امور داخلہ کی وزارت
جنوبی زونل کونسل کے 31ویں اجلاس کی صدارت مرکزی وزیر داخلہ و وزیر امداد باہمی امت شاہ 20 اگست 2026 کو تمل ناڈو کے مہابلی پورم میں کریں گے
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کی بنیاد پر ملک کے لیے ’ٹیم بھارت‘ کا تصور پیش کیا ہے، اور زونل کونسلیں اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں
اس سوچ کے ساتھ کہ مضبوط ریاستیں ہی مضبوط ملک کی بنیاد بنتی ہیں، زونل کونسلیں دو یا اس سے زیادہ ریاستوں، یا مرکز اور ریاستوں سے متعلق مسائل پر بات چیت اور غور و خوض کے لیے ایک منظم طریقۂ کار اور اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں
وزیر اعظم مودی کی قیادت میں زونل کونسلوں کے اجلاس باہمی گفت و شنید کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بن گئے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
19 AUG 2026 2:35PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر امداد باہمی جناب امت شاہ 20 اگست 2026 کو تمل ناڈو کے مہابلی پورم میں جنوبی زونل کونسل (ایس زیڈ سی) کے 31ویں اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جنوبی زونل کونسل میں آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو اور تلنگانہ کی ریاستیں، جبکہ پڈوچیری، انڈمان و نکوبار جزائر اور لکشدیپ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں۔
ریاستوں کی تنظیم نو ایکٹ، 1956 کی دفعات 15 سے 22 کے تحت جنوبی زونل کونسل سمیت پانچ زونل کونسلیں قائم کی گئی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر امداد باہمی جناب امت شاہ جنوبی زونل کونسل کے چیئرمین ہیں، جبکہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جناب سی جوزف وجے نائب چیئرمین ہیں۔ رکن ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ باری باری کونسل کے نائب چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ 31ویں اجلاس کا انعقاد حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے بین ریاستی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت تمل ناڈو اس اجلاس کی میزبانی کرے گی۔ اجلاس میں جنوبی خطے کی رکن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے اعلیٰ، لیفٹیننٹ گورنر اور منتظمین کے علاوہ ہر ریاست کے دو سینئر وزرا شرکت کریں گے۔ ریاستی حکومتوں کے چیف سیکریٹریز، مشیران اور دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے سینئر افسران بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
زونل کونسل نے چیف سیکریٹریز کی سطح پر ایک قائمہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ ریاستوں کی جانب سے تجویز کردہ مسائل کو زونل کونسل کی قائمہ کمیٹی کے سامنے غور و خوض کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ کمیٹی میں غور و خوض کے بعد باقی رہ جانے والے مسائل کو زونل کونسل کے اجلاس میں غور و خوض اور فیصلے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کی بنیاد پر ملک کے لیے ’ٹیم بھارت‘ کا تصور پیش کیا ہے اور زونل کونسلیں اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ کونسلیں اس یقین کے ساتھ کام کرتی ہیں کہ مضبوط ریاستیں ہی مضبوط ملک کی تعمیر کرتی ہیں۔ یہ دو یا اس سے زیادہ ریاستوں، یا مرکز اور ریاستوں کو متاثر کرنے والے مسائل پر بات چیت اور غور و خوض کے لیے ایک منظم طریقۂ کار فراہم کرتی ہیں اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں زونل کونسلوں کے اجلاس باہمی گفت و شنید کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کرنے کے ایک مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
زونل کونسلوں کا کردار مشاورتی نوعیت کا ہے۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں کے دوران ان کونسلوں نے مختلف خطوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کے صحت مند رشتے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تمام ریاستی حکومتوں، مرکزی وزارتوں اور محکموں کے تعاون سے جون 2014 سے اب تک تقریباً 12 برسوں کے دوران مختلف زونل کونسلوں اور ان کی مستقل کمیٹیوں کے کل 69 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
زونل کونسلیں مرکز اور رکن ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان، رکن ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے باہمی اختلافات اور مسائل کے حل اور خطے میں ترقی کی رفتار کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔ ان کونسلوں میں قومی اہمیت کے وسیع تر مسائل پر بھی غور کیا جاتا ہے، جن میں خواتین اور بچوں کے ساتھ عصمت دری کے مقدمات کی فوری تفتیش اور جلد از جلد نمٹارے کے لیے فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کے نفاذ کے علاوہ تعلیم سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ علاقائی سطح پر مشترکہ مفاد کے مختلف مسائل بھی زیر بحث آتے ہیں، جن میں آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ سے متعلق معاملات، پانی کی تقسیم سے متعلق اہم منصوبوں کے مسائل، پردھان منتری آواس یوجنا (گرامین)، شہری ہوا بازی سے متعلق مسائل اور دیگر متعدد معاملات شامل ہیں۔
******
(ش ح ۔ ا ق ۔ت ا )
U. No. 2315
(रिलीज़ आईडी: 2301148)
आगंतुक पटल : 7