ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایشیائی شیروں کی تعداد 2015 میں 523 سے بڑھ کر 2025 میں 891 ہو گئی؛ یہ جنگلاتی حکام، تحفظِ جنگلی حیات کے ماہرین اور مقامی برادریوں کی عزم و محنت کا مظہر ہے: جناب بھوپیندر یادو


 شیروں کے عالمی دن کے موقع پر مرکزی وزیر ماحولیات نے جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 AUG 2026 12:02PM by PIB Delhi

شیروں کے عالمی دن ۔ 2026 کے موقع پر مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو نے شیروں کے تحفظ کے شعبے میں بھارت کے شاندار سفر کو اجاگر کرتے ہوئے جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ملک کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر نے بتایا کہ ایشیائی شیروں کی تعداد 2015 میں 523 سے بڑھ کر 2025 میں 891 ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا جنگلاتی حکام، تحفظِ جنگلی حیات کے ماہرین، مقامی برادریوں اور ان تمام افراد کی لگن اور انتھک کوششوں کو دیا جو اس شاندار نوع کے تحفظ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

جناب یادو نے کہا کہ ایشیائی شیروں کے تحفظ میں بھارت کی کامیابی جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ملک کے عزم کا قابلِ فخر ثبوت ہے۔ انہوں نے بھارت کے قدرتی ورثے کے تحفظ اور اس امر کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا کہ ایشیائی شیر کی گونجتی ہوئی دھاڑ آنے والی نسلوں تک سنائی دیتی رہے۔

اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی جناب کیرتی وردھن سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اہم قدرتی مساکن کے تحفظ، تحفظِ جنگلی حیات کے پروگراموں کو مضبوط بنانے اور انسانوں و جنگلی حیات کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کو فروغ دے کر بھارت نے دنیا کو دکھایا ہے کہ ترقی اور فطرت ایک ساتھ فروغ پا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 15 اگست 2020 کو ایشیائی شیر کے طویل مدتی تحفظ اور بقا کو یقینی بنانے کے لیے ‘‘پروجیکٹ لائن’’ کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت شیروں کا مسکن 2020 میں تقریباً 30,000 مربع کلومیٹر سے بڑھ کر اب تقریباً 35,000 مربع کلومیٹر تک پھیل گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے پورے خطے کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔ اس میں شیروں کے قدرتی مساکن کی بہتری، بیماریوں کی نگرانی اور طبی سہولیات کی فراہمی، شیروں کی تعداد اور نقل و حرکت کی سائنسی بنیادوں پر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، تحفظ سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کی شراکت اور مقامی برادریوں کی فعال شرکت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

********

 

ش ح۔ش ت   ۔رض

U-1702


(ریلیز آئی ڈی: 2297011) وزیٹر کاؤنٹر : 82