امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کا ہندی دیوس 2026 کے موقع پر پیغام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 SEP 2026 12:54PM by PIB Delhi
پیارے ہم وطنوں،
ہندی دیوس کے موقع پر آپ سب کو دلی مبارکباد!
ہمارا ملک لسانی تنوع اور مالا مال ثقافتی ورثے کی ایک منفرد سرزمین ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہماری مختلف زبانیں ہماری کمزوری ہیں، لیکن میرا ماننا ہے کہ اتنی زیادہ زبانوں کا ہونا ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہر زبان اپنے اندر ایک تاریخ، لوک روایات اور ایک منفرد طرز فکر لیے ہوئے ہے، جو ہماری نوجوان نسل کی اقدار اور ثقافتی ورثے کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لسانی تنوع ’ کثرت میں وحدت ‘ کے اس جذبے کو مضبوط کرتا ہے جو ہندوستان کی شناخت ہے۔ زبان صرف ابلاغ یا گفتگو کا ذریعہ ہی نہیں ، بلکہ یہ کسی معاشرے کی یادداشت اور اس کے وجودآئینہ ہے۔
اس لسانی تنوع کے درمیان ہندی نے ملک بھر میں مختلف طبقات اور برادریوں کے لوگوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے مکالمے، رابطے اور باہمی ہم آہنگی کی زبان کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندی کی ترقی اسی وقت حقیقی معنوں میں بامعنی ہو سکتی ہے، جب وہ تمام ہندوستانی زبانوں کے احترام، تحفظ اور فروغ کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے۔ ہندی کسی بھی زبان کی حریف نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی زبانوں کے درمیان قربت اور مکالمے کے جذبے کو فروغ دینے اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے میں ایک اہم رابطے کا ذریعہ ہے۔ اس حقیقت کی سب سے خوبصورت گواہی ہماری اپنی تاریخ میں ملتی ہے۔ سوامی دیانند سرسوتی جی کی مادری زبان گجراتی تھی، اس کے باوجود انہوں نے ’ستیار تھ پرکاش‘ ہندی میں تحریر کی۔ مہاتما گاندھی نے 1918 میں مدراس میں ’دکشن بھارت ہندی پرچار سبھا‘ قائم کی۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس بنگالی زبان بولتے تھے، اس کے باوجود انہوں نے آزاد ہند فوج میں رابطے کی زبان کے طور پر ہندی کو اپنایا اور قوم کو ’جے ہند‘ کا ولولہ انگیز نعرہ دیا۔ اس طرح مختلف لسانی پس منظر رکھنے والی شخصیات نے ہندی کو عوام کے درمیان رابطے کی زبان بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ ان عظیم شخصیات کی گراں قدر خدمات، جن کی مادری زبان کبھی ہندی نہیں تھی، آج بھی ہم سب کے لیے باعث تحریک ہیں۔
میری اپنی مادری زبان بھی گجراتی ہے، لیکن جب بھی میں ملک کے کسی بھی حصے کا سفر کرتا ہوں تو وہاں عام لوگوں سے براہ راست رابطہ قائم کرنے والی زبان ہندی ہی ہوتی ہے۔ اگر ہم ہندی کے سفر پر نظر ڈالیں تو اس میں ہمیں پورے ملک کے سفر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ آدی کال میں ودیاپتی کی پداولی اور پرتھوی راج راسو کی رزمیہ داستانوں سے لے کر بھکتی کال کے اس شاندار دور تک، جب تلسی داس جی نے بھگوان رام کی کہانی کو ہر گھر تک پہنچایا اور سورداس جی نے والدین کی ممتا کے جذبات کو آواز دی۔
آزادی کی تحریک کے دوران سوراج، سودیشی اور سو بھاشا کے نظریات نے قومی شعور میں نئی توانائی پیدا کی۔ ہمارے مجاہدین آزادی بھی یہ سمجھ چکے تھے کہ اپنی زبان اور اپنی شناخت پر فخر کے بغیر سوراج کا تصور ادھورا رہے گا۔ آزادی کے بعد ہندوستانی زبانیں ملک کی تعمیر، حکمرانی اور ترقی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ ہندی نے دیگر تمام ہندوستانی زبانوں کے ساتھ مل کر سماجی بیداری، قومی اتحاد اور آزادی کے پیغام کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی شاندار ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے آئین ساز اسمبلی نے 14 ستمبر 1949 کو ہندی کو ہندوستان کی مرکزی حکومت کی سرکاری زبان کے طور پر اختیار کیا۔ تاہم آزادی کے بعد ایک تضاد بھی سامنے آیا۔ اگرچہ ہمیں سیاسی آزادی حاصل ہوگئی، لیکن اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے وقار کی قدروں کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے لال قلعے سے قوم سے اپیل کی کہ وہ نوآبادیاتی ذہنیت سے خود کو آزاد کرے اور اس میں زبان کا کردار نہایت اہم ہے۔ راج پتھ کو کرتویہ پتھ میں تبدیل کرنا محض نام کی تبدیلی نہیں تھی۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے نوآبادیاتی اور سزا پر مبنی قوانین کی جگہ عوام پر مرکوز تین قوانین—بھارتیہ نیائے سنہتا، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم—کو نافذ کرنا بھی محض اصطلاحات کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ ہماری قومی خودداری اور اپنے تشخص پر فخر کی بحالی کی علامت ہے۔
آج قومی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کو تعلیم کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ انجینئرنگ اور طبی تعلیم ہندوستانی زبانوں میں فراہم کرائی جارہی ہے اور مسابقتی امتحانات بھی متعدد ہندوستانی زبانوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔
80ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نے لال قلعے سے وکست بھارت کی تعمیر کے لیے ’شکتی کی سپت دھارا‘ یعنی طاقت کی سات دھاراؤں کی اپیل کی۔ ان میں ساتویں دھارا ہندوستان کی نرم طاقت ہے۔ کسی بھی ملک کی نرم طاقت کو دنیا تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ اس کی زبان ہوتی ہے۔ یوگ، آیوروید، ادب، سنیما اور ہماری ثقافتی قوت یہ سب ہماری زبانوں کے ذریعے دنیا تک پہنچتے ہیں۔
ایک وقت یہ خدشہ تھا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں ہندوستانی زبانیں پیچھے رہ جائیں گی، لیکن مودی حکومت کے تحت ہندی سمیت تمام ہندوستانی زبانیں تکنیکی ترقی کے سنہرے دور سے گزر رہی ہیں۔
محکمہ سرکاری زبان کی طرف سے تیار کردہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ’بھارتی‘ٹول آج ہندوستانی زبانوں کے درمیان ابلاغ و مواصلات کو مزید آسان اور ہموار بنا رہا ہے۔ 8.27 لاکھ سے زیادہ الفاظ پراندارج پر مشتمل’ہندی شبد سندو‘ ایک ڈیجیٹل لغت ہے،جو علم کے تبادلے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہے۔ 2024 میں قائم کیا گیا ’انڈین لینگویج سیکشن‘ (ہندوستانی زبانوں کا شعبہ) ہندوستانی زبانوں میں انتظامی ابلاغ کو آسان بنا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت(اے آئی) اور ترجمے کی ٹیکنالوجیز نے زبان کی رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے۔ آج ہر ہندوستانی اپنی زبان میں سوچ سکتا ہے اور پوری دنیا سے رابطہ قائم کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مودی حکومت کے دور اقتدار میں سرکاری زبان پر پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹس کی چار نئی جلدیں محترم صدر جمہوریہ کو پیش کی ہیں۔
آخر میں میں نوجوانوں سے کچھ کہنا چاہوں گا۔ دنیا کی جتنی زبانیں سیکھ سکتے ہیں، ضرور سیکھیں، لیکن اپنی زبان کو کبھی نہ چھوڑیں۔ میں ملک بھر کے تمام والدین سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ اپنے بچوں سے اپنی مادری زبان میں بات چیت کو معمول بنائیں۔ اس سے بڑھ کر احساس کمتری اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ ’اگر میں اپنی زبان میں بات کروں گا تو مجھے کمتر سمجھا جائے گا۔‘
زبان ہی وہ ذریعہ ہے جو ہمیں اپنی ماں، اپنی مٹی، اپنی تاریخ اور اپنی ثقافت سے جوڑتی ہے۔ اس سال قومی گیت ’وندے ماترم‘ کی تخلیق کی 150ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے، یہ وہ گیت ہے جس نے زبان کو آزادی کی جدوجہد کا ہتھیار بنا یا۔
آئیے، اس موقع پر ہم عہد کریں کہ 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کے اپنے سفر میں ہندی اور تمام ہندوستانی زبانوں کو مضبوط اور مؤثر وسیلہ بنائیں گے۔
آپ سب کو ایک بار پھر راج بھاشا دیوس کی دلی مبارکباد۔ وندے ماترم!
*****
ش ح۔ م ع ن ۔ص ج
U.No.3406
(ریلیز آئی ڈی: 2310022)
وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں:
Kannada
,
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Manipuri
,
Assamese
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil