خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خواتن  و اطفال کی ترقی کی وزارت یکم سے 7 اگست 2026 تک  عالمی بریسٹ فیڈنگ ویک 2026 کا اہتمام کرے گی


اس مہم کا مقصد کنبے، مقامی برادریوں اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ افراد کے درمیان ‘‘صحت مند بھارت کیلئے ماں کا دودھ ’’ کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے

اس سال کا موضوع ہے پائیدار زندگی کے آغاز کیلئے ماں کے دودھ پلانے کو فروغ دینااورمؤثر اقدامات کو مزید مضبوط بنانا

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 11:11AM by PIB Delhi

حکومت ہند کی خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت یکم سے 7 اگست 2026 تک ملک بھر میں عالمی بریسٹ فیڈنگ2026 کا اہتمام کرے گی۔ اس ہفتہ بھر جاری رہنے والی مہم کا مقصد خاندانوں، مقامی برادریوں اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ افراد میں پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ پلانے، پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینےاور اس کے بعد مناسب تکمیلی غذا کے ساتھ دو سال یا اس سے زیادہ عرصے تک دودھ پلانے کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔

ماں کا دودھ پلانا بچوں کی بقا، صحت مند نشوونما اور ذہنی و دماغی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے سب سے مؤثر اقدامات میں سے ایک ہے۔ وزارت نے  اپیل کی ہے کہ ہر نوزائیدہ بچے کو پیدائش کے پہلے ایک گھنٹے کے اندر، جسے گولڈن آور کہا جاتا ہے، ماں کا دودھ ضرور پلایا جائے۔ ماں کا پہلا دودھ، جسے کولوسٹرم یا بچے کی پہلی قدرتی ویکسین بھی کہا جاتا ہے، قوت مدافعت بڑھانے والی اینٹی باڈیز اور ضروری غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے، اس لئے اسے ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو صرف ماں کا دودھ دیا جائے، اس کے علاوہ پانی، شہد، گھٹی، گلوکوز یا فارمولا دودھ ہرگز نہ دیا جائے۔ اس مدت کے دوران ماں کا دودھ ہی بچے کی تمام غذائی اور پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد مناسب تکمیلی غذا شروع کی جائے، تاہم ماں کا دودھ دو سال یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رکھا جائے۔

ماؤں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کے ساتھ قربت برقرار رکھیں، بچے کو بار بار دودھ پلائیں اور ضرورت پڑنے پر آشا کارکنان، آنگن واڑی کارکنان یا صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ افراد سے رہنمائی حاصل کریں۔ ملازمت پیشہ مائیں ضرورت کے مطابق اپنا دودھ نکال کر محفوظ طریقے سے ذخیرہ بھی کر سکتی ہیں۔

ماں کا دودھ پلانا صرف بچے ہی نہیں بلکہ ماں کی صحت کے لئے بھی انتہائی مفید ہے۔ یہ زچگی کے بعد جسمانی بحالی میں مدد دیتا ہے اور چھاتی کے سرطان، بیضہ دانی کے سرطان، ٹائپ-2 ذیابیطس اور زچگی کے بعد ڈپریشن کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

وزارت نے صحت کے ماہرین، برادری کے کارکنوں، خاندانوں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے میں اپنا رول ادا کریں جہاں ہر ماں کو دودھ پلانے کے لئے بااختیار بنایا جائے اور ہر بچے کو زندگی کا بہترین ممکنہ آغاز فراہم ہو سکے۔

********

ش ح۔ ک ا  ۔رض

U-1006


(रिलीज़ आईडी: 2292294) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Bengali , English , Marathi , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam