وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

پی ایس بی کنفلوئنس 2026 پبلک سیکٹر بینکوں اور پبلک فنانشل انسٹی ٹیوشنز کے لیے سات موضوعات پر مبنی قابلِ عمل حکمتِ عملیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی


مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے 2 اکتوبر 2026 سے شروع ہونے والی نوجوانوں کے لیے ایک ماہ کی مرکوز مہم کے لیے پبلک سیکٹر بینکوں (پی ایس بیز) سے اپیل کی

محترمہ نرملا سیتارمن نے بینکوں سے کہا کہ وہ نوجوان صارفین کے ساتھ پائیدار تعلق قائم کریں اور ان کی ابھرتی ہوئی مالی ضروریات کی حمایت کریں

نوجوانوں کو بینکنگ خدمات اور مالیاتی مواقع سے منسلک کرنے کے لیے ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا تصور کیا گیا ہے
پی ایس بیز اور پی ایف آئیز پر زور دیا گیا کہ وہ ادارہ جاتی قوت کو وِکست بھارت 2047 کی جانب بھارت کے سفر میں مزید مسابقت اور قیادت میں تبدیل کریں

प्रविष्टि तिथि: 18 AUG 2026 7:52PM by PIB Delhi

مالیاتی خدمات کے محکمے (ڈی ایف ایس)، وزارتِ خزانہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ پی ایس بی کنفلوئنس 2026، آج اختتام پذیر ہو گیا۔ اس کنفلوئنس میں پبلک سیکٹر بینکوں (پی ایس بیز) اور پبلک فنانشل انسٹی ٹیوشنز (پی ایف آئیز) کی قیادت، بھارت سرکار کے سینئر اہلکاران اور ڈومین ماہرین نے بینکنگ اور مالیاتی شعبے کی ترقی کے اگلے مرحلے سے متعلق سات موضوعات پر وسیع غور و خوض کیا۔

دوسرے دن، مباحث کا مرکز زراعت اور باغبانی کی ویلیو چین کے بنیادی ڈھانچے، ترجیحی شعبے کی قرضہ دہی، اور کریڈٹ کارڈ کے کاروبار کو از سر نو تشکیل دینے جیسے موضوعات رہے۔ اس کے بعد ڈی بریفنگ سیشنز منعقد ہوئے، جن میں موضوعاتی گروپس نے تمام سات موضوعات پر ہونے والی گفتگو سے اخذ کردہ قابلِ عمل حکمتِ عملیوں اور اختراعی حل پیش کیے۔

اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر برائے خزانہ اور کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتا رمن نے زور دیا کہ غور و خوض کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ انھوں نے پبلک سیکٹر بینکوں (PSBs) اور مالیاتی اداروں (PFIs) سے اپیل کی کہ وہ اپنی ادارہ جاتی قوت کو مزید مستحکم کریں، ابھرتے ہوئے مواقع کا پیشگی اندازہ لگائیں اور بھارت کی بدلتی ہوئی اقتصادی ضروریات کی تائید کے لیے اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیں۔

نوجوانوں کے لیے بینکنگ کے موضوع پر، وزیرِ خزانہ نے پبلک سیکٹر بینکوں (پی ایس بیز) سے اپیل کی کہ وہ 2 اکتوبر 2026 سے شروع ہونے والی 16 سال سے زائد عمر کے نوجوانوں کے لیے ایک ماہ کو محیط، مرکوز مہم کا آغاز کریں، جس کی ہم آہنگی انڈین بینکس ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کے ذریعے کی جائے، تاکہ رسمی مالیاتی نظام میں شامل ہونے والے نوجوان شہریوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان صارفین کے ساتھ پائیدار تعلقات قائم کرنا اور بینکوں کو ان کی تعلیمی، روزگار، انٹرپرینیورشپ، سرمایہ کاری اور دولت کی تخلیق کے مراحل میں ابھرتی ہوئی مالی ضروریات کی حمایت کرنے کے قابل بنانا ہے۔

