PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کی خلائی خودمختاری کو نئی قوت دینا


جدت، خود انحصاری اور ترقی کو فروغ دینا

प्रविष्टि तिथि: 14 AUG 2026 4:13PM by PIB Delhi

ہندوستان کا خلائی قیادت کی جانب سفر

ہندوستان کا خلائی سفر بنیادی صلاحیتیں تیار کرنے سے لے کر جدید اور عالمی سطح پر مسابقتی خلائی ٹیکنالوجیز کی فراہمی تک پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کی جانے والی اصلاحات نے اس شعبے کو نجی اداروں، نئے کاروباری اداروں اور عالمی شراکت داریوں کے لیے کھول دیا ہے۔ اب ہندوستان خلائی پرواز کے نظام، مصنوعی سیاروں، خلائی ایپلی کیشنز اور انسانی خلائی پرواز سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو وسعت دے رہا ہے۔ ہندوستان کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر اس کے خلائی عزائم ایک پُراعتماد اور خودکفیل ملک کی عکاسی کرتے ہیں، جو خلاء کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0032247.jpg

  • ہندوستان کا خلائی ماحولیاتی نظام تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ رجسٹرڈ خلائی نئے کاروباری اداروں کی تعداد 2014 میں صرف ایک تھی، جو اگست 2026 تک بڑھ کر تقریباً 440 ہو گئی ہے۔
  • اس وسیع ہوتے ہوئے ماحولیاتی نظام سے ہندوستان کی خلائی معیشت مضبوط ہو رہی ہے، جس کی مالیت اگست 2026 تک 9 ارب امریکی ڈالر ہے۔ آئندہ ایک دہائی کے دوران اس کے 40 سے 45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
  • ہندوستان کے خلائی شعبے میں نجی سرمایہ کاری میں تقریباً چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ سرمایہ کاری 2021-22 میں 10 کروڑ 5 لاکھ امریکی ڈالر سے بڑھ کر 31 مارچ 2026 تک 61 کروڑ 85 لاکھ امریکی ڈالر ہو گئی، جبکہ صرف 2026 کے دوران 18 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔
  • 2026 کے وسط تک 52 غیر سرکاری اداروں کو 113 منظوری نامے جاری کیے جا چکے تھے، جن میں 18 نئے کاروباری ادارے شامل ہیں۔ یہ منظوری نامے مصنوعی سیاروں کے آپریشن، پے لوڈ کی تنصیب اور خلائی پرواز کی خدمات کے لیے دیے گئے ہیں۔

ارضی مشاہدے کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری(ای او-پی پی پی)

ارضی مشاہدے کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری (ای او-پی پی پی) ان -اسپیس کی جانب سے شروع کیا گیا ایک اختراعی سرکاری و نجی اشتراک کا منصوبہ ہے۔ اس کے تحت حکومتی نگرانی اور نجی شعبے کی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے ہندوستان کے پہلے نجی ملکیتی ارضی مشاہداتی مصنوعی سیاروں کے مجموعے کی تیاری کا منصوبہ ہے، جس کے لیے نجی شعبے کی جانب سے تقریباً 1,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے ہیں۔

  • ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خلائی پرواز کی صلاحیتیں عالمی مانگ کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔ غیر ملکی مصنوعی سیاروں کی ہندوستان سے لانچنگ کی تعداد 2014 سے قبل 35 تھی، جو جنوری 2026 تک بڑھ کر 399 ہو گئی ہے۔
  • ہندوستان کی عالمی شراکت داریاں اس کی بڑھتی ہوئی خلائی قیادت کو مزید مستحکم کر رہی ہیں۔ تحقیق، ٹیکنالوجی، مشترکہ خلائی مشنز اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں 61 ممالک اور 5 کثیر ملکی تنظیموں کے ساتھ 300 سے زائد خلائی تعاون کے معاہدے کیے جا چکے ہیں۔

حکمتِ عملی پر مبنی اقدامات کے ذریعے اصلاحات کو فروغ دینا

ہندوستان میں خلائی شعبے میں کی جانے والی اصلاحات نے نجی شعبے کی شمولیت، سرمایہ کاری، جدت اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں خلائی شعبہ روایتی سرکاری سرگرمیوں کے دائرے سے آگے بڑھ کر ایک وسیع قومی خلائی ماحولیاتی نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

