الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
سیمیکون انڈیا 2026: سلیکان سے سسٹمز تک، ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سفر کی عکاسی
نمائش میں صنعت، تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا، جہاں سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 SEP 2026 12:10PM by PIB Delhi
تین روز تک نئی دہلی کا یشوبھومی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں کی نمائش گاہ بنا رہا۔ چپ ڈیزائن اور جدید پیکیجنگ سے لے کر خام مال، آلات، مصنوعی ذہانت(اے آئی) اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ تک ایس ای ایم آئی سی او این -سیمکون انڈیا 2026 نے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کے مختلف شعبوں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا۔
نومبر کے 2026 کے 17 سے 19 تاریخ تک منعقد ہونے والے سیمکون انڈیا 2026کے پانچویں ایڈیشن کا موضوع ’’ سیمکون ٹو سسٹمز: بلڈنگ دی ایکو سسٹم‘‘تھا۔ اس تقریب میں عالمی سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم سے وابستہ صنعت کے قائدین، پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، ماہرین تعلیم اور اسٹارٹ اپس نے شرکت کی۔ 2026 کے ایڈیشن میں مختلف ممالک کی 600 سے زائد نمائش کنندہ کمپنیاں شریک ہوئیں۔ اس کے علاوہ اسٹارٹ اپ پویلین، ورک فورس ڈیولپمنٹ پویلین، مختلف ممالک اور ریاستوں کے پویلینز اور ایک ہیکاتھون بھی منعقد کیا گیا۔
نمائش نے اس بات کی جھلک پیش کی کہ ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر سفر کس طرح صرف چپ ڈیزائن تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک وسیع تر ایکو سسٹم کی جانب بڑھ رہا ہے، جس میں مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ، تحقیق، خام مال، ہنرمند افرادی قوت اور سسٹم لیول ایپلی کیشنز شامل ہیں۔
چپ ڈیزائن سے جدید کمپیوٹنگ تک
نمائش کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک مقامی سیمی کنڈکٹر اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کی وسیع رینج تھی۔
سی-ڈی ای سی-ڈیک نے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنے کام کی نمائش کی، جس میں اے یو ایم ایچ پی سی- اے آئی پروسیسر اور آر یو ڈی آر اے-رودرا-اے یو ایم کمپیوٹ نوڈشامل تھے۔ یہ کوششیں اس بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہندوستان نہ صرف چپ کی سطح پر بلکہ کمپیوٹنگ سسٹمز کے پورے شعبے میں مقامی صلاحیتیں تیار کرے۔
نمائش میں مقامی پروسیسر ڈیزائن کی جانب بڑھتی ہوئی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم میں مقامی اسٹارٹ اپس اور ادارے پروسیسر ٹیکنالوجیز، مخصوص ایپلی کیشنز کے لیے چپس اور مختلف شعبوں کے لیے سسٹم سلوشنز تیار کر رہے ہیں۔ ان شعبوں میں ٹیلی کمیونیکیشن، آٹوموٹیو ایپلی کیشنز، مصنوعی ذہانت اور نگرانی کے نظام شامل ہیں۔
روزمرہ استعمال کی ایپلی کیشنز کے لیے چپس
نمائش نے یہ بھی دکھایا کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کس طرح لیبارٹریوں اور ڈیزائن مراکز سے نکل کر روزمرہ استعمال کی مصنوعات کا حصہ بن سکتی ہیں۔
ہندوستانی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس نے اسمارٹ آلات، کنکٹی وٹی، نگرانی، صنعتی نظام، توانائی کے انتظام اور آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں کے لیے مختلف سلوشنز پیش کیے۔
ہندوستان کے چِپ ڈیزائن ایکو سسٹم میں نمایاں کمپنیوں میں’ ورویسیمی مائیکرو الیکٹرونکس بھی شامل ہے، جو موٹر کنٹرول، انرجی میٹرز اور ڈیٹا ایکوزیشن ایپلی کیشنز کے لیے سیمی کنڈکٹر سلوشنز تیار کر رہی ہے۔ اس کے کام میں گھریلو برقی آلات، الیکٹرک موبیلیٹی اور ڈرونز جیسی ایپلی کیشنز کے لیے چپس شامل ہیں۔
ایسی مخصوص ایپلی کیشنز کے لیے تیار کیے جانے والے سیمی کنڈکٹر مصنوعات اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں کہ ایک وسیع الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی تعمیر میں مقامی چِپ ڈیزائن کا کردار کتنا اہم ہے۔
آر آئی ایس سی -وی : مقامی پروسیسر صلاحیتوں کی تعمیر