اس اقدام کے تحت، نوجوانوں کے لیے ایک مشترکہ آن لائن پورٹل/ایپلیکیشن کا تصور کیا گیا ہے تاکہ بینکنگ خدمات اور تعلیم، ہنرمندی اور انٹرپرینیورشپ سے متعلق مواقع کے بارے میں سادہ اور متعلقہ معلومات تک رسائی کے لیے ایک واحد پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔ اس پہل کو کالجوں، یونیورسٹیوں، ہنرمندی کے اداروں اور دیگر کیمپسوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں پر مرکوز سرگرمیوں کے مراکز کے ذریعے عملی رسائی سے تقویت ملے گی۔

وزیرِ خزانہ نے ترجیحی شعبے کی قرضہ دہی (پی ایس ایل) کی اہمیت اور انفرادی اہداف و ذیلی اہداف کے مقابلے میں کمیوں پر گہری توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پبلک سیکٹر بینکوں (پی ایس بیز) کو ترغیب دی گئی کہ وہ باریک بینی سے نگرانی، ابھرتے ہوئے خلا کی بروقت شناخت اور مناسب کاروباری حکمتِ عملیوں کے ذریعے پی ایس ایل پر اپنی بھرپور توجہ برقرار رکھیں، تاکہ مطلوبہ مستفیدین کو حقیقی اور پیداواری قرض کی فراہمی کے ذریعے کمیوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔

دوسرے دن کے غور و خوض میں زراعت اور باغبانی کی ویلیو چینز میں مالیات کو مستحکم کرنے کے مواقع کی بھی نشان دہی کی گئی، جن میں ایف پی اوز، اسٹوریج، پروسیسنگ، لاجسٹکس اور مارکیٹ کے روابط شامل ہیں۔ کریڈٹ کارڈ کے کاروبار کو از سر نو تصور کرنے سے متعلق گفت و شنید میں ڈیجیٹل آن بورڈنگ، موجودہ صارفین کو زیادہ کراس سیل اور روپی-یو پی آئی انٹیگریشن سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے گرد حکمتِ عملیوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان مباحث کو وی این آر گروپ کے ڈائریکٹر سی اے اروند اگروال کے زراعت اور باغبانی کی ویلیو چین کے بنیادی ڈھانچے پر اور ٹوی زون کے ڈائریکٹر جناب سنجے مہندیرتا کے ترجیحی شعبے کی قرضہ دہی پر حقیقی دنیا کے تجربات سے بھی تقویت ملی، جس سے ان کے متعلقہ کاروباری سفر سے عملی نقطہ نظر سامنے آئے۔

سیکرٹری، ڈی ایف ایس نے زور دے کر کہا کہ اس کنفلوئنس نے سات موضوعات پر ترجیحات کی زیادہ واضح شناخت اور قابلِ عمل اقدامات کو ممکن بنایا ہے۔ اب پی ایس بیز اور پی ایف آئیز کو ان اقدامات کو واضح ملکیت اور حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ہوگی، جب کہ کام یاب ادارہ جاتی ماڈلز کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے جانچا جا سکتا ہے۔

پی ایس بی کنفلوئنس 2026 نے بینکنگ کے مستقبل کے لیے اہم شعبوں میں پبلک سیکٹر بینکوں (پی ایس بیز)، پبلک فنانشل انسٹی ٹیوشنز (پی ایف آئیز)، بھارت سرکار اور ڈومین ماہرین کے اجتماعی تجربے اور صلاحیتوں کو یکجا کیا۔ اس کنفلوئنس سے ابھرنے والی قابلِ عمل حکمتِ عملیوں کو اب متعلقہ ادارے مناسب فالو اپ اور نفاذ کے ذریعے آگے بڑھائیں گے۔ چوں کہ بھارت وِکست بھارت 2047 کی جانب گامزن ہے، پی ایس بیز اور پی ایف آئیز مالیاتی شمولیت کو مزید گہرا کرنے، ابھرتے ہوئے مواقع کی مالی اعانت فراہم کرنے اور ملک کی ترقی کے اگلے مرحلے میں معاونت کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 2206


(रिलीज़ आईडी: 2301003) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , Gujarati , Kannada