  • ہندوستان نے 2020 میں اپنے خلائی شعبے کو نجی شرکت کے لیے کھول دیا، جس کے نتیجے میں مصنوعی سیاروں، خلائی پرواز کے نظام اور خلائی ایپلی کیشنز کے شعبوں میں صنعتوں اور نئے کاروباری اداروں کے لیے مواقع پیدا ہوئے۔ یہ ایک وسیع تر قومی خلائی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب ایک بڑی پیش رفت تھی۔
  • ہندوستانی خلائی پالیسی 2023 نے خلائی شعبے کی پوری ویلیو چین میں نجی شعبے کی شرکت کو مزید وسعت دی۔ اس پالیسی میں نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) اور انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (ان اسپیس) کے کردار اور ذمہ داریوں کا بھی تعین کیا گیا۔
  • اسرو کے تجارتی بازو این ایس آئی ایل کی جانب سے خلائی پرواز، مصنوعی سیاروں اور خلائی بنیاد پر خدمات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ اسرو کی ٹیکنالوجیز ہندوستانی صنعت کو منتقل کی جاتی ہیں۔ اس کی آمدنی مالی سال 2021-22 میں 321.77 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 3,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی، جو ہندوستان کے خلائی پروگرام کی بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
  • اب تک این ایس آئی ایل نے 118 ٹیکنالوجی منتقلی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کے تحت اسرو اور محکمۂ خلاء میں تیار کی گئی 83 ٹیکنالوجیز ہندوستانی صنعت کو منتقل کی جائیں گی۔
  • ان اسپیس ایک ہی ونڈو کے ذریعے نجی خلائی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔ 31 جنوری 2026 تک اس نے صنعتوں اور نئے کاروباری اداروں کو اسرو کی 71 ٹیکنالوجیز کی منتقلی میں سہولت فراہم کی ہے۔
  • فروری 2024 میں خلائی شعبے کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے ضوابط میں نرمی کی گئی۔ مصنوعی سیاروں کی تیاری اور آپریشن کے لیے 74 فیصد تک ایف ڈی آئی خودکار راستے سے، خلائی پرواز کے حامل راکٹوں اور خلائی اڈوں کے لیے 49 فیصد تک، جبکہ مصنوعی سیاروں اور زمینی حصے کے اجزا کے لیے 100 فیصد تک ایف ڈی آئی کی اجازت دی گئی ہے۔
  • 2024 کے ضوابط، رہنما اصول اور طریقۂ کار (این جی پی) کے تحت شفاف منظوری اور تعمیل کے تقاضے وضع کیے گئے ہیں۔ اس فریم ورک سے ضابطہ جاتی امور میں پیشگی وضاحت اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ ملا ہے۔
  • ہدفی مالی معاونت ہندوستان کے نجی خلائی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ ان اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم ابتدائی مرحلے کے خلائی نئے کاروباری اداروں کی معاونت کرتی ہے، 1,000 کروڑ روپے کا وینچر کیپٹل فنڈ ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے، جبکہ 500 کروڑ روپے کا ٹیکنالوجی اپنانے کا فنڈ خلائی ٹیکنالوجیز کے وسیع تر استعمال کو ممکن بناتا ہے۔ اس کے علاوہ، سیٹلائٹ بس بطور سروس (ایس بی اے اے ایس) اسکیم کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد مصنوعی سیاروں کے بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں کی ترقی میں معاونت کرنا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004SJBU.jpg

یہ اصلاحات ایک زیادہ مسابقتی اور متحرک خلائی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہیں۔ ان کے نتیجے میں ہندوستانی صنعتوں اور نئے کاروباری اداروں کو خلائی شعبے کی پوری ویلیو چین میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔

خلائی صلاحیتیں زمین کی حدود سے آگے

ہندوستان کا خلائی پروگرام مصنوعی سیاروں کی تیاری سے آگے بڑھ کر چاند، مریخ اور نظامِ شمسی میں پیچیدہ خلائی مشنز تک پہنچ چکا ہے۔ یہ کامیابیاں خلائی تحقیق، نیویگیشن، سائنسی مطالعات اور جدید خلائی آپریشنز کے شعبوں میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔

خودکفیل خلائی نقل و حمل

  • ہندوستان نے چار مقامی خلائی پرواز کے حامل راکٹوں کو عملی طور پر فعال کیا ہے: پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی)، جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی)، جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل مارک تھری (جی ایس ایل وی ایم کے تھری) اور اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی)۔
  • یہ خلائی پرواز کے حامل راکٹ ارضی مشاہدے، مواصلات، نیویگیشن، خلائی سائنس اور تحقیق کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی صارفین کے لیے تجارتی خلائی پروازوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
  • گزشتہ تین برسوں، یعنی جولائی 2023 سے جون 2026 تک، ہندوستان نے خلائی پرواز کے حامل راکٹوں کے 12 مشنز کامیابی سے مکمل کیے، جن کے ذریعے 11 قومی مصنوعی سیارے اور بین الاقوامی صارفین کے لیے 9 مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجے گئے۔

ہندوستان اپنی خلائی پرواز کی صلاحیت میں توسیع کر رہا ہے

ہندوستان بڑھتی ہوئی قومی اور تجارتی خلائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے خلائی پرواز کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ سری ہری کوٹا میں اس وقت دو خلائی پرواز مراکز فعال ہیں، جبکہ نئی نسل کے خلائی پرواز کے حامل راکٹوں کے لیے تیسرا مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ تمل ناڈو کا کُلاسی کرپٹنم بھی اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) اور نجی شعبے کی خلائی پروازوں کے لیے ہندوستان کے دوسرے راکٹ لانچ مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ تمام سہولیات مل کر خلائی پرواز کی صلاحیت، تعدد اور عملی لچک میں اضافہ کریں گی اور عالمی سطح پر ایک مسابقتی خلائی پرواز مرکز کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کریں گی۔

قمری تحقیق — چندریان پروگرام

  • چندریان-1 (2008) ہندوستان کا پہلا قمری مشن تھا، جس نے چاند کی سطح پر پانی کے سالمات اور ہائیڈروکسل کی موجودگی کا پتہ لگایا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہندوستان نے عالمی سطح پر قمری سائنس کے شعبے میں اپنا اہم کردار قائم کیا۔
  • چندریان-2 (2019) نے 100 کلومیٹر کی بلندی سے کام کرتے ہوئے چاند کی سطح کی ایسی تصاویر حاصل کیں جن کی ریزولوشن 30 سینٹی میٹر تک تھی۔ یہ اس وقت تک کسی قمری مدار میں گردش کرنے والے پلیٹ فارم سے حاصل کی گئی بلند ترین ریزولوشن والی بصری تصاویر تھیں۔
  • چندریان-3 (2023) کی کامیاب سافٹ لینڈنگ کے ساتھ ہندوستان چاند کے جنوبی قطب کے قریب سافٹ- لینڈنگ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک اور چاند پر سافٹ-لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0055QKJ.png

 

مستقبل کے قمری مشنز

چندریان-4 مشن کے ذریعے چاند کی سطح سے نمونے جمع کرنے، انہیں چاند کی سطح سے اوپر خلاء میں لے جانے اور ان نمونوں کو واپس زمین پر لانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس مشن کو 2027 میں روانہ کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

چندریان-5/ایل یو پی ای ایکس، اسرو اور جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی (اسرو - جے اے ایکس اے) کا مشترکہ مشن ہے، جس کے ذریعے چاند کے جنوبی قطبی خطے کے قریب چاند پر موجود پانی سمیت مختلف غیر فرّار مادّوں (لونار وولیٹائیلز) کا مطالعہ کیا جائے گا۔

چاند سے آگے: مریخ، سورج اور گہری خلاء

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006ERJ9.jpg

 

  • مریخ مدار مشن (منگل یان) کو 24 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں داخل کیا گیا، جس کے ساتھ ہندوستان کا پہلا بین سیارہ  مشن کامیابی سے مکمل ہوا۔ یہ خلائی جہاز اپنے مقررہ چھ ماہ کے مشن کی مدت سے کہیں زیادہ، آٹھ برس سے زائد عرصے تک فعال رہا۔
  • ایسٹرو سیٹ ہندوستان کا پہلا خصوصی فلکیاتی مشن ہے، جس کا مقصد ایک ہی وقت میں ایکس رے، مرئی روشنی اور بالائے بنفشی شعاعوں کے ذریعے مختلف فلکیاتی اجرام کا مطالعہ کرنا ہے۔
  • آدتیہ-ایل1 (2023) سورج کے مطالعے کے لیے ہندوستان کا پہلا خلائی مشن ہے، جسے زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور سورج-زمین کے ایل1 نقطے کے قریب رکھا گیا ہے۔ اب تک شمسی مشاہدات سے متعلق 27 ٹیرا بائٹ سے زائد ڈیٹا عوامی طور پر جاری کیا جا چکا ہے۔
  • ایکس پوسیٹ، جسے جنوری 2024 میں لانچ کیا گیا، نے ایکس رے پولرائزیشن فلکیات کے شعبے میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی۔ یہ مشن انتہائی کائناتی اجرام کے تفصیلی مطالعے کو ممکن بناتا ہے۔
  • اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ (اسپیڈیکس)، جنوری 2025، کے ذریعے ہندوستان خودکار خلائی ڈاکنگ اور خلائی جہازوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کامیاب مظاہرہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے۔

