وزارت خزانہ
وزیر اعظم جن دھن یوجنا نے بھارت میں مالی شمولیت کے منظرنامے کو تبدیل کرنے کے تعلق سے 12 سال مکمل کر لیے
پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت 59.09 کروڑ کھاتے کھولے گئے، جن میں 3.17 لاکھ کروڑ روپے جمع ہیں
56 فیصد کھاتہ دار خواتین ہیں، جبکہ 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں سے ہیں
ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالی تحفظ تک رسائی کو وسعت دیتے ہوئے 41 کروڑ سے زائد روپے کارڈ جاری کیے گئے
جن دھن، آدھار اور موبائل کی تثلیث (جے اے ایم) غریب اور پسماندہ افراد تک بہبود سے متعلق فوائد کی براہِ راست، شفاف اور و خردبرد سے پاک ادائیگی کو یقینی بناتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 12:13PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے 28 اگست 2014 کو ان کی حکومت کے ابتدائی پروگراموں میں سے ایک کے طور پر شروع کی گئی پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) نے 12 سال مکمل کر لیے ہیں۔ پی ایم جے ڈی وائی کے یہ 12 سال بھارت کے مالیاتی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کے گواہ رہے ہیں اور یہ اسکیم دنیا بھر میں مالی شمولیت کے لیے ایک مشعلِ راہ بن چکی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے مالی شمولیت کے پروگرام کے طور پر پی ایم جے ڈی وائی تمام بھارتی شہریوں کے لیے بینکاری خدمات تک رسائی کے تصور کو مسلسل نئی شکل دے رہی ہے۔

مالی شمولیت کو وسعت دینا:
وزارتِ خزانہ مضبوط مالی شمولیت کی اسکیموں اور عوامی رسائی کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ اور معاشی طور پر کمزور طبقات کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہر ایسے بالغ فرد کو بنیادی بینک کھاتے تک رسائی حاصل ہو جس کا ابھی تک کوئی بینک کھاتہ نہیں ہے۔ اس کھاتے میں کم از کم بیلنس رکھنے کی کوئی شرط نہیں ہے اور نہ ہی اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی فیس وصول کی جاتی ہے۔
ہر کھاتے کے ساتھ مفت رو پے ڈیبٹ کارڈ فراہم کیا جاتا ہے، جس کے تحت 2 لاکھ روپے تک کا حادثاتی بیمہ کور حاصل ہوتا ہے۔ اس سے ڈیجیٹل لین دین اور مالی تحفظ کو فروغ ملتا ہے۔ کھاتہ دار 10 ہزار روپے تک اوور ڈرافٹ کی سہولت کے بھی اہل ہیں، جو ہنگامی حالات میں مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
پی ایم جے ڈی وائی کھاتوں نے غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں افراد تک زندگی اور حادثاتی بیمے کی سہولت پہنچانے میں بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ یہ سہولت جن سُرکشا اسکیموں، یعنی پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا اور پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا کے ذریعے فراہم کی گئی ہے۔
اس موقع پر مرکزی وزیرِ مملکت برائے خزانہ جناب پنکج چودھری نے کہا، ’’28 اگست 2014 کو معزز وزیر اعظم نے مالی شمولیت کے قومی مشن کا افتتاح کیا تھا، جسے عام طور پر پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج مجھے خوشی ہے کہ پردھان منتری جن دھن یوجنا اپنی 12ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ ہمیں پی ایم جے ڈی وائی کو صرف 59 کروڑ سے زائد کھاتے کھولے جانے، 3.17 لاکھ کروڑ روپے کے جمع شدہ بیلنس یا 41.29 کروڑ مفت روپے کارڈ جاری کیے جانے کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے ملک کے بینکاری اور مالیاتی منظرنامے میں آنے والی اس تبدیلی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، جس کے ذریعے معاشرے کے بنیادی سطح کے فرد، یعنی انتہائی غریب افراد تک مالی خدمات کی بروقت فراہمی بغیر کسی تاخیر اور بیچولیوں کی مداخلت کے ممکن ہوئی ہے۔‘‘
’’پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت 78 فیصد کھاتے دیہی یا نیم شہری علاقوں میں کھولے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 56 فیصد کھاتے خواتین کے نام ہیں۔ یہ اس اسکیم کی اس ترجیح کو ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے محروم اور پسماندہ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کرنا تھا۔
