ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
عالمی یومِ ہاتھی 2026 کی قومی تقریبات وشاکھاپٹنم میں منعقد؛ ہاتھیوں کے تحفظ اور انتظام میں نمایاں خدمات پر ’گج گورو ایوارڈز 2026‘ سے اعزازات عطا
ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے بھارت کا عزم محض ایک پالیسی فیصلہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی اقدار اور ماحولیاتی ذمہ داری کا مظہر ہے: ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے وزیرِ مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ
انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم کے واقعات سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت کا نصب العین ’تصادم سے بقائے باہمی تک‘ ہے: نائب وزیرِ اعلیٰ (آندھرا پردیش) جناب کے پون کلیان
وزیرِ مملکت (ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی) نے پروجیکٹ ایلیفنٹ کی 23ویں اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی؛ ’انسان۔ہاتھی تصادم: بھارت میں مختلف منظرنامے‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ منعقد
جنوبی بھارت میں انسان۔ہاتھی تصادم کی جامع تفہیم اور مؤثر انتظام کے لیے علاقائی عملی منصوبہ جاری
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 2:27PM by PIB Delhi
وزیرِ مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب کیرتی وردھن سنگھ نے آج وشاکھاپٹنم میں منعقدہ عالمی یومِ ہاتھی 2026 کی قومی تقریبات کی صدارت کی۔ آندھرا پردیش کے نائب وزیرِ اعلیٰ جناب کونیڈالا پون کلیان نے اس موقع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ تقریب میں وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے سکریٹری جناب تنمے کمار، ڈائریکٹر جنرل (جنگلات) اور خصوصی سکریٹری جناب سشیل کمار اوستھی، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (جنگلی حیات) جناب رمیش پانڈے کے علاوہ وزارت اور آندھرا پردیش محکمۂ جنگلات کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزارتِ ریلوے، مختلف ریاستی محکمہ ہائے جنگلات، سائنسی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے افسران بھی موجود تھے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ہاتھیوں کے لیے ایک پائیدار مستقبل کی تعمیر میں پیش پیش ہے۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی معلوماتی نقشہ سازی جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیوں کو روایتی علم کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ہاتھیوں کے قدرتی مسکن کے تحفظ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسان۔ہاتھی تصادم (ایچ ای سی) میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ مقامی برادریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے باہمی تعاون، عوامی شرکت اور سائنسی بنیادوں پر مبنی طریقۂ کار کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
جناب سنگھ نے کہا کہ ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے بھارت کا عزم محض ایک پالیسی فیصلہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی اقدار اور ماحولیاتی ذمہ داری کا مظہر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت میں 33 ہاتھی محفوظ علاقے، سائنسی بنیادوں پر نشان زد کیے گئے 150 ہاتھی راہداریاں اور دنیا میں پائے جانے والے جنگلی ایشیائی ہاتھیوں کی تقریباً 60 فیصد آبادی موجود ہے، جس کے باعث بھارت ہاتھیوں کے تحفظ میں مسلسل قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ انسان۔ہاتھی تصادم ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کے مؤثر حل کے لیے مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان مربوط تعاون، زمینی سطح پر تصدیق شدہ سائنسی اعداد و شمار کا استعمال اور ہم آہنگ حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
کلیدی خطاب کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے نائب وزیرِ اعلیٰ جناب کونیڈالا پون کلیان نے بتایا کہ انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم کے واقعات سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت کا نصب العین ’’تصادم سے بقائے باہمی تک‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو ریاستی انتظامی حدود سے بالاتر ایک مشترکہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے آندھرا پردیش حکومت کے جنگلی حیات کی نگرانی، امداد، علاج اور نگہداشت کے لیے قائم خصوصی وحدتوں کے اقدام کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ریاستی حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہے، مقامی برادریوں کو اس عمل میں شریک کر رہی ہے اور جنگلاتی محاذ پر تعینات عملے کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔
قومی تقریبات کے حصے کے طور پر جناب کیرتی وردھن سنگھ نے ہاتھیوں کے تحفظ اور ان کے مؤثر انتظام میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد کو ’’گج گورو ایوارڈز 2026‘‘ سے نوازا۔
تقریب کی نمایاں جھلکیوں میں سے ایک ’’30 عظیم اقدامات‘‘ کے عنوان سے دستاویز کا اجرا تھا، جس میں 2020 سے 2026 کے دوران پروجیکٹ ایلیفنٹ کے تحت انجام دیے گئے 30 اہم سنگِ میل، نمایاں کامیابیوں اور تحفظ سے متعلق اقدامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ 1992 میں مرکزی حکومت کی اعانت سے چلنے والی ایک منصوبہ جاتی اسکیم کے طور پر شروع کیے گئے پروجیکٹ ایلیفنٹ نے ہاتھیوں، ان کے قدرتی مساکن اور راہداریوں کے تحفظ، انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم سے نمٹنے اور زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط مسلسل اور وقف شدہ کوششیں مکمل کی ہیں۔
تقریب میں ایک اور اہم دستاویز ’’جنوبی بھارت میں انسان۔ہاتھی تصادم کی جامع تفہیم اور مؤثر انتظام کے لیے علاقائی عملی منصوبہ‘‘ بھی جاری کیا گیا، جس میں کرناٹک، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو شامل ہیں۔ یہ منصوبہ پروجیکٹ ایلیفنٹ کے تحت جنوبی بھارت کی ہاتھیوں کے پھیلاؤ والے ریاستوں، سائنسی اداروں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں علاقائی منظرنامے پر مبنی جامع حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے تاکہ پورے خطے میں انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ حکومتِ ہند کی جانب سے 500 کروڑ روپے کی مالی معاونت سے نافذ کیے جانے والے اس منصوبے میں قدرتی مساکن کے باہمی اتصال، ہاتھی راہداریوں کے تحفظ، پیشگی انتباہی نظام، تصادم میں کمی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل، قدرتی مساکن کی بحالی، مقامی برادریوں کی شرکت، تحقیق اور نگرانی، فوری ردِ عمل کے نظام، صلاحیت سازی اور بین الریاستی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
اس موقع پر بھارت میں ہاتھیوں کے تحفظ کی تین دہائیوں کی یاد میں ’’جنگلی حیات سائنس‘‘ کے ایک خصوصی شمارے کا بھی اجرا کیا گیا۔ اس خصوصی شمارے میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہاتھیوں کے تحفظ سے متعلق حاصل ہونے والے سائنسی علم اور تحقیقی نتائج کو یکجا کیا گیا ہے، تاکہ پروجیکٹ ایلیفنٹ کے تحت مستقبل میں ہاتھیوں کے تحفظ اور انتظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی موقع پر ’’1947 سے قبل وسطی بھارت میں ایشیائی ہاتھی‘‘ کے عنوان سے ایک علمی تصنیف بھی جاری کی گئی، جس میں وسطی بھارت میں ہاتھیوں کی تاریخی تقسیم، ان کی صورتِ حال اور انسان اور ہاتھی کے باہمی تعلقات کی اہم تاریخی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
جناب کیرتی وردھن سنگھ کی صدارت میں پروجیکٹ ایلیفنٹ کی 23ویں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بھی وشاکھاپٹنم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہاتھیوں کے تحفظ اور انتظام سے متعلق موجودہ اہم مسائل پر غور و خوض کیا گیا اور متعدد اہم اقدامات اور مطبوعات جاری کی گئیں، جن میں دی ٹرمپٹ، جلد ششم، شمارہ اول، نیل گیری ہاتھی محفوظ علاقے کے لیے نمونہ ہاتھی تحفظ منصوبہ، ’’زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی نگہداشت: سائنس، بہبود اور عملی طریقۂ کار‘‘ اور انسان۔ہاتھی تصادم کے مطالعے کا دوسرا مرحلہ شامل ہے، جس میں کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو، اڈیشہ اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات سائنسی شواہد پر مبنی تحفظ، زیرِ نگہداشت ہاتھیوں کی بہبود اور علاقائی منظرنامے کی سطح پر انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم کے مؤثر انتظام کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
تقریبات کے سلسلے میں ’’انسان۔ہاتھی تصادم: بھارت میں مختلف منظرنامے‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ بھی منعقد کی گئی، جس میں ہاتھیوں کے پھیلاؤ والے مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نگرانی و ضابطہ بندی کے اداروں، سائنسی اداروں اور میدان میں کام کرنے والی ایجنسیوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں سائنسی شواہد، طویل مدتی اعداد و شمار اور زمینی تجربات کی بنیاد پر انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم کی موجودہ صورتِ حال، رجحانات اور علاقائی اختلافات کا جائزہ لیا گیا۔ مباحثوں میں تصادم میں کمی کے لیے جدید پالیسیوں، نئی ٹیکنالوجیوں اور بہترین عملی طریقوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں جانوروں کے علاج و نگہداشت سے متعلق اقدامات، بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام، ریلوے سے متعلق ہاتھیوں کی اموات کی روک تھام، قدرتی مساکن اور راہداریوں کا انتظام اور مربوط علاقائی منظرنامے پر مبنی حکمتِ عملیاں شامل تھیں۔
ورکشاپ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی، ریاستی محکمہ ہائے جنگلات، تحقیقی اداروں، بھارتی ریلوے اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ انسان اور ہاتھی کے بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے مربوط اور سائنسی بنیادوں پر مبنی حکمتِ عملیاں مؤثر انداز میں نافذ کی جا سکیں۔ملک گیر تقریبات کے حصے کے طور پر پروجیکٹ ایلیفنٹ نے قومی عجائب گھر برائے قدرتی تاریخ کے اشتراک سے پورے ملک میں ایک وسیع عوامی بیداری مہم بھی چلائی۔ اس مہم میں 21,450 اسکولوں کے 20 لاکھ سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ ہاتھیوں کی ماحولیاتی اور تہذیبی اہمیت اور ان کے قدرتی مساکن کے تحفظ کی ضرورت سے بچوں کو آگاہ کرنے کے لیے مصوری اور نقاب سازی کے مقابلے، ریلیاں، نکڑ ناٹک، بیداری پروگرام اور عہد برداری کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ ملک بھر کے طلبہ نے ہاتھیوں کے تحفظ اور ان کی بقا کے لیے عہد بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جنگلی حیات اور ماحولیات کے تحفظ کے نوجوان سفیر کے طور پر اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔
وشاکھاپٹنم میں منعقدہ عالمی یومِ ہاتھی 2026 کی تقریبات نے اس عزم کا ازسرِنو اعادہ کیا کہ بھارت اپنے قومی ورثے کے جانور ہاتھی کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی، قدرتی مساکن اور راہداریوں کے تحفظ، مقامی برادریوں کی شرکت اور مربوط و ہم آہنگ اقدامات کے ذریعے مؤثر کوششیں جاری رکھے گا تاکہ آنے والی نسلوں کو صحت مند ہاتھیوں کی آبادی اور مضبوط و پائیدار جنگلاتی ماحولیاتی نظام ورثے میں مل سکے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2044
(रिलीज़ आईडी: 2299211)
आगंतुक पटल : 6