کامرس اور صنعت کی وزارتہ
وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے امریکہ کے شہر ملواکی میں جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس کے اختتامی روز عالمی تجارت میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں کی اصلاح کے لیے عالمی تجارتی تنظیم کے ضوابط کے مطابق طریقۂ کار اپنانے پر زور دیا
جناب پیوش گوئل نے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا اور شواہد پر مبنی تجارتی اقدامات پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 OCT 2026 12:32PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے امریکہ کی ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس کے اختتامی روز شرکت کی۔ انہوں نے ساختی اضافی پیداواری صلاحیت اور پیداوار، سب سے زیادہ ترجیح یافتہ قوم کے اصول کو جدید بنانے، عالمی رسدی سلسلوں میں جبری مشقت کے خاتمے اور اختتامی اجلاس سے متعلق مختلف نشستوں میں اظہارِ خیال کیا۔
ساختی اضافی پیداواری صلاحیت اور پیداوار کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے، جہاں 1.4 ارب لوگوں کی ضروریات پوری کرنے والی معیشت اندرونی طلب سے تقویت پاتی ہے۔ ہندوستان عالمی رسدی سلسلوں میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ڈیزائن سے لے کر تیار مصنوعات تک مینوفیکچرنگ کی قدر افزا کڑیوں کی تعمیر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پیداواری صلاحیت اس کی ملکی اور عالمی ضروریات پوری کرتی ہے اور جی 20 کی صدارت کی جانب سے نشان زد کیے گئے شعبوں میں ہندوستان کو ساختی اضافی پیداواری صلاحیت کا سامنا نہیں ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان سمیت متعدد رکن ممالک کو یہ تشویش لاحق ہے کہ بعض معیشتوں میں تجارت کو متاثر کرنے والی معاونت ڈمپنگ اور مسابقتی قیمتوں کو غیر منصفانہ طور پر کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تشویشوں سے نمٹنے کے لیے عالمی تجارتی تنظیم کے ضوابط سے ہم آہنگ اقدامات کیے جاتے ہیں، جن میں انسدادِ ڈمپنگ محصولات اور انسدادِ زرِ اعانت محصولات شامل ہیں۔ یہ اقدامات شواہد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور عدالتی نظرِ ثانی کے تابع ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ صنعتی پیداواری صلاحیت بذاتِ خود مسئلہ نہیں ہے، البتہ وہاں تجارتی بے قاعدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جہاں پوشیدہ زرِ اعانت اور معاونت کے نتیجے میں پیداوار کسی مخصوص جغرافیائی خطے میں مرتکز ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار اور رسدی سلسلوں میں تنوع پیدا کرنا ایک جائز مقصد ہے، لیکن اسے عالمی تجارتی تنظیم کے ضوابط سے باہر اقدامات کے لیے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے ذریعے ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ ترقی پذیر ممالک پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو صنعتی ترقی کے لیے اپنی پالیسی سازی کی گنجائش برقرار رکھنی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اعداد و شمار اور معلومات کا تبادلہ موجودہ طریقۂ کار کے دائرے میں ہی ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ ترجیح یافتہ قوم کے اصول کو جدید بنانے کے موضوع پر جناب گوئل نے کہا کہ جی 20 کے رکن ممالک کے ساتھ ہندوستان کی تجارت ایک شفاف، غیر امتیازی اور ضابطوں پر مبنی تجارتی نظام پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ترجیح یافتہ قوم کا سلوک اس نظام کی ایک اہم ضمانت ہے، جس کے تحت سب سے چھوٹے تاجر اور سب سے بڑے تاجر، دونوں پر یکساں شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی تجارتی تنظیم میں اتفاقِ رائے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور خصوصی و امتیازی سلوک کی سہولت برقرار رہنی چاہیے، تاکہ ترقی پذیر ممالک ترقی یافتہ معیشتوں کے برابر آنے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے دو سطحی تنازعات کے تصفیے کے نظام کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔
عالمی رسدی سلسلوں میں جبری مشقت کے خاتمے کے موضوع پر جناب گوئل نے کہا کہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے ہندوستان کا عزم قطعی اور غیر مشروط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ 23 جبری مشقت کو بنیادی حق کے طور پر ممنوع قرار دیتی ہے اور سپریم کورٹ کے ذریعے اس کا نفاذ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بین الاقوامی محنت تنظیم کے کنونشن نمبر 29 اور 105 کی توثیق کی ہے اور جولائی 2026 میں اپنی خارجہ تجارتی پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ سرحد پر کیے جانے والے اقدامات پورے ممالک، خطوں یا شعبوں کے بارے میں قیاس آرائیوں کے بجائے مخصوص اور قابلِ تصدیق شواہد پر مبنی ہونے چاہئیں اور ان میں قانونی ضابطۂ کار اور عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کے معیارات کے لیے بین الاقوامی محنت تنظیم ہی مجاز، عالمگیر اور سہ فریقی ادارہ ہے۔ ہندوستان جبری مشقت کے خاتمے کے مقصد اور جی 20 کے رکن ممالک کے درمیان رضاکارانہ طور پر بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی حمایت کرتا ہے، بشرطیکہ اس تعاون میں رکن ممالک کی نگرانی شامل نہ ہو، نئی ذمہ داریاں عائد نہ ہوں اور حاصل کردہ معلومات کو یک طرفہ تجارتی کارروائی کی بنیاد نہ بنایا جائے۔
جناب گوئل نے سفیر گریئر اور امریکہ کی جی 20 صدارت کا ملواکی میں کیے گئے انتظامات اور مہمان نوازی کے لیے شکریہ ادا کیا۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس قول کو یاد کرتے ہوئے کہ جن معاملات کو مل کر حل نہیں کیا جا سکتا، انہیں ان معاملات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے جنہیں مل کر حل کیا جا سکتا ہے، جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان نے اسی جذبے کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی اور تمام چاروں موضوعات پر اپنی تشویشات پیش کرنے کے ساتھ تعمیری تجاویز بھی دیں۔
وزیر نے عالمی تجارتی تنظیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے والے ایسے تجارتی نظام کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا جو قواعد پر مبنی، منصفانہ، مساوی، غیر امتیازی، شفاف، کھلا، جامع اور کثیر فریقی ہو۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی ترقی اور اپنے عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پالیسی سازی کی گنجائش برقرار رکھی جائے، جبکہ فیصلہ سازی میں اتفاقِ رائے کے اصول کو بھی برقرار رکھا جائے۔ جناب گوئل نے 2027 میں جی 20 کی صدارت سنبھالنے پر برطانیہ کو ہندوستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
اجلاس کے موقع پر جناب گوئل نے آسٹریلیا کے وزیرِ تجارت و سیاحت، سعودی عرب کے وزیرِ تجارت، فرانس کے خارجہ تجارت اور اقتصادی کشش کے امور کے وزیرِ مملکت، جمہوریہ کوریا کے وزیرِ تجارت اور کینیڈا کے وزیرِ بین الاقوامی تجارت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔


***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4512
(ریلیز آئی ڈی: 2318116)
وزیٹر کاؤنٹر : 11