پی ایم جے ڈی وائی نے لاکھوں افراد، خصوصاً پسماندہ طبقات کو بینکاری اور مالی خدمات تک رسائی فراہم کرکے ان کے سماجی و معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے بااختیار بنایا ہے۔ بینک کھاتوں کی ملکیت نے عام لوگوں کے لیے بیمہ اور پنشن کی سہولت حاصل کرنا ممکن بنایا ہے۔ ہر ریاست اور ضلع میں مسلسل بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی مہمات کے ذریعے ہم بینک کھاتوں کی تقریباً سبھی کے لیے یکساں سہولت کی جانب آگے بڑھے ہیں اور ان افراد تک بیمہ اور پنشن اسکیموں کی رسائی بھی بتدریج وسیع کی ہے جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
پی ایم جے ڈی وائی کی 12ویں سالگرہ کے موقع پر میں ملک بھر میں تعینات بینکروں اور بینکاری خدمات کے نمائندوں کی کوششوں کو سراہتا ہوں، جنہوں نے پی ایم جے ڈی وائی اسکیم کو عام لوگوں تک پہنچانے اور اسے شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘
جن دھن، آدھار اور موبائل کی تثلیث: یکسر تبدیلی کا عوامل:
جن دھن، آدھار اور موبائل (جے اے ایم) کی تثلیث، جو پردھان منتری جن دھن یوجنا میں مرکزی حیثیت کی حامل ہے، مالی امداد کی براہِ راست فراہمی کے لیے ایک خردبرد سے محفوظ مؤثر نظام ثابت ہوئی ہے۔ جے اے ایم کے ذریعے حکومت نے پسماندہ اور غریب طبقات کے بینک کھاتوں میں فلاحی فوائد براہِ راست منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس سے بیچولیوں اور تاخیر کا خاتمہ ہوا ہے۔
اہم سنگِ میل اورحصولیابیاں:
اے۔ پی ایم جے ڈی وائی کھاتے: 59.09 کروڑ (19 اگست 2026 تک)
19 اگست 2026 تک پی ایم جے ڈی وائی کھاتوں کی مجموعی تعداد 59.09 کروڑ ہو چکی ہے۔ جن دھن کھاتہ داروں میں 55.7 فیصد (32.92 کروڑ) خواتین ہیں، جبکہ 77.8 فیصد (45.95 کروڑ) جن دھن کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔
بی۔ پی ایم جے ڈی وائی کھاتوں میں جمع رقوم: 3.17 لاکھ کروڑ روپے (19 اگست 2026 تک)
پی ایم جے ڈی وائی کھاتوں میں جمع مجموعی رقم 3,16,514 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 12 برسوں (اگست 2015 سے اگست 2026) کے دوران جمع رقوم میں تقریباً 12.8 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ کھاتوں کی تعداد 2.3 گنا بڑھی ہے۔
سی۔ پی ایم جے ڈی وائی کے تحت فی کھاتہ اوسط جمع رقم: 5,356 روپے (19 اگست 2026 تک)
19 اگست 2026 تک فی کھاتہ اوسط جمع رقم 5,356 روپے ہے۔ گزشتہ 12 برسوں (اگست 2015 سے اگست 2026) کے دوران فی کھاتہ اوسط جمع رقم میں 3.4 گنا اضافہ ہوا ہے۔ اوسط جمع رقم میں یہ اضافہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کھاتوں کا استعمال بڑھا ہے اور کھاتہ داروں میں بچت کی عادت فروغ پا رہی ہے۔
ڈی۔ پی ایم جے ڈی وائی کھاتہ داروں کو جاری کیے گئے روپے کارڈ: 41.29 کروڑ (19 اگست 2026 تک)
پی ایم جے ڈی وائی کھاتہ داروں کو 41.29 کروڑ روپے کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ روپے کارڈز کی تعداد اور ان کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
پی ایم جے ڈی وائی کی کامیابی اس کے مشن کی طرز میں اختیار کیے گئے طریقۂ کار، ضابطہ جاتی تعاون، سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری اور آدھار جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے انضمام سے ممکن ہوئی ہے، جو بایومیٹرک تصدیق میں معاون ہے۔ یہ اسکیم اب بھی مالی شمولیت کی جانب پہلا قدم ہے، جبکہ ان افراد کو بچت اور قرض تک رسائی فراہم کرکے مزید پیش رفت کی جا رہی ہے جو اس سے قبل باقاعدہ مالیاتی نظام سے محروم تھے۔ بچت کے واضح رجحانات کے ساتھ اب کھاتہ دار قرض حاصل کرنے کے اہل بھی ہو رہے ہیں، جن میں مدرا قرضے بھی شامل ہیں۔ اس سے افراد کو اپنی آمدنی بڑھانے اور مالی استحکام پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
پی ایم جے ڈی وائی اپنے 13ویں سال میں داخل ہو رہی ہے اور جامع ترقی، ڈیجیٹل جدت اور معاشی با اختیاری کی علامت کے طور پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی مسلسل کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت مالی بہبود کی جانب اپنے سفر میں کسی بھی شہری کو پیچھے نہ چھوڑنے کے عزم پر پوری طرح قائم ہے۔
***
ش ح۔ ش ب۔ ش ا
U.NO. 2642
(ریلیز آئی ڈی: 2303671)
وزیٹر کاؤنٹر : 17
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
हिन्दी
,
Bengali-TR
,
Assamese
,
Bengali
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam