زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوستان کو عالمی غذائی مرکز بنانے کے لیے ’ٹیم ایگریکلچر‘ پر زور دیا
مرکز اور ریاستیں سیاست سے بالاتر ہو کر کسانوں کو اولین ترجیح دیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
تجارتی مواقع میں اضافے سے ہندوستان کی زرعی پیداوار کو عالمی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی: جناب شیوراج سنگھ چوہان
قومی زرعی کانفرنس میں 10 ریاستوں کے لیے پی ایم-آر کے وی وائی کے تحت 1200 کروڑ روپے سے زائد کی امداد منظور
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل اور ملک گیر ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ شروع کرنے کا اعلان کیا
قدرتی کاشت کاری، مربوط زراعت اور فصلوں میں تنوع پائیدار زرعی شعبے کے لیے کلیدی حیثیت کے حامل ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 SEP 2026 2:15PM by PIB Delhi
قومی زرعی کانفرنس — ربیع مہم 2026 کے دوسرے روز زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مختلف ریاستوں کے وزرائے زراعت اور اعلیٰ افسران کی شرکت والے اجلاس کی صدارت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں مرکز اور ریاستوں کو پارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر ’ٹیم ایگریکلچر‘ کے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے، تاکہ ملک کی غذائی سلامتی یقینی بنائی جاسکے اور کسانوں کے معیار زندگی میں بہتری لائی جاسکے۔ انہوں نے کہا، ’’حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں،پارٹیاں بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں، لیکن ملک اور اس کے کسان ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پلیٹ فارم سیاست کے لیے نہیں بلکہ زراعت کو بہتر بنانے اور کسانوں کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے عملی راستے تلاش کرنے کے مقصد سے ہے۔جناب چوہان نے یہ بھی اجاگر کیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہر بڑے پالیسی فیصلے اور بین الاقوامی معاہدے میں کسانوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ کانفرنس کے دوران جناب چوہان نے وزیر اعظم راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم-آر کے وی وائی) کے تحت 10 ریاستوں کے وزرائے زراعت کو 1200 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مالی منظوری کے خطوط بھی حوالے کیے۔ کانفرنس میں مرکزی وزرائے مملکت برائے زراعت و کسان بہبود جناب رام ناتھ ٹھاکر اور جناب بھاگیرتھ چودھری، سکریٹری زراعت جناب اتیش چندر، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ کے علاوہ مرکز اور ریاستوں کے اعلیٰ افسران، سائنس دان اور مختلف زرعی اداروں کے نمائندے موجود تھے۔

پی ایم-آر کے وی وائی کے تحت 10 ریاستوں کے لیے 1200 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری
پی ایم-آر کے وی وائی کے تحت 10 ریاستوں کو مالی منظوری کے خطوط تقسیم کیے گئے، جن میں مغربی بنگال کے لیے 290 کروڑ روپے، ہریانہ کے لیے 198 کروڑ روپے، چھتیس گڑھ کے لیے 181 کروڑ روپے، اروناچل پردیش کے لیے 154 کروڑ روپے، بہار کے لیے 114 کروڑ روپے، کرناٹک کے لیے 104 کروڑ روپے، میزورم کے لیے 75 کروڑ روپے، ہماچل پردیش کے لیے 64 کروڑ روپے، جھارکھنڈ کے لیے 58 کروڑ روپے اور پنجاب کے لیے 43 کروڑ روپے شامل ہیں۔
جناب چوہان نے کہا کہ مرکزی حکومت محض پالیسی سازی تک محدود نہیں ہے بلکہ ریاستوں کو بروقت وسائل کی دستیابی بھی یقینی بنا رہی ہے، تاکہ اسکیموں پر زمینی سطح پر بلا تاخیر عمل درآمد شروع کیا جاسکے۔

زرعی ترقی کی شرح بڑھ کر 4.5 فیصد ہوئی
ملک کی زرعی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ 2015 سے اب تک زرعی ترقی کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 4.5 فیصد ہوگئی ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار میں سالانہ اوسط اضافہ بھی دوگنا سے زیادہ ہوا ہے اور پہلے تقریباً 40 لاکھ ٹن کے مقابلے میں اب ہر سال 84 لاکھ ٹن کا اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صرف دو برسوں، یعنی 2023-24 سے 2025-26 کے دوران ربیع غذائی اجناس کی پیداوار میں 205 لاکھ ٹن کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے اس تاریخی ترقی کا سہرا ریاستی محکمہ زراعت، سائنس دانوں اور کسانوں کی اجتماعی کوششوں کو دیا۔
باہمی تعاون پر مبنی وفاقی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستوں کے ساتھ ماہانہ آن لائن جائزہ اجلاس

