کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

اے پی ای ڈی اے نے کرناٹک کے ‘نیلم’ اور ‘توتاپوری’ آموں کی مالدیپ کو پہلی بار فضائی ترسیل میں سہولت فراہم کی


آموں کی برآمد سے کسانوں کو براہ راست عالمی منڈیوں سے رابطہ کے ذریعہ 50 فیصد سے زائد زیادہ آمدنی حاصل ہوئی

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 12:15PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی وزارت تجارت و صنعت کے تحت کام کرنے والی زرعی اور پراسیسڈ فوڈ مصنوعات برآمداتی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے کرناٹک کے‘ نیلم’ اور ‘توتاپوری’ آموں کی مالدیپ کو پہلی بار فضائی ترسیل میں سہولت فراہم کی ہے۔ 30 جولائی 2026 کو روانہ کی گئی یہ برآمد کرناٹک کی دیر سے تیار ہونے والی آم کی اقسام کو بین الاقوامی منڈیوں میں فروغ دینے اور  ہندوستان کے آموں کے برآمداتی دائرے کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم سنگ میل ہے۔

اس برآمداتی کھیپ کو اے پی ای ڈی اے کے چیئرمین جناب ابھیشیک دیو، آئی اے ایس نے روانہ کیا۔ انہوں نے برآمد کنندہ، فارمر پروڈیوسر کمپنی (ایف پی سی)، کسانوں اور تمام متعلقہ شراکت داروں کی اجتماعی کوششوں کو سراہا، جن کی بدولت یہ کھیپ ممکن ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات  ہندوستانی آموں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بناتے ہیں، دیر سے تیار ہونے والی اقسام کے لیے برآمداتی مواقع پیدا کرتے ہیں اور کسانوں کی آمدنی میں پائیدار اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

برآمد کی گئی ایک میٹرک ٹن آموں کی کھیپ میں ‘نیلم’ اور ‘توتاپوری’ آم شامل تھے، جنہیں کرناٹک کے ضلع کولار، تعلقہ کے جی ایف میں واقع میسرز پراکرتھیمایا فارمرز پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ سے وابستہ کسانوں سے براہِ راست حاصل کیا گیا۔ اس کھیپ کو میسرز اہلیا دیوی وینچرز کی ڈائریکٹر محترمہ اشونی اے نے برآمد کیا، جو ایک نئی رجسٹرڈ خاتون کاروباری اور برآمد کنندہ ہیں۔ یہ  ہندوستان کے زرعی برآمداتی شعبے میں خواتین کاروباری افراد کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔

نیلم آم اپنے میٹھے اور رسیلے گودے، خوشبو اور میٹھے پکوان، اسموتھیز اور مشروبات کے لیے موزوں ہونے کی وجہ سے وسیع پیمانے پر پسند کیا جاتا ہے۔ جبکہ توتاپوری آم اپنی منفرد شکل، میٹھے اور کھٹے ذائقے اور تازہ استعمال کے ساتھ ساتھ پراسیسنگ کے لیے بھی موزوں ہونے کی وجہ سے معروف ہے۔ یہ دونوں اقسام جون کے آخر سے جولائی کے اختتام تک تیار ہوتی ہیں۔ تاخیر سے تیار ہونے والی ان اقسام کے ذریعے بھارت آموں کے برآمداتی موسم کو مزید وسعت دے سکتا ہے اور عروج کے موسم کے بعد بھی عالمی طلب کو پورا کر سکتا ہے۔

یہ فضائی ترسیل کرناٹک کے باغبانی شعبہ کی بڑھتی ہوئی برآمداتی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ فارمر پروڈیوسر کمپنیاں منظم طریقے سے پیداوار جمع کرنے، معیاری مصنوعات اور برآمداتی سپلائی چین کے ذریعے کسانوں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس برآمداتی اقدام کے ذریعے فارمر پروڈیوسر کمپنی سے وابستہ کسانوں کو روایتی منڈیوں کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد زیادہ آمدنی حاصل ہوئی۔ یہ کامیابی براہ راست خریداری، برآمداتی منڈیوں سے رابطے اور منظم پیداوار جمع کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور برآمد ات پر مبنی کاشت کاری کے طریقوں کو فروغ ملتا ہے۔

یہ برآمدات  کرناٹک کے آموں کی برآمداتی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے اور توقع ہے کہ اس سے فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)، فارمر پروڈیوسر کمپنیوں (ایف پی سیز)، برآمد کنندگان اور زرعی کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں میں اعلیٰ معیار کی باغبانی مصنوعات متعارف کرانے کے لیے مزید حوصلہ ملے گا۔

اے پی ای ڈی اے ریاستی حکومتوں، برآمد کنندگان، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز، فارمر پروڈیوسر کمپنیوں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر برآمداتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، عالمی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانے اور  ہندوستان کے اعلیٰ معیار کے پھلوں کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس طرح کے اقدامات  ہندوستان کی زرعی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کسانوں اور باغبانی کے شعبے کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

*****

ش ح- ظ الف-  ص ج

UR-1011


(रिलीज़ आईडी: 2292255) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Bengali , Tamil , Kannada