ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
کابینہ نے ربیع فصلوں کے مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں (ایم ایس پی) کی منظوری دی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 SEP 2026 3:06PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی (سی سی ای اے) نے مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے تمام مقررہ ربیع فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتوں (ایم ایس پی) میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
حکومت نے مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے ربیع فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتوں (ایم ایس پی) میں اضافہ کیا ہے، تاکہ کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ مل سکے۔ ایم ایس پی میں سب سے زیادہ 675 روپے فی کوئنٹل کا اضافہ کسم کے لیے کیا گیا ہے، جس کے بعد رائی اور سرسوں کی قیمت میں 413 روپے فی کوئنٹل کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مسور دال کے لیے 390 روپے فی کوئنٹل، جو کے لیے 136 روپے فی کوئنٹل، چنے کے لیے 83 روپے فی کوئنٹل اور گیہوں کے لیے 25 روپے فی کوئنٹل کا اضافہ کیا گیا ہے۔
مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے تمام ربیع فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتیں
(روپے فی کوئنٹل)
|
نمبر شمار
|
فصلیں
|
ایم ایس پی آر ایس ایم 2027-28
|
پیداوار آر ایم ایس کی لاگت*
2027-28
|
لاگت سے زیادہ مارجن
(فیصد میں)
|
ایم ایس پی آر ایم ایس 2026-27
|
ایم ایس پی میں اضافہ
(مطلق)
|
|
1
|
گندم
|
2610
|
1264
|
106
|
2585
|
25
|
|
2
|
جَو
|
2286
|
1447
|
58
|
2150
|
136
|
|
3
|
چنا
|
5958
|
3751
|
59
|
5875
|
83
|
|
4
|
دال (مسور)
|
7390
|
3854
|
92
|
7000
|
390
|
|
5
|
ریپسیڈ اور سرسوں
|
6613
|
3367
|
96
|
6200
|
413
|
|
6
|
کسم
|
7215
|
4810
|
50
|
6540
|
675
|
اس سے ایسی لاگت مراد ہے جس میں تمام ادا شدہ اخراجات شامل ہیں، جیسے اجرت پر رکھے گئے مزدور، بیلوں سے کرایا گیا کام یا مشینی مزدوری، لیز پر لی گئی زمین کا ادا کیا گیا کرایہ، بیج، کھاد، نامیاتی کھاد اور آبپاشی جیسے زرعی مادی وسائل کے استعمال پر ہونے والے اخراجات، زرعی آلات اور کھیت کی عمارتوں کی قدر میں کمی، کاروباری سرمائے پر سود، پمپ سیٹ چلانے کے لیے ڈیزل یا بجلی وغیرہ کے اخراجات، متفرق اخراجات اور خاندانی مزدوری کی تخمینی قدر شامل ہیں۔
مارکیٹنگ سیزن 2027-28 کے لیے مقررہ ربیع فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں کیا گیا اضافہ مرکزی بجٹ 2018-19 میں کیے گئے اس اعلان کے مطابق ہے، جس کے تحت ایم ایس پی کو ملک بھر میں پیداوار کی اوسط وزنی لاگت سے کم از کم 1.5 گنا کی سطح پر مقرر کیا جانا ہے۔ ملک بھر میں پیداوار کی اوسط وزنی لاگت کے مقابلے میں متوقع منافع گیہوں کے لیے 106 فیصد، اس کے بعد رائی اور سرسوں کے لیے 96 فیصد، مسور کے لیے 92 فیصد، چنے کے لیے 59 فیصد، جو کے لیے 58 فیصد اور کسم کے لیے 50 فیصد ہے۔ ربیع فصلوں کی ایم ایس پی میں اس اضافے سے کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ یقینی ہوگا اور فصلوں میں تنوع کو فروغ ملے گا۔
حالیہ برسوں میں حکومت اناج کے علاوہ دیگر فصلوں، مثلاً دالوں اور تلہن کی کاشت کو فروغ دے رہی ہے اور ان فصلوں کے لیے زیادہ ایم ایس پی مقرر کر رہی ہے۔
سال 2014-15 سے 2025-26 کے دوران گیہوں کی خریداری بڑھ کر 3715 ایل ایم ٹی ہوگئی ہے، جبکہ 2004-05 سے 2013-14 کے دوران یہ 2254 ایل ایم ٹی تھی۔ اسی طرح 2014-15 سے 2025-26 کے دوران 6 ربیع فصلوں کی خریداری بڑھ کر 3921 ایل ایم ٹی ہوگئی، جبکہ 2004-05 سے 2013-14 کے دوران یہ 2302 ایل ایم ٹی تھی۔
سال 2014-15 سے 2025-26 کے دوران گیہوں کی پیداوار کرنے والے کسانوں کو ایم ایس پی کے تحت ادا کی گئی رقم بڑھ کر 7.31 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی، جبکہ 2004-05 سے 2013-14 کے دوران یہ 2.56 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح 2014-15 سے 2025-26 کے دوران 6 ربیع فصلوں کی پیداوار کرنے والے کسانوں کو ایم ایس پی کے تحت ادا کی گئی رقم بڑھ کر 8.36 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی، جبکہ 2004-05 سے 2013-14 کے دوران یہ 2.65 لاکھ کروڑ روپے تھی۔
******
ش ح۔ک ح۔ت ع
U. No. 4355
(ریلیز آئی ڈی: 2317016)
وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں:
Tamil
,
Telugu
,
Malayalam
,
Kannada
,
Bengali
,
Assamese
,
Bengali-TR
,
Odia
,
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Punjabi
,
Gujarati