مرکز اور ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی وفاقی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ مرکز میں ہونے والے ہفتہ وار جائزوں کی طرز پر اب ریاستوں کے ساتھ باقاعدگی سے ماہانہ آن لائن جائزہ اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے، تاکہ پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جاسکے۔ ریاستی سطح پر وزیر زراعت، سکریٹری زراعت، ریاستی زرعی جامعات، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے اداروں، کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے)، اے ٹی ایم اے، کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز)، ترقی پسند کسانوں، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ کرنے والوں، برآمد کنندگان اور حکومت ہند کے نوڈل افسران کو یکجا کرکے ایک مضبوط ریاستی زرعی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ ضلعی سطح پر کلکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (ڈی ڈی اے)، اے ٹی ایم اے، کے وی کے، آئی سی اے آر کے سائنس دانوں، بینکروں اور کسانوں کی شرکت سے ماہانہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
فصلوں کے موسم سے قبل زرعی رابطہ اجلاسوں کا سالانہ کیلنڈر

زرعی مہمات کی پیشگی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے جناب چوہان نے رابطہ اجلاسوں کا سالانہ کیلنڈر جاری کرنے کا اعلان کیا۔ خریف مہم کے لیے ہر سال 10 مئی کو ضلعی سطح اور 17 مئی کو ریاستی سطح کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ اسی طرح ربیع مہم کے لیے ہر سال 10 ستمبر کو ضلعی سطح اور 17 ستمبر کو ریاستی سطح کے اجلاس منعقد ہوں گے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ایک مقررہ تاریخ پر ایک روزہ خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں وزرائے زراعت، افسران اور زرعی سائنس دان بیک وقت شرکت کریں گے اور کسانوں سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
22 اکتوبر سے 30 نومبر تک ’کھیت بچاؤ ابھیان‘
مٹی کی صحت اور ماحول کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب چوہان نے اس سال 22 اکتوبر سے 30 نومبر تک ملک گیر ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ چلانے کی اپیل کی۔ سائنس دان اور تمام اہم متعلقہ فریق اس مہم میں فعال طور پر حصہ لیں گے۔ مٹی کی صحت سے متعلق کارڈز کی بنیاد پر اس مہم کے تحت کھادوں کے متوازن استعمال کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ مٹی کی زرخیزی اور مفید کیڑوں کا تحفظ ہوسکے۔ انہوں نے مشرقی ہندوستان کے دھان کی کٹائی کے بعد خالی رہنے والے علاقوں، بالخصوص جھارکھنڈ، بہار، اڈیشہ اور مغربی بنگال میں دالوں کی کاشت کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
ربیع کی تیاریوں میں مٹی کی نمی، پانی کی دستیابی اور فصلوں کے تحفظ پر توجہ
موجودہ ربیع موسم کی تیاریوں کے تحت جناب چوہان نے زور دیا کہ فصلوں اور بہتر بیجوں سے متعلق سفارشات مٹی میں نمی اور پانی کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ فصلوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں، کسان کریڈٹ کارڈز (کے سی سی) کے لیے اہل تمام کسانوں کو اس سہولت سے مستفید کیا جائے اور فصل بیمہ اسکیم کے تحت فصلوں کی کٹائی کے شفاف تجربات (سی سی ایز) کرائے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستی وزرا محکمہ جاتی اسکیموں پر عمل درآمد کا باقاعدگی سے ذاتی طور پر جائزہ لیں۔
غیر معیاری زرعی اشیا کے خلاف سخت کارروائی، زبردستی ٹیگ لگانے کا عمل ختم کرنے کی ہدایت
ملک میں بیجوں اور کھادوں کی وافر دستیابی کا ذکر کرتے ہوئے جناب چوہان نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ جعلی کھاد، غیر معیاری بیج اور ناقص کیڑے مار ادویات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ زبردستی ٹیگ لگانے کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ زراعت کو زیادہ پائیدار اور کسانوں کے لیے زیادہ منافع بخش بنانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ریاستوں سے کہا کہ مشن کی بنیاد پر قدرتی کاشت کاری، مربوط زرعی نظام اور فصلوں میں تنوع کو اپنایا جائے۔
کسانوں کو منافع بخش قیمت یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کثیر جہتی حکمت عملی
جناب چوہان نے کہا کہ حکومت کسانوں کو ان کی زرعی پیداوار کی مناسب اور منافع بخش قیمت دلانے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ اس حکمت عملی میں فصل کی کٹائی کے بعد کے انتظام، سائنسی طریقے سے گوداموں میں ذخیرہ کرنے اور زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تور، اڑد اور مسور کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر 100 فیصد یقینی سرکاری خرید کی جائے گی اور اس کے لیے 48 گھنٹے کے اندر ادائیگی کا انتظام کیا جائے گا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہندوستان بین الاقوامی آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) سے پیدا ہونے والے نئے منڈی کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھائے گا، تاکہ ہندوستانی زرعی مصنوعات، پھل، سبزیاں اور غذائی اجناس کو عالمی منڈیوں سے جوڑا جاسکے۔ ان کے مطابق اس سے کسانوں کو اپنی پیداوار کا بہتر معاوضہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور ہندوستان دنیا کے لیے ایک بڑے ’غذائی مرکز‘ کے طور پر ابھر سکے گا۔
******
ش ح ۔ ش ب ۔ م ا
UR No-4287
(ریلیز آئی ڈی: 2316487)
وزیٹر کاؤنٹر : 15