ایکسیوم-4: انسانی خلائی پرواز کی صلاحیتوں کو فروغ دینا

  • گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا ہندوستان کے پہلے خلاباز ہیں جنہوں نے 25 جون 2025 کو روانہ کیے گئے ایکسیوم-4 مشن کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کا سفر کیا۔ ان کی شرکت سے ہندوستان کو انسانی خلائی پرواز اور کم ثقل کے ماحول میں تحقیق کے شعبے میں قیمتی تجربہ حاصل ہوا۔
  • ایکسیوم-4 مشن 15 جولائی 2025 کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس سے گگن یان سمیت مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے ہندوستان کے عملی تجربے اور صلاحیتوں کو مزید تقویت ملی۔

نیو آئی سی- ہندوستان کا مقامی نیویگیشن نظام

  • نیویگیشن ود انڈین کانسٹیلیشن (نیو آئی سی) ہندوستان بھر میں اور اس کی سرحد سے 1,500 کلومیٹر تک کے علاقے میں پوزیشننگ، نیویگیشن اور درست وقت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی نیویگیشن خودمختاری کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تزویراتی اور شہری استعمال میں بھی معاون ہے۔
  • نیو آئی سی کی دوسری نسل کے پہلے دو مصنوعی سیارے، این وی ایس-01 اور این وی ایس-02، بالترتیب مئی 2023 اور جنوری 2025 میں خلاء میں بھیجے گئے۔
  • این وی ایس-03 خلائی پرواز کے لیے تیار ہے، جبکہ این وی ایس-04 اور این وی ایس-05 کی تیاری کا کام بھی پیش رفت کے آخری مراحل میں ہے۔ دوسری نسل کے یہ مصنوعی سیارے نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور تسلسل کو مزید بہتر بنائیں گے۔
  • نیو آئی سی کو بجلی کے قومی گرڈ کی ہم وقتی، حقیقی وقت میں ٹرینوں کی نگرانی، آدھار میں جغرافیائی ٹیگنگ اور موبائل چپ سیٹس میں مربوط کیا جا رہا ہے۔
  • نیو آئی سی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اہم بنیادی ڈھانچے اور روزمرہ خدمات میں مصنوعی سیاروں پر مبنی پوزیشننگ کی سہولت مزید وسیع ہو رہی ہے۔
  • اس کا بڑھتا ہوا استعمال اہم بنیادی ڈھانچے اور روزمرہ کی خدمات میں مصنوعی سیاروں پر مبنی مقام کے تعین کی سہولت کو وسعت دے رہا ہے۔

ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خلائی صلاحیتیں خلائی سائنس اور تحقیق کے نئے محاذ کھول رہی ہیں۔

یہ صلاحیتیں ملک کی تکنیکی استعداد اور عالمی خلائی میدان میں اس کے مقام کو بھی مزید مستحکم کر رہی ہیں۔

ہندوستان کا خلائی سفر — مستقبل کی جانب

ہندوستان انسانی خلائی پرواز، گہری خلائی تحقیق اور جدید خلائی بنیادی ڈھانچے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ مستقبل کے مشنز طویل مدتی انسانی موجودگی اور پیچیدہ مداری آپریشنز کے لیے ضروری صلاحیتوں کو فروغ دیں گے۔

