامروپ میں تیار کیا ہے، ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں پانگاؤں پورٹ کے لیے پابند ہے۔ یہ جہاز ہندوستان میں دریائے برہم پترا پر نیشنل واٹر وے-2 سے تقریباً 768 کلومیٹر نیچے ہند-بنگلہ دیش سرحد تک سفر کرے گا، پھر ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ(آئی بی پی آر) کے ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔ یہ جہاز بوگی بیل، ڈبروگڑھ سے نارائن گنج، ڈھاکہ تک کل 1300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا۔
اس سفر کو اس بات کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ آیا برہمپترا تجارتی طور پر قابل عمل مال بردار راہداری کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ جو شمال مشرق کو بیرونی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ بنگلہ دیش کو میتھانول کی باقاعدہ ترسیل کا منصوبہ ہے۔ بوگی بیل اور دھوبری میں حال ہی میں کسٹم اور امیگریشن کمپلیکس قائم کیے جانے کے بعد یہ کھیپ ممکن ہوئی۔
مرکزی وزیر جناب سونو وال نے کہا کہ’’ہمارے بزرگوں نے ڈبروگڑھ گھاٹ پر اسٹیمر کی سیٹی کی آواز سنتے ہوئے پرورش پائی۔ 70 سال تک وہ سیٹی خاموش رہی اور جہازوں کی آمد و رفت بند ہو گئی۔آج ایک جہاز دوبارہ ڈبروگڑھ سے دنیا کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ دریا نے کبھی ہمیں مایوس نہیں کیا۔ دہائیوں تک جس چیز کی کمی رہی، وہ اسے بحال کرنے کا عزم تھا۔‘‘
سرما نے اسے آسام کے لیے فخر کا دن قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’آسام کی اپنی مصنوعات، جو نامروپ میں تیار کی گئی ہیں، اب آسام کے اپنے دریا کے ذریعے بین الاقوامی منڈی تک جا رہی ہیں۔ شمال مشرق اب محض ایک سرحدی علاقہ نہیں رہا، بلکہ یہ مشرق کی جانب ہندوستان کا دروازہ بن چکا ہے۔‘‘
سونووال نے کہا کہ یہ کھیپ ایک شروعات ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ’’پہلا سفر ہے، آخری نہیں۔ آسام کے نوجوانوں سے میں کہتا ہوں: اس دریا کے ساتھ خواب دیکھیں۔ دنیا اب دور نہیں ہے۔ یہ دریا کے بہاؤ کی سمت (یعنی راستے میں) موجود ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، بھارت کا ’چائے کا دارالحکومت‘(ٹی کیپیٹل) کہلانے والا ڈبروگڑھ، ایک عظیم دریائی بندرگاہ کے طور پر اپنی کھوئی ہوئی شان دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ ہم اس کے ورثے کا احترام کرتے ہوئے یہاں عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کر رہے ہیں۔سونووال نے پرجوش انداز میں کہا1956 میں خاموش ہونے والی اسٹیمر کی سیٹی اب دوبارہ سنائی دے رہی ہے۔‘‘
ڈبروگڑھ کبھی مشرقی ہندوستان کی مصروف ترین دریائی بندرگاہوں میں شمار ہوتا تھا۔ سرکاری اسٹیمر 1856 تک کلکتہ (جو اب کولکاتہ ہے) سے اس شہر تک پہنچنے لگے تھے۔ 1882 میں ڈبرو-سادیا ریلوے نے ڈبروگڑھ اسٹیمر گھاٹ سے اپنا کام شروع کیا۔ 1913 تک اسٹیمر روزانہ دریائے برہم پترا کے راستے چائے، لکڑی اور مسافروں کو لے کر اس شہر تک آتے تھے۔
1947 کی تقسیم نے اس راستے کو منقطع کر دیا، جس کے نتیجے میں آسام کا سامان کلکتہ پہنچانے کے لیے مشرقی پاکستان سے گزرنے پر مجبور ہو گیا۔ 1950 کے زلزلے نے ڈبرو گڑھ کے مقام پر دریا کی تہہ کو متاثر کیا۔ 1954 میں ڈبرو گڑھ گھاٹ سے باقاعدہ بکنگ کا سلسلہ رک گیا اور چائے کی ترسیل ریل کے ذریعے منتقل ہونے کے باعث 15 اکتوبر 1956 کو یہ گھاٹ بند کر دیا گیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1965 کی جنگ نے سرحد پار دریائی تجارت کو معطل کر دیا۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش نے 1972 میں دریائی تجارت کے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے۔ 1988 میں دریائے برہم پترا کے سادیہ سے دھوبری تک 891 کلومیٹر طویل حصے کو ’نیشنل واٹر وے-2‘(قومی آبی گزرگاہ نمبر 2) قرار دیا گیا۔ اس آبی گزرگاہ پر کارگو کی باقاعدہ سروس کا آغاز دسمبر 2017 میں ہوا، جب سیمنٹ کو پانڈو سے دھوبری منتقل کیا گیا۔
