تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امداد باہمی کی وزارت نے حقیقی جمع کنندگان کے دعووں کے فوری تصفیے کی راہ ہموارکرتے ہوئے سی آر سی ایس-سہارا ریفنڈ پورٹل بحال کردیا


آدھار سے منسلک بینک کھاتوں کے ذریعے 41.56 لاکھ جمع کنندگان کو 9,267 کروڑ روپے واپس کیے گئے

سہارا جمع کنندگان کو رقم کی واپسی کا عمل محفوظ، شفاف، ڈیجیٹل، کاغذی کارروائی سے پاک اور تصدیق پر مبنی برقرار

امدادِ باہمی کی وزارت نے سہارا جمع کنندگان کے دعووں کی کارروائی دوبارہ شروع کردی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 SEP 2026 8:10PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’’سہکار سے سمردھی‘‘ کے وژن کے تحت اور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کی قیادت میں، امداد باہمی کی وزارت اور اس کے متعلقہ ادارے امدادی باہمی شعبے سے وابستہ ارکان کے مفادات کے تحفظ اور امداد باہمی کے شعبے پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ اسی عزم کے ایک حصے کے طور پر،  امداد باہمی سوسائٹیز کےمرکزی رجسٹرار (سی آر سی ایس)، سپریم کورٹ کے 29 مارچ 2023 کے حکم، رٹ پٹیشن نمبر 2022/191 کے مطابق ایک محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر آن لائن طریقہ کار کے ذریعے سہارا کے ان حقیقی اور اہل جمع کنندگان کو ان کی واجب الادا رقم کی ادائیگی میں مسلسل سہولت فراہم کر رہا ہے جو مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہیں۔اس پورے عمل کا مقصد مستحق جمع کنندگان کو ان کی جائز رقم محفوظ اور شفاف طریقے سے واپس فراہم کرنا ہے۔ اس کے لیے آن لائن نظام کے ذریعے درخواستوں کی جانچ، دستاویزات اور دعووں کی تصدیق اور رقم کی واپسی کے عمل کو مربوط انداز میں انجام دیا جا رہا ہے، تاکہ اہل جمع کنندگان کو رقم کی ادائیگی میں سہولت حاصل ہو اور پورے عمل میں شفافیت برقرار رہے۔

اب تک مجموعی طور پر 41,56,711 جمع کنندگان کو 9,267 کروڑ روپے کی رقم براہ راست ان کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں واپس کی جا چکی ہے۔ یہ رقم براہ راست مستحق جمع کنندگان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جا رہی ہے، جس سے رقم کی محفوظ اور براہ راست منتقلی کو یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے۔اس وقت تقریباً 20 لاکھ درخواستیں سی آر سی ایس-سہارا ریفنڈ پورٹل کے ذریعے کارروائی کے لیے زیر التوا ہیں۔ پورٹل کی بحالی کے بعد ان زیر التوا درخواستوں کی تصدیق اور رقم کی واپسی سے متعلق کارروائی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ اس طرح اہل درخواست گزاروں کے دعووں کی جانچ اور تصدیق کے بعد واجب الادا رقم کی واپسی کا عمل بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

نومبر 2025 میں سہارا امداد باہمی سوسائٹیز کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں، کیونکہ سہارا سوسائٹیز سے براہ راست متعلق نہ ہونے والے بعض معاملات کی وجہ سے ان کے احاطے سیل کر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ سوسائٹیز کو انتظامی اور عملی نوعیت کی متعدد مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان میں ہارڈویئر اور سالانہ دیکھ بھال کے معاہدوں (اے ایم سیز) سے متعلق واجب الادا رقوم، ضروری آئی ٹی بنیادی ڈھانچے اور لائسنسوں کی تجدید، انسانی وسائل سے متعلق مسائل اور دیگر انتظامی رکاوٹیں شامل تھیں۔ ان تمام عوامل کے مجموعی اثرات کے باعث جمع کنندگان کو رقم کی واپسی سے متعلق دعووں کی تصدیق اور ان پر کارروائی کے لیے درکار نظام متاثر ہوگئے۔امداد باہمی کی وزارت نے رقم کی واپسی کے طریقہ کار کو متاثر کرنے والی سہارا سوسائٹیز کی انتظامی، مالی، عملی اور ٹیکنالوجی سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ادارہ جاتی سطح پر مسلسل اقدامات اور متعلقہ فریقوں، بشمول حکومت اتر پردیش کے افسران اور حکام، کے ساتھ مؤثر رابطہ اور تال میل کے ذریعے سی آر سی ایس نے ضروری نظام، بنیادی ڈھانچے اور انتظامی امور سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے میں سہولت فراہم کی۔ اس کے نتیجے میں ریفنڈ پورٹل اور اس سے منسلک تصدیقی نظام کو بحال کرنا ممکن ہوا۔اس بحالی کے ساتھ سہارا گروپ کی امدادی باہمی سوسائٹیز کے حقیقی جمع کنندگان کو ان کی جائز اور واجب الادا رقوم کی واپسی سے متعلق درخواستوں پر کارروائی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ ان سوسائٹیز میں سہارا کریڈٹ کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ، لکھنؤ، سہاریان یونیورسل ملٹی پرپز سوسائٹی لمیٹڈ، بھوپال؛ ہمارا انڈیا کریڈٹ کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ، کولکاتا اور اسٹارز ملٹی پرپز کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ حیدرآباد شامل ہیں۔