سی ڈی اے سی- ڈیککا مقامی طور پر تیار کردہ آر آئی ایس سی – وی پروسیسر64 بٹ ہندوستان کی مقامی پروسیسر ڈیزائن اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز میں صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اوپن آر آئی ایس سی – وی آرکیٹیکچر پر مبنی یہ پروسیسر ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور ابھرتی ہوئی ڈجیٹل ایپلی کیشنز کو سپورٹ کرتا ہے۔ مقامی سلوشنز میں اس کا استعمال جدید پروسیسر ٹیکنالوجیز کی تیاری میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مہارت کو ظاہر کرتا ہے، جو نئی نسل کی کمپیوٹنگ، کنکٹی وٹی اور ڈجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے اہم ہیں۔
ان کور سیمی کنڈکٹر نے مقامی آر آئی ایس سی -وی پروسیسر آئی پیز اورایس او سی ڈیزائن آٹو میشن ٹولزکے شعبے میں اپنے کام کی نمائش کی۔
اس کے پورٹ فولیو میں مختلف سطح کی کمپیوٹنگ ضروریات کے لیے تیار کردہ پروسیسر پلیٹ فارم شامل ہیں، جن کی ایپلی کیشنز ایمبیڈڈ سسٹمز سے لے کر ایچ -اے آئی کے استعمال تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کور کا آئی پی پروسیسر متعدد صارفین کی چپس میں سلیکون کی سطح پر کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے اور 180این ایم سے 16این ایم تک کے مختلف ٹیکنالوجی نوڈز پر استعمال ہوا ہے۔
ایسی پروسیسر ٹیکنالوجیز کی ترقی وسیع تر سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ایکو سسٹم کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ہندوستانی کمپنیاں مقامی طور پر تیار کردہ انٹلیکچوئل پراپرٹی کی بنیاد پر مصنوعات تیار کر سکتی ہیں۔
اہیسا ٹیکنالوجی نے ایک مقامی انٹرنیٹ کنکٹی وٹی ڈیوائس تیار کی ہے جوایک جی بی پی ایس تک کی رفتار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز (آئی ایس پیز)ایک ہی آپٹیکل لائن ٹرمینل(او ایل ٹی) کے ذریعے تقریباً 64 گھروں کو کنیکٹ کر سکتے ہیں۔
یہ ڈیوائس’وہان‘نامی سافٹ ویئر پلیٹ فارم پر چلتی ہے، جو مکمل طور پر ہندوستان میں تیار کیا گیا ہے، جبکہ اسے سی-ڈی اے سی-ڈیک کے 64-بی ٹی پروسیسر آر آئی ایس سی –وی سے طاقت ملتی ہے۔ یہ سلوشن ہندوستان کی مقامی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور مکمل طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی اسٹیک کے ذریعے تیز رفتار براڈ بینڈ کنکٹی وٹی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔
اے آئی، ویژن اور اسمارٹ نگرانی
سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے درمیان بڑھتا ہوا امتزاج بھی اس نمائش کی ایک نمایاں خصوصیت تھا۔
ہندوستانی سیمی کنڈکٹر اسٹارٹ اپ ’نیتر سیمی‘نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیت رکھنے والےسسٹمز-آن-چپس(ایس او سی ایس) کے حوالے سے اپنے کام کی نمائش کی۔ یہ ٹیکنالوجیز محفوظ نگرانی، اسمارٹ سینسرز، روبوٹکس، ڈرونز اور نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کیلئے تیار کی جا رہی ہیں۔
کمپنی نے 12 نینو میٹر(این ایم) پروسیس نوڈ پر مقامی طور پر ڈیزائن کیا گیا سی سی ٹی وی نگرانی کے لیے اے آئی ایس او سی تیار کرکے اس کا ٹیپ آؤٹ مکمل کیا ہے۔ اس چپ میں اے آئی/ ایم ایل ایکسیلیریٹرز، ویژن پروسیسنگ اور ویڈیو انجنز کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجیز ان ایپلی کیشنز کے لیے تیار کی گئی ہیں جن میں ذہین بصری تجزیے( اینٹلی جنس ویژن) اور ایج پروسیسنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
نمائش نے یہ بھی واضح کیا کہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن میں ہونے والی پیش رفت کس طرح مشین ویژن، اسمارٹ انفراسٹرکچر، خودکار نظام (آٹو نومس سسٹمز) اور نگرانی جیسے شعبوں میں نئی ایپلی کیشنز کو ممکن بنا رہی ہے۔
ویلیو چین کے ہر مرحلہ میں سیمی کنڈکٹر جدت
یہ نمائش صرف چپس تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی تیاری اور مینوفیکچرنگ کے لیے درکار وسیع تر ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی بھی عکاسی کی۔
خام مال اور آلات سے لے کر ٹسٹنگ، پیکیجنگ اور سسٹم انٹیگریشن تک، نمائش میں پیش کیے گئے مختلف شعبوں نے سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے باہمی طور پر مربوط ہونے کو نمایاں کیا۔
یہ وسیع تر نقطۂ نظر سیمیکون 2.0 کا بنیادی حصہ ہے، جسے جولائی 2026 میں مرکزی کابینہ نے 1,27,500 کروڑ روپے کے مالی حجم کے ساتھ منظوری دی۔ یہ پروگرام سیمیکون 1.0 کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے اور چھ اہم اسٹریٹجک ستونوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے:ڈیزائن ،مشینیں اور خام مال،مزید سیمی کنڈکٹر فیبز،جدید پیکیجنگ،تحقیق و ترقی(ڈی اینڈ آر) اورہنرمند افرادی قوت کی ترقی۔
اسٹارٹ اَپس سے تحقیقی اداروں تک
