امور داخلہ کی وزارت
ہمالیائی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جی ایل او ایف اور برفانی تودوں سے نمٹنے کی تیاریوں کا مرکزی حکومت کے داخلہ کےسکریٹری نے جائزہ لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 SEP 2026 2:17PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت کے وزارت داخلہ کے سکریٹری جناب گووند موہن نے آج نئی دہلی میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہمالیائی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پانی کے اچانک خارج ہونے سے آنے والے سیلاب(جی ایل او ایف) اور برفانی تودے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، سکم، اروناچل پردیش اور جموں و کشمیر کے چیف سکریٹریوں اور ریاستی قدرتی خطرات سے نمٹنے والی اتھارٹی کے نمائندوں کے علاوہ وزارت داخلہ، قدرتی آفات سے نمٹنے والی قومی اتھارٹی(این ڈی ایم اے)، مرکزی آبی کمیشن(سی ڈبلیو سی)، بھارتی محکمہ موسمیات(آئی ایم ڈی) اور ڈیفنس جیو انفارمیٹکس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ(ڈی جی آر ای) کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ہمالیائی خطے میں گلیشیائی جھیلوں کے پانی کے اچانک خارج ہونے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف) کے بدلتے ہوئے خطرات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بالخصوص قبل از وقت انتباہ، خطرے سے دوچار گلیشیائی جھیلوں اور برف سے ڈھکے علاقوں کی نگرانی، زیادہ خطرے والے مقامات کی نشاندہی، سیلابی پانی کے بہاؤ کے راستوں کا تعین، بروقت انتباہات کی ترسیل، انخلا کی تیاری اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے خطرے سے دوچار گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی، قبل از وقت انتباہی نظام کو مضبوط بنانے، انتباہات کو آخری پائیدان تک بروقت پہنچانے، سیلابی پانی کے بہاؤ کے راستوں کی منصوبہ بندی، مقامی آبادی کو ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے اور خطرے سے دوچار علاقوں میں امدادی وسائل کی تعیناتی سمیت اپنی متعلقہ تیاریوں اور خطرات کو کم کرنے کی حکمتِ عملی پیش کی۔ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو درپیش مخصوص خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے کی گئی تیاریوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ خطرات کو کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو ضلعی اور مقامی سطح پر ٹھوس عملی اقدامات کی شکل دی جائے۔
مرکزی حکومت کے وزارت داخلہ کے سکریٹری نے خطرے سے دوچار گلیشیائی جھیلوں اور برفانی تودے گرنے کے خدشے والے علاقوں کی مسلسل اور پیشگی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا، بالخصوص ایسے ادوار کے دوران جب خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ریاستی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور سائنسی و تکنیکی اداروں کے درمیان قریبی تال میل برقرار رکھیں، تاکہ جاری کیے جانے والے انتباہات پر فوری اور مؤثر کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
مرکزی حکومت کے وزارت داخلہ کے سکریٹری نے زور دیا کہ گلیشیائی جھیلوں کے پانی کے اچانک خارج ہونے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف) اور برفانی تودوں سے نمٹنے کی تیاریوں کو محض ہنگامی ردِعمل پر مبنی اقدامات تک محدود رکھنے کے بجائے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی، پیشگی حفاظتی اقدامات اور مقامی آبادی کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے پر مرکوز کیا جانا چاہیے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی تیاری کے منصوبوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیں، قبل از وقت انتباہ اور انخلا کے انتظامات میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں اور کسی بھی شدید قدرتی آفت سے پہلے ضروری اصلاحی اقدامات کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستیں گلیشیائی جھیلوں کے پانی کے اچانک خارج ہونے سے آنے والے سیلاب کے خطرے کو کم کرنے سے متعلق ان منصوبوں پر عمل درآمد میں تیزی لائیں، جنہیں مرکزی حکومت نے 2024 میں ریاستوں کے لیے منظور کیا تھا۔
اجلاس کا اختتام اس ہدایت کے ساتھ ہوا کہ مختلف اداروں کے درمیان مسلسل تال میل برقرار رکھا جائے، خطرات سے متعلق معلومات باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ مشترک کیے جائیں اور خطرے سے دوچار ہمالیائی علاقوں میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے قبل از وقت انتباہ اور ہنگامی ردِعمل کے نظام کو مزیدمستحکم بنایا جائے۔
***
ش ح۔ت ف۔اش ق
U. No. 2980
(ریلیز آئی ڈی: 2306320)
وزیٹر کاؤنٹر : 10