رقم کی واپسی کا پورا عمل مرکزی رجسٹرار برائے امداد باہمی سوسائٹیز (سی آر سی ایس) کی جانب سے سی آر سی ایس-سہارا ریفنڈ پورٹل کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، جس سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پورا طریقہ کار شفاف، ڈیجیٹل، کاغذی کارروائی سے پاک اور تصدیق پر مبنی رہے۔ حکومت کی جانب سے 18 جولائی 2023 کو شروع کیا گیا یہ مخصوص آن لائن پورٹل جمع کنندگان کو کسی بھی طرح کی کاغذی کارروائی کے بغیر رقم کی واپسی کے لیے درخواست جمع کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے یہ عمل آسان اور قابل رسائی ہونے کے ساتھ ساتھ ہر مرحلے کا واضح ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

دعووں پر آدھار کے ذریعے الیکٹرانک شناخت کی تصدیق اور متعلقہ سوسائٹیز کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے ساتھ جمع کنندگان، رکنیت اور کھاتے کی تفصیلات کا باہمی ملاپ کرکے کارروائی کی جاتی ہے۔ جمع رقم کے سرٹیفکیٹس یا رسیدوں اور دیگر مقررہ دستاویزات کی جانچ اس معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) کے مطابق کی جاتی ہے، جسے سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم نگرانی کے طریقہ کار کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ کامیاب تصدیق کے بعد اہل رقم براہ راست جمع کنندہ کے آدھار سے منسلک بینک کھاتے میں جمع کی جاتی ہے۔

امداد باہمی کی وزارت اور سی آر سی ایس نے مطلوبہ آئی ٹی بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے، ضروری نظام اور لائسنسوں کی تجدید، عملی رکاوٹوں کو دور کرنے اور ان انسانی وسائل اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے مربوط اقدامات کیے ہیں، جن کی وجہ سے دعووں پر کارروائی متاثر ہوئی تھی۔ پورٹل کی بحالی وزارت کے عوام مرکوز نقطہ نظر اور حقیقی جمع کنندگان کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زیر التوا درخواستوں کی تصدیق اور ان پر کارروائی کو آسان اور بلاتعطل بنانے کے لیے سی آر سی ایس کی مسلسل ادارہ جاتی ذمہ داری کی عکاسی کرتی ہے۔

جمع کنندگان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ نئی درخواست جمع کرنے کے لیے صرف سرکاری سی آر سی ایس-سہارا ریفنڈ پورٹل کا استعمال کریں اور جمع کرائے گئے دعووں میں موجود غلطیوں کی اصلاح کے لیے، جب بھی اس حوالے سے اطلاع دی جائے، ری سبمیشن پورٹل استعمال کریں۔ دعوے جمع کرتے یا دوبارہ جمع کرتے وقت مقررہ طریقہ کار اور مطلوبہ دستاویزات سے متعلق شرائط کی پابندی کی جائے۔ اس سے درخواستوں کی بروقت تصدیق میں مدد ملے گی اور درخواست گزاروں کو غیر مجاز ذرائع یا گمراہ کن دعووں سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

سرکاری سی آر سی ایس-سہارا ریفنڈ پورٹل: https://mocrefund.crcs.gov.in

دعووں میں غلطیوں کی اصلاح کے لیے ری سبمیشن پورٹل: https://mocresubmit.crcs.gov.in

*****

ش ح۔ ت ف  ۔ ص ج

U. No-3210


(ریلیز آئی ڈی: 2308392) وزیٹر کاؤنٹر : 4