  • گگن یان انسانی خلائی پرواز پروگرام کو جنوری 2019 میں منظوری دی گئی تھی۔ ستمبر 2024 میں اس کے دائرۂ کار میں توسیع اور نظرِ ثانی کی گئی، جس کے تحت مجموعی طور پر 20,193 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام میں کل 8 مشنز شامل ہیں، جن میں بھارتی انترکش اسٹیشن (بی اے ایس-01) کے لیے ابتدائی مشنز بھی شامل ہیں۔
  • اس پروگرام کا مقصد 3 ہندوستانی خلابازوں پر مشتمل عملے کو 400 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں بھیجنا اور تین روزہ مشن مکمل کرنا ہے۔
  • مختلف ٹیکنالوجیز کی توثیق کے لیے پہلا بغیر انسان کے تجرباتی مشن، جس میں نیم انسان نما خلائی روبوٹ وِیوم مترا بھی شامل ہے، 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں روانہ کیے جانے کا ہدف ہے۔ انسان بردار مشن 2027 تک روانہ کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
  • ہندوستان کے منصوبہ بند پانچ ماڈیولز پر مشتمل خلائی اسٹیشن، بھارتی انترکش اسٹیشن (بی اے ایس)، کو 2035 تک فعال کرنے کا ہدف ہے، جبکہ بی اے ایس-01 کو 2028 تک خلاء میں بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اسٹیشن طویل مدتی انسانی خلائی پرواز، کم ثقل کے ماحول میں تحقیق اور جدید خلائی آپریشنز میں معاونت کرے گا۔
  • اسپیڈیکس-2 اور اسپیڈیکس-3: مستقبل کے چندریان-4، گگن یان اور بھارتی انترکش اسٹیشن کے مشنز کے لیے مداری ڈاکنگ ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دینے کی غرض سے ان مشنز کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے ذریعے خلائی جہازوں کی ڈاکنگ، نمونوں کی منتقلی، عملے کی منتقلی اور بجلی، سیال مادوں اور ایندھن کی منتقلی جیسی صلاحیتیں حاصل ہوں گی۔
  • وینس آربیٹر مشن: اس مشن کو مارچ 2028 میں روانہ کیے جانے کا ہدف ہے۔ اس کے ذریعے زہرہ کے ارضیاتی خدوخال، فضا اور آئن منڈل کا مطالعہ کیا جائے گا۔ اس مشن میں جدید ایرو بریکنگ اور حرارتی انتظام کی ٹیکنالوجیز کا عملی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔

ہندوستان کی آئندہ نسل کی خلائی صلاحیتوں کو تشکیل دینے والی جدید ٹیکنالوجیز

اسرو 200 ٹن تھرسٹ والا نیم کرائیوجینک انجن تیار کر رہا ہے۔ اس سے زیادہ طاقتور خلائی پرواز کے حامل راکٹ تیار کرنے اور زیادہ وزنی پے لوڈ خلاء میں لے جانے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔

لانچ وہیکل مارک-3 (ایل وی ایم-3) کے لیے نیم کرائیوجینک بوسٹر مرحلہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سے ایل وی ایم-3 کی پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اسرو عمودی پرواز اور عمودی لینڈنگ (وی ٹی وی ایل) ٹیکنالوجی کے ذریعے بوسٹر کی واپسی کا عملی مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس سے راکٹ کے مراحل کو دوبارہ استعمال کرنے اور مستقبل میں خلائی پروازوں کی لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اسرو مائع آکسیجن اور میتھین پر مبنی پروپلشن نظام کے ذریعے جزوی طور پر دوبارہ قابلِ استعمال نیکسٹ جنریشن لانچ وہیکل (این جی ایل وی) تیار کر رہا ہے۔ یہ زیادہ پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت فراہم کرے گا اور بار بار کم لاگت میں خلائی پروازوں کو ممکن بنائے گا۔

اسرو دوبارہ قابلِ استعمال خلائی پرواز کے پروگرام کے تحت پنکھوں  والے آربیٹل ری انٹری وہیکل کو تیار کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے مدار سے دوبارہ زمین کے ماحول میں داخل ہونے اور رن وے پر لینڈنگ کی ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا، جس سے دوبارہ قابلِ استعمال خلائی نقل و حمل کو فروغ ملے گا۔

اسرو فضائی ماحول سے آکسیجن حاصل کرکے کام کرنے والی پروپلشن ٹیکنالوجی اور اس کے لیے ایک ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریٹر گاڑی تیار کر رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فضا میں زیادہ مؤثر پرواز اور جدید دوبارہ قابلِ استعمال خلائی پرواز کے نظام کی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

اگلا مرحلہ انسانی خلائی پرواز، سیارے سے متعلق  تحقیق اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان کے کردار کو مزید مستحکم کرے گا۔ یہ کوششیں ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک سرکردہ خلائی طاقت بننے کے عزم کو تقویت فراہم کریں گی۔

حوالہ جات:

محکمۂ خلاء

پی آئی بی بیکگراؤنڈر

لوک سبھا

ہندوستانی خلائی تحقیقاتی تنظیم

نائب صدر کا سیکریٹریٹ

وزیر اعظم کا دفتر

پی ڈی ایف فائل کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

***

ش ح۔ش ت۔ر ب

U-2102


(रिलीज़ आईडी: 2299546) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil