وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیردفاع نے تینوں مسلح افواج کی خواتین پر مشتمل آئی اے ایس وی ’تریوینی‘ کے عملے کو پہلی بار دنیا کا بحری چکر مکمل کرنے والی مہم کی کامیاب تکمیل پر اعزاز سے نوازا



راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’سمندر پردکشنا‘تینوں مسلح افواج کے باہمی تعاون اور خواتین کی قوت کا زندہ ثبوت ہے، اور یہ ہر بھارتی کو نئی تحریک ملے گی

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 1:12PM by PIB Delhi

وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے30جولائی 2026 کو تینوں مسلح افواج کی ان نو خواتین افسران کو اعزاز سے نوازا جو انڈین آرمی سیلنگ ویسل (آئی اے ایس وی) ’تریوینی‘ پر سوار ہو کر ’سمندر پردکشِنا‘کے نام سے پہلی بار تینوں افواج کی خواتین پر مشتمل دنیا کے گرد بحری سفر کی مہم کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹیں۔نئی دہلی میں ان افسران سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے تقریباً 25 ہزار 500 ناٹیکل میل پر محیط 314 روزہ بحری سفر کامیابی سے مکمل کرنے پر ٹیم کی غیرمعمولی ہمت، عزم اور ثابت قدمی کو سراہا۔ یہ سفر چار سمندروں پر مشتمل تھا۔انہوں نے کہا کہ 'سمندر پردکشِنا' خواتین کی قوت و صلاحیت کا روشن مظہر اور تینوں مسلح افواج کے باہمی اشتراک، ہم آہنگی اور یکجہتی کی ایک شاندار مثال ہے، جو ہر بھارتی کے لیے باعثِ تحریک بنے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001O8OB.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002LLP3.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0032ANH.jpg

خواتین افسران نے راج ناتھ سنگھ کو اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس مہم کی غیرمعمولی دشواریوں نے اس بحری سفر کو یادگار اور نہایت بامقصد بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن کا نام روشن کرنے کے غیرمتزلزل عزم نے ہر مرحلے پر ان کی حوصلہ افزائی کی، جس کی بدولت وہ شدید جسمانی اور ذہنی آزمائشوں پر کامیابی سے قابو پانے میں کامیاب رہیں۔اس موقع پر وزیرِ دفاع نے کہا کہ ان خواتین افسران کی لگن، عزم اور جذبۂ خدمت نے خود انہیں بھی متاثر کیا ہے اور ان کے اپنے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ شاندار کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پختہ یقین، ثابت قدمی اور غیرمتزلزل ارادے کے ساتھ زندگی کا ہر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004ZVIQ.jpg

خواتین افسران کی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کو’حیرت انگیز‘ قرار دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 'سمدر پردکشِنا' کی کامیاب تکمیل نے ان تمام دقیانوسی تصورات کو غلط ثابت کر دیا ہے جن میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ خواتین مشکل اور دشوار فوجی مہمات انجام نہیں دے سکتیں۔انہوں نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ جسمانی صلاحیت، ذہنی مضبوطی اور قیادت کی خوبیاں کسی جنس کی پابند نہیں ہوتیں۔ بھارت کی ہر بیٹی آپ کو دیکھ کر یہ یقین کر سکتی ہے کہ وہ بھی سمندروں کو عبور کر سکتی ہے اور دنیا میں اپنی کامیابی کا پرچم لہرا سکتی ہے۔

وزیرِ دفاع نے اس مہم کو ’تینوں مسلح افواج کے باہمی اشتراک و اتحاد کی روشن مثال‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج، بھارتی بحریہ اور بھارتی فضائیہ کے افسران نے ایک ہی جہاز پر، ایک ہی پرچم تلے، مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے یہ بحری سفر مکمل کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مہم اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر ہم متحد ہو کر آگے بڑھیں تو کوئی بھی منزل یا افق ایسا نہیں جسے حاصل نہ کیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005RFRI.jpg

راج ناتھ سنگھ نے ٹیم کی اس کاوش کو بھی سراہا کہ انہوں نے جن ممالک کا دورہ کیا، وہاں بھارت کی انجینئرنگ کی مہارت، مقامی سطح پر تیار کردہ صلاحیتوں اور جدید تکنیکی ترقی کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ بھارت کسی بھی شعبے میں کسی سے کم نہیں ہے۔اس ملاقات کے دوران بری فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، وزیرِ دفاع کے سکریٹری راجیش کمار سنگھ، فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل آشوتوش دکشت، بحریہ کے نائب سربراہ وائس ایڈمرل اجے کوچھر اور تینوں مسلح افواج کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006GT7M.jpg

22 جولائی 2026 کو ممبئی میں وزیرِ دفاع نے آئی اے ایس وی 'تریوینی' کی ٹیم کی وطن واپسی کی تقریب میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر خوش آمدید کہا۔ اس سے قبل 11 ستمبر 2025 کو بھی انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس مہم کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی تھی۔اس مہم کی کامیابی تفصیلی منصوبہ بندی، تقریباً دو سال کی سخت تربیت، ساحل سے چوبیس گھنٹے فراہم کی جانے والی معاونت کے مؤثر نظام اور متعدد اداروں و معاون تنظیموں کے غیرمتزلزل تعاون اور عزم کا نتیجہ تھی۔اس مہم نے دنیا کا چکر مکمل کرنے کے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تمام شرائط کامیابی سے پوری کیں۔ ٹیم نے طول البلد کے تمام خطوں کو عبور کیا، خطِ استوا کو دو مرتبہ پار کیا، بین الاقوامی تاریخ کی لکیر کو عبور کیا اور دنیا کے تین عظیم بحری راسوں (کیپ لیووِن، کیپ ہارن اور کیپ آف گڈ ہوپ) کا چکر مکمل کیا۔

خطرناک اور دشوار گزار راہ داریوں کو کامیابی سے عبور کرنے اور کیپ ہارن کا چکر مکمل کرنے کے بعد عملے کو ممتاز 'کیپ ہارنرز' برادری کی رکنیت حاصل ہوئی۔ یہ اعزاز دنیا کے مشکل ترین بحری راستوں میں سے ایک کو کامیابی سے عبور کرنے والے ملاحوں کو دیا جاتا ہے۔

اپنی شاندار بحری کامیابی کے علاوہ 'سمدر پردکشِنا' نے فوجی سفارت کاری کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر بھی اہم کردار ادا کیا۔ دنیا بھر کی بندرگاہوں پر قیام کے دوران آئی اے ایس وی ’تریوینی‘ نے بھارت کے شاندار ثقافتی ورثے، بحری روایات، فوجی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دیرپا اقدار کو اجاگر کیا، جبکہ دوست ممالک کے ساتھ خیرسگالی اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔

 

*****

ش ح۔ ع و۔ ص ج

U.No. 926


(रिलीज़ आईडी: 2291692) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu