امور داخلہ کی وزارت
منشیات کے خلاف 'قطعی عدم برداشت ' کی پالیسی میں نیا سنگ میل: این سی بی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مفرور ڈرگ کنگ پن وریندر سنگھ بسویا کی واپسی کو یقینی بنایا
بسویا کی گرفتاری کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے، امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا – مودی حکومت بیرون ملک چھپے ہوئے منشیات کے اسمگلروں کے مسلسل تعاقب میں ہے
مودی حکومت بے لاگ طور پر منشیات کے اسمگلروں کے پورے نظام کو تباہ کر رہی ہے
مطلوب بین الاقوامی منشیات اسمگلر وریندر سنگھ بسویا کو ‘آپریشن گلوبل ہنٹ’ کے تحت ہندوستان واپس لایا گیا
ہر سطح (اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر) پر اقدام کے ذریعے مجرم کا سراغ لگا کر، ہماری ایجنسیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ منشیات کے اسمگلر چاہے کہیں بھی چھپ جائیں، وہ ہندوستانی قانون کے لمبے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 12:31PM by PIB Delhi
منشیات کے بین الاقوامی گروہوں کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، انسداد منشیات کے قومی ادارے (این سی بی) نے پِلنجی، سروجنی نگر، دہلی کے باشندے مفرور ملزم وریندر سنگھ بسویا عرف ویرو عرف بسویا کی بھارت واپسی یقینی بنائی ہے۔ آج صبح سویرے نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچنے پر اسے تحویل میں لے لیا گیا۔
وریندر سنگھ بسویا کو جون 2026 میں این سی بی کی درخواست پر شائع ہونے والے 'انٹرپول ریڈ کارنر نوٹس' کی تعمیل کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ہندوستانی ایجنسیوں کے ذریعہ متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ اور تعاون کے نتیجے میں اس کی ہندوستان واپسی ممکن ہوئی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، وزیر داخلہ جناب امیت شاہ نے کہا: "مودی حکومت بیرون ملک چھپے ہوئے منشیات کے اسمگلروں کا مسلسل تعاقب کر رہی ہے اور ایک بے لاگ طور پر ان کے پورے نظام کو تباہ کر رہی ہے۔ منشیات کے خلاف 'زیرو ٹالرنس' ( قطعی عدم برداشت) کی پالیسی میں ایک نیا سنگ میل حاصل کرتے ہوئے، این سی بی نے مفرور ڈرگ کنگ پن وریندر سنگھ بسویا کو متحدہ عرب امارات سے واپس لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہر سطح پر کارروائی کے طریقہ کار سے مجرم کا سراغ لگا کر، ہماری ایجنسیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ منشیات کے اسمگلر چاہے کہیں بھی چھپ جائیں، وہ ہندوستانی قانون کے لمبے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتے ہیں۔"
کیس کے بارے میں
معاملے کی شروعات فروری 2024 میں پونے سے ہوئی، جہاں پونے سٹی پولیس نے 500 گرام منشیات (میفیڈرون) ضبط کی تھی۔ اس کے بعد، ہر سطح پر کارروائی کا طریقہ کار اپناتے ہوئے، منشیات کی اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کی شناخت اور اسے تباہ کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ بعد میں کی جانے والی تحقیقات اور تعاقب کی کارروائیوں کے نتیجے میں پونے سے تقریباً 867 کلوگرام اور دہلی سے 970 کلوگرام میفیڈرون برآمد ہوئی، جس سے کل برآمدگی تقریباً 1,837 کلوگرام میفیڈرون تک پہنچ گئی۔ اس کیس کو بعد میں مزید تحقیقات کے لیے انسداد منشیات کے قومی ادارے (این سی بی )کی ممبئی زونل یونٹ کو منتقل کر دیا گیا۔
تحقیقات میں وریندر سنگھ بسویا کی شناخت اہم غیر ملکی کارندے اور سازش کنندہ کے طور پر ہوئی، جو بیرون ملک سے اس گروہ کی سرگرمیوں کو سنبھالتا تھا اور ہندوستان سے دوسرے ممالک میں میفیڈرون کی کھیپ بھیجنے میں سہولت فراہم کرتا تھا۔ دہلی میں برآمد کی گئی تقریباً 970 کلوگرام میفیڈرون کی ایک بڑی کھیپ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اس سے منسلکہ کورئیر کے ذرائع سے بیرون ملک بھیجنے کی تیاریوں میں تھی۔ اس کا کردار ایک اہم کڑی کے طور پر سامنے آیا جو مقامی سطح پر منشیات بنانے اور اسمگل کرنے والے نیٹ ورک کو بیرون ملک اس کی تقسیم کے ذرائع سے جوڑتا تھا۔
وریندر سنگھ بسویا کا نام دہلی پولیس کی خصوصی اکائی (اسپیشل سیل) کے ایک الگ کیس میں بھی ملوث ہے جو بین الاقوامی کوکین اسمگلنگ سے متعلق ہے۔ اکتوبر 2024 میں، دہلی پولیس کی خصوصی اکائی نے منشیات کی اسمگلنگ کے ایک بڑے گروہ کا پردہ فاش کیا، جس کے نتیجے میں دہلی، ہاپوڑ اور غازی آباد میں گوداموں اور دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ انکلیشور (گجرات) کی ایک فیکٹری سے کئی ضبطگیاں کی گئیں۔ ان مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں 1,300 کلوگرام سے زائد کوکین، میفیڈرون اور گانجہ (ہائیڈروپونک ویڈ) برآمد ہوا۔ اس گروہ کی تحقیقات سے کوکین اور دیگر منشیات حاصل کرنے، پہنچانے، ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے میں وریندر سنگھ بسویا کا مبینہ کردار سامنے آیا۔
وریندر سنگھ بسویا کی واپسی آپریشن گلوبل ہنٹ کے تحت این سی بی کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جو بیرون ملک سے کام کرنے والے منشیات کے بڑے اسمگلروں اور مفرور ملزموں کی شناخت، سراغ لگانے اور ان کا تعاقب کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ اس پہل میں بین الاقوامی پولیس ریڈکارنر نوٹس سمیت بین الاقوامی تعاون کے نظام کا فائدہ اٹھایا گیا ہے اور ہندوستانی و غیر ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ عملی تعاون کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس پہل کے تحت دیگر مطلوب منشیات اسمگلروں کی کامیابی کے ساتھ واپسی بھی نمایاں کامیابیاں تھیں ، جن میں ترکیہ سے محمد سلیم ڈولا اور ملائیشیا سے نوین چچکار شامل ہیں ۔
مفرور ملزموں کو ان کے جرائم کے قانونی انجام کا سامنا کرانے کے لیے ہندوستان واپس لانا ‘منشیات کی روک تھام کے منشور’’ (2026–2029) کی پاسداری میں ہے، جس کا افتتاح محترم وزیر داخلہ نے کیا تھا۔ اس خاکہ عمل کے ایک حصے کے طور پر، دیگر قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے ذریعے بیرون ملک سے کام کرنے والے منشیات کے دیگر اہم مفرور ملزموں کی شناخت، سراغ لگانے اور انہیں واپس لانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر داخلہ جناب امیت شاہ کی رہنمائی میں، این سی بی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف حکومت ہند کی 'زیرو ٹالرنس' کی پالیسی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
این سی بی منشیات کے اسمگلروں، مالی سہولت کاروں، ہینڈلرز اور مفرورملزموں کا تعاقب جاری رکھے گا، چاہے وہ ہندوستان کے اندر سے کام کر رہے ہوں یا بیرون ملک سے، اور منشیات کی اسمگلنگ کے پورے نظام کو تباہ کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
***
ش ح۔م ش ع۔ ن م۔
U-2088
(रिलीज़ आईडी: 2299395)
आगंतुक पटल : 7