سونووال نے مزید کہاکہ ’’کئی دہائیوں تک اس شان و شوکت کو ماند پڑنے دیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم نے ڈبرو گڑھ کو اس کا جائز مقام واپس دلانے کا عزم کیا۔ بوگی بیل ٹرمینل، کسٹمز اور امیگریشن کمپلیکس اور ’جل واہک‘کے تحت مقررہ شیڈول والی کارگو سروسز اس تاریخی قصبے کو جدید سہولیات اور عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کر رہی ہیں۔ ہم مستقبل کے لیے تعمیرات کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اس ورثے کو بھی بحال کر رہے ہیں جس نے ڈبرو گڑھ کو عظمت بخشی تھی۔ آج جب کارگو ایک بار پھر ڈبرو گڑھ سے کسی غیر ملکی بندرگاہ کے لیے روانہ ہو رہا ہے تو اس قصبے کا قابلِ فخر ماضی اور اس کا تابناک مستقبل اسی دریا پر آپس میں مل رہے ہیں۔‘‘
اس کے بعد سے اس راستے پر سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ فروری 2022 میں ٹاٹا اسٹیل کے بارجز (مال بردار کشتیاں) بنگلہ دیش کے راستے پانڈو پہنچے اور 2023 میں دریائی کروز جہاز ’ایم وی گنگا ولاس‘نے وارانسی سے ڈبرو گڑھ تک کا سفر بنگلہ دیش کے راستے طے کیا۔ بوگی بیل مسافر اور کارگو ٹرمینل، جس کا سنگِ بنیاد جولائی2023 میں رکھا گیا تھا، فروری 2024 میں کھول دیا گیا۔’جل واہک‘کارگو ترغیبی پروگرام کا آغاز دسمبر 2024 میں کیا گیا۔
وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں(ایم او پی ایس ڈبلیو)کے مطابق ہندوستان کی قومی آبی گزرگاہوں پر کارگو کی نقل و حمل مالی سال 14-2013 میں18 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر26-2025 میں218 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ شمال مشرقی خطے میں آبی گزرگاہوں پر 68 ارب روپے (تقریباً 770 ملین ڈالر)سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ جس میں نیشنل واٹر وے-2 (قومی آبی گزرگاہ-2) کی ترقی، پانڈو میں جہاز کی مرمت کی سہولت اور پانڈو بندرگاہ تک’ آخری میل تک رسائی کی فراہمی شامل ہے۔
سونووال نے کہا’’دریا کے راستے منتقل کیے جانے والے ہر ٹن کارگو کا مطلب ہے کم ایندھن کا استعمال اور شاہراہوں پر ٹرکوں کی کم تعداد۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت علاقائی آبی گزرگاہوں کے روابط کے سلسلے میں بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور میانمار کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
اس بحری سفر میں’ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا‘(آئی ڈبلیو اے آئی)‘،’آسام پیٹرو کیمیکلز‘، ’کوچن بنکرز پرائیویٹ لمیٹڈ‘اور بنگلہ دیش میں موجود شراکت دار شامل تھے۔
اس موقع پر آسام کے ریاستی وزراء چرن بورو، بمل بورو اور سشانتا بورگوہین کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا (ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا) کے رکن تیراش گووالا بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ خطے کے ریاستی قانون ساز بھی وہاں موجود تھے۔ جن میں ڈبروگڑھ ایل اے سی کے ایم ایل اے پرشانتا پھوکن اور کھووانگ ایل اے سی کے ایم ایل اے چکرادھر گوگوئی شامل تھے۔ آئی ڈبلیو اے آئی کے چیف انجینئر اے کے بنسل اور آسام پیٹرو کیمیکلزاے پی سی ایل کے چیئرمین بیکل چندر ڈیکا بھی اس تاریخی تقریب میں شریک ہوئے، جس میں اے پی سی ایل، آئی ڈبلیو اے آئی اور حکومتِ آسام کے عہدیداران بھی موجود تھے۔


***
ش ح۔م ح۔ع ۱۔
U-4648
(ریلیز آئی ڈی: 2319233)
وزیٹر کاؤنٹر : 11