وزیراعظم کا دفتر
وزیرِ اعظم نے قومی اساتذہ ایوارڈ کے فاتحین سے ملاقات کی
قومی اساتذہ ایوارڈز کے لیے 82 اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کا انتخاب
وزیرِ اعظم نے اساتذہ سے کہا کہ کم عمر طلبہ میں منشیات کی لت کے مسئلے کے حوالے سے چوکس رہیں اور انہیں اس سے نجات دلانے میں مدد کریں
وزیرِ اعظم نے بچوں کے ضرورت سے زیادہ اسکرین کے استعمال کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کھیلوں، جسمانی سرگرمیوں اور تخلیقی مشاغل کو فروغ دینے پر زور دیا
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اساتذہ سے کہا کہ وہ بچوں کے بچپن کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کے فطری تجسس کی پرورش کریں
اساتذہ نے جماعت میں تدریس کو زیادہ دلچسپ، مؤثر اور بامقصد بنانے کے لیے اختیار کیے گئے تخلیقی طریقوں کا ذکر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 SEP 2026 10:39AM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے کل لوک کلیان مارگ واقع اپنی رہائش گاہ پر قومی اساتذہ ایوارڈز کے فاتحین سے ملاقات کی اور ان سے تبادلۂ خیال کیا۔
اس سال تین محکموں سے مجموعی طور پر 82 اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کو قومی اساتذہ ایوارڈز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کے 48 اساتذہ، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پولی ٹیکنک اداروں کے 21 اساتذہ و تدریسی ارکان اور وزارتِ ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کے 13 ہنرمندی تربیت کار شامل ہیں۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے اپنے تدریسی سفر کو تشکیل دینے والے تجربات اور اختراعات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جماعت میں تعلیم و تدریس کو زیادہ دلچسپ اور مؤثر بنانے کے لیے اختیار کیے گئے متعدد تخلیقی طریقوں کا بھی ذکر کیا۔
جناب وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ اساتذہ کو صرف بچوں کی تعلیمی کارکردگی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کے رویے اور روزمرہ زندگی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ روایتی مشترکہ خاندانی نظام میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں کی زندگی میں اساتذہ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ منشیات کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ بچوں کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے چوکس رہیں، اس کی وجہ معلوم کریں اور ایسے بچوں کو منشیات کی عادت سے نجات دلانے میں مدد کریں۔
جناب وزیرِ اعظم نے کہا کہ بچوں کے معصوم بچپن کو محفوظ رکھنا ایک اہم کردار ہے جو ایک استاد ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بچوں کی بنیادی فطرت اور تجسس یکساں ہوتا ہے اور اگر اساتذہ اس تجسس کی پرورش کریں اور اسے مناسب سمت عطا کریں تو وہ بچوں کی نشوونما میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسکرین پر گزارے جانے والے وقت کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ والدین سے بات کریں کہ ان کے بچے اسکرین پر کتنا وقت گزارتے ہیں اور کیا وہ رات گئے تک موبائل فون استعمال کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ بچوں میں کھیلوں، جسمانی سرگرمیوں اور تخلیقی مشاغل میں دلچسپی پیدا کرکے انہیں بتدریج اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔
جناب وزیرِ اعظم نے قومی تعلیمی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے بچوں کو کلاس سے باہر لے جانے اور انہیں حقیقی دنیا کی مہارتوں اور مختلف پیشہ ورانہ کاموں سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اساتذہ سے یہ بھی کہا کہ وہ بچوں کو صرف نصاب کا علم فراہم کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان میں محنت اور مشقت کے احترام جیسی اقدار بھی پروان چڑھانے میں مدد کریں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-3049
(ریلیز آئی ڈی: 2306890)
وزیٹر کاؤنٹر : 13