کامرس اور صنعت کی وزارتہ
جناب پیوش گوئل نے ہندوستانی اور ازبک کاروباری اداروں کو مشترکہ سرمایہ کاری اور مشترکہ مینوفیکچرنگ کے لیے مدعو کیا؛ ہندوستان-ازبکستان بزنس فورم میں دو طرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کی اپیل کی گئی
جناب گوئل نے کانکنی اور ٹیکسٹائل میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی
دو طرفہ سرمایہ کاری کا معاہدہ ،ہندوستان-ازبکستان شراکت داری کو فروغ دے گا:جناب گوئل
جناب گوئل نے صحت کی دیکھ بھال، زراعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور جدید مینوفیکچرنگ میں ہندوستان-ازبکستان تعاون کو بڑھانے پر زور دیا
प्रविष्टि तिथि:
03 AUG 2026 2:11PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج ہندوستان اور ازبکستان کے کاروباری اداروں کو مشترکہ سرمایہ کاری، مشترکہ مینوفیکچرنگ اور مشترکہ اختراع کے لیے مدعو کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو آئندہ تین برسوں میں دوگنا کرنے کے لیے متحدہ کوششوں پر زور دیا۔ نئی دہلی میں منعقدہ ہندوستان-ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، احترام اور خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان نہ صرف اپنی مشترکہ شاندار تاریخ اور گہرے ثقافتی روابط سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری امکانات بھی بے شمار ہیں، جن سے ابھی مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے، لیکن یہ اس صلاحیت کا صرف ایک حصہ ہے جسے دونوں معیشتیں مل کر حاصل کر سکتی ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان ازبکستان کو نہ صرف ایک بڑی اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی منڈی فراہم کرتا ہے بلکہ ایک قابل اعتماد شراکت دار، ہنرمند اور نوجوان افرادی قوت اور جدت پر مبنی ترقی کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بھی پیش کرتا ہے۔ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو ایک دوسرے کی معیشتوں میں سرمایہ کاری کرنے اور طویل مدتی شراکت داریاں قائم کرنے کی ترغیب دے گا۔
جناب گوئل نے کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جہاں دونوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور جہاں دو طرفہ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کا کان کنی کا شعبہ ہندوستانی سرمایہ کاری کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں تعاون کے امکانات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ازبکستان کپاس کی پیداوار میں مضبوط مقام رکھتا ہے جبکہ ہندوستان ٹیکسٹائل صنعت میں عالمی قیادت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک مل کر ملبوسات سازی، ڈیزائن اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے شعبوں میں توسیع کر سکتے ہیں۔
ادویہ سازی اور صحت کے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان، جو دنیا کی فارمیسی کے طور پر پہچانا جاتا ہے، سستی ادویات، طبی آلات، تشخیصی خدمات، ٹیلی میڈیسن، ڈاکٹروں اور طبی معاون عملے کی تربیت اور معیاری صحت خدمات کے ذریعے ازبکستان کے صحت کے نظام کو جدید بنانے میں معاونت کر سکتا ہے۔ انہوں نے آیوروید، یوگا اور یونانی جیسے روایتی طبی نظاموں میں تعاون کو دوبارہ فروغ دینے کی بھی تجویز پیش کی، جن کے ازبک خطے کے ساتھ تاریخی روابط رہے ہیں۔
زراعت اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ، کولڈ چین اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے ایسی عالمی ویلیو چینز قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو دونوں ممالک کے کسانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی اور دونوں ممالک کی باہمی تکمیلی صلاحیتوں کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات بھی پوری کی جا سکیں گی۔
وزیر موصوف نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں ازبکستان کے ساتھ تعاون کے لیے ہندوستان کی تیاری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی ترقی اور فن ٹیک، زرعی ٹیکنالوجی اور میڈ ٹیک جیسے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ازبکستان کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انجینئرنگ مصنوعات، جدید مینوفیکچرنگ، آٹو موبائل پرزہ جات اور گاڑیوں کی صنعت بھی مستقبل میں تعاون کے لیے امید افزا شعبے ہیں۔
جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور ازبکستان کے صدر عالی جناب شوکت مرزایوف نے دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لا کر اور اس شراکت داری کے لیے واضح سیاسی سمت فراہم کر کے دو طرفہ تعلقات میں نئی توانائی پیدا کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تعلقات کی مکمل صلاحیت اسی وقت حاصل کی جا سکتی ہے جب دونوں ممالک کے کاروباری ادارے باہمی روابط کو مزید مضبوط کریں، اقتصادی تعلقات کو وسعت دیں، سرمایہ کاری میں اضافہ کریں اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کریں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دو طرفہ تعلقات میں تجارت کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے، جناب گوئل نے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ پائیدار تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے کے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے، معیارات، منظوریوں، جانچ اور سرٹیفیکیشن کے عمل میں باہمی تسلیم کو فروغ دینے، زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے کسٹمز نظام کو مربوط کرنے اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے مزید مؤثر تجارتی راستے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں زیادہ منظم، مقررہ مدت کے اندر مکمل ہونے والی اور نتائج پر مبنی اقتصادی شراکت داری کے قیام کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضابطہ کار اداروں اور معیارات طے کرنے والی اتھارٹیز کو بھی باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
صنعتی شعبے کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ یہ آپ کا موقع ہے۔ مشترکہ سرمایہ کاری کریں، مشترکہ مینوفیکچرنگ کریں اور مشترکہ اختراع کو فروغ دیں۔ ایسی دیرپا شراکت داریاں قائم کریں جو دونوں ممالک کی کمپنیوں کو وسعت، مضبوطی اور دونوں معیشتوں نیز ہندوستان اور ازبکستان کے عوام کے لیے خوشحالی فراہم کریں۔
وزیر موصوف نے اپنے خطاب کے اختتام پر دورہ کرنے والے وفد کا خیرمقدم کیا اور تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو مزید مضبوط بنا کر ہندوستان-ازبکستان اقتصادی شراکت داری کومضبوط کرنے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
****
ش ح۔ع ح۔ت ع
U.No. 1191
(रिलीज़ आईडी: 2293748)
आगंतुक पटल : 10