اسٹارٹ -اپ پویلین نے ہندوستان میں ابھرتے ہوئے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ایکو سسٹم کی ایک اور جھلک پیش کی۔
حکومت کی ڈیزائن لنکڈ انسینٹیو(ڈی ایل آئی) اسکیم نے ویڈیو نگرانی، ڈرون کی شناخت، توانائی کے میٹرز، مائیکرو پروسیسرز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، براڈ بینڈ اور آئی و ٹی ایس او سیز سمیت مختلف شعبوں میں مقامی چِپ ڈیزائن کے منصوبوں کی معاونت کی ہے۔
چپس ٹو اسٹارٹ اپ(سی2ایس) پروگرام بھی طلبہ، محققین، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور اسٹارٹ اَپس میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کی صلاحیتیں پیدا کرنے میں معاونت کر رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ماہر چِپ ڈیزائنرز کی ایک بڑی افرادی قوت تیار کرنا اور ملک کی الیکٹرانک سسٹم ڈیزائنکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
ملک بھر کی 500 سے زائد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زیادہ انجینئرز، جن میں 400 تعلیمی ادارے اور 100 اسٹارٹ اَپس شامل ہیں، کو سی 2ایس پروگرام اور ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت چپ ان سینٹر میں شامل کیا جا چکا ہے۔
انہیں جدید چِپ ڈیزائن ٹولز، چِپ ڈیزائن اور فیبریکیشن سروسز کے ساتھ ساتھ خصوصی تربیت تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔
ان اداروں اور اسٹارٹ اپس نے مشترکہ طور پر 300 سے زائد چپ ڈیزائنز تیار کیے ہیں، جنہیں ہندوستان اور بیرون ملک فاؤنڈریز میں فیبریکیشن کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ان اداروں نے مجموعی طور پر چار کروڑ سے زیادہ گھنٹے چِپ ڈیزائن ٹولز کے استعمال کا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔
اس غیر معمولی پیمانے نے ’چپ ان سینٹر‘میں دنیا کے سب سے بڑے مرکزی نوعیت کے چپ ڈیزائن صارفین کے نیٹ ورک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پالیسی سے پیداوار تک
یہ نمائش ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم بنیادی پالیسی معاونت کے مرحلے سے آگے بڑھ کر مینوفیکچرنگ اور تجارتی پیداوار کی جانب گامزن تھا۔
’سیمیکون انڈیا پروگرام ‘کے تحت چھ ریاستوں میں 12 سیمی کنڈکٹر منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے وعدے شامل ہیں۔ ان میں سے تین تنصیبات میں تجارتی پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔
چنانچہ سیمیکون انڈیا 2026 میں توجہ صرف ان منصوبوں پر نہیں تھی جو ہندوستا ن مستقبل میں تعمیر کرنا چاہتا ہے، بلکہ ان صلاحیتوں پر بھی تھی جو پہلے ہی چِپ ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ترقی کر رہی ہیں۔
مکمل ایکو سسٹم کی تعمیر
’’سیلیکون ٹو سسٹمز: بلڈنگ دی ایکو سسٹم‘‘کا موضوع بھارت کے سیمی کنڈکٹر کے بڑھتے ہوئے عزائم اور ان کے بدلتے ہوئے دائرۂ کار کی عکاسی کرتا ہے۔سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم صرف انفرادی چپس کی تیاری تک محدود نہیں ہوتا۔ اس میں چپ ڈیزائنرز، سیمی کنڈکٹر فیبز، پیکیجنگ اور ٹسٹنگ کی سہولیات، آلات اور خام مال فراہم کرنے والے ادارے، تحقیقی ادارے، اسٹارٹ اَپس، سسٹم کمپنیاں اور ماہر افرادی قوت سب شامل ہوتے ہیں۔سیمیکون انڈیا 2026 نے ان تمام مختلف عناصر کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا اور سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے مختلف مراحل میں تشکیل پانے والے ایک ایکو سسٹم کی تصویر پیش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے مقامی جدت طرازی کو عالمی سیمی کنڈکٹر مواقع سے جوڑنے کی سمت بھی نمایاں کی۔پروسیسر ڈیزائن اور آر آئی ایس سی-V ٹیکنالوجیز سے لے کر اے آئی سے لیس ایس او سیز ، موٹر کنٹرول چپس، جدید کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ تک، نمائش نے ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سفر کے مختلف پہلوؤں اور مراحل کو اجاگر کیا۔
لہٰذا، یشو بھومی میں پیش کی جانے والی کہانی صرف ایک چِپ کی کہانی نہیں تھی۔ یہ اس پورے نظام کی کہانی تھی جو ایک چِپ کے گرد تشکیل پاتا ہے-یعنی سلیکون، سسٹمز، انسانی وسائل، تحقیق، مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں اور وہ شراکت داریاں جو ایک مکمل سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کی تعمیرکیلئے ضروری ہیں۔
*****
ش ح – ظ الف – م ذ
UR No. 3911
(ریلیز آئی ڈی: 2313510)
وزیٹر کاؤنٹر : 12