ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
گزشتہ 12 برسوں میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں شیروں کی تعداد اور ٹائیگر ریزرو میں نمایاں اضافہ ہوا: بھوپیندر یادو
شیروں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر نئی دہلی میں تقریب سے مرکزی وزیرِ ماحولیات کا خطاب، عوام سے فطرت کے احترام کی اپیل
جنگلی حیات کے تحفظ کی کامیابیاں محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ روایتی علم، جذبات، لگن اور برسوں کے تجربے کا حاصل ہیں: بھوپیندر یادو
شیروں کے بین الاقوامی دن 2026 کے موقع پر این ٹی سی اے کا ایکو ٹورازم ویب پیج شروع، جبکہ شیروں کے تحفظ اور محفوظ جنگلاتی علاقوں کے مؤثر انتظام میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو این ٹی سی اے ایوارڈز سے نوازا گیا
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 12:21PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر، جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی(این ٹی سی اے) کے زیرِ اہتمام منعقدہ شیروں کے بین الاقوامی دن 2026 کی تقریب سے خطاب کیا۔ وزیر موصوف نے عوام پر زور دیا کہ وہ فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنائیں اور ماحول کے تحفظ پر مبنی طرزِ زندگی اپنائیں۔
اس تقریب میں ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ سرکاری حکام، جنگلی حیات کے ماہرین، جنگلات کے معاون عملے، طلبہ اور دیگر متعلقہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔ تقریب کا مقصد شیروں کے تحفظ کے میدان میں ہندوستان کی کامیابیوں کا جشن منانا اور شیروں اور ان کے قدرتی مساکن کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کرنا تھا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کو محض جانوروں کی حفاظت تک محدود نہ قرار دیتے ہوئے جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ اس کا اصل مقصد فطرت کے ساتھ احترام پر مبنی تعلق قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، "فطرت صرف سیاحت یا تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا احترام بھی ضروری ہے، اور انسان کو اس سے روحانی سکون حاصل کرنا چاہیے۔" انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ فطرت سے سبق حاصل کریں اور ماحولیات کے تحفظ پر مبنی طرزِ زندگی اختیار کریں۔
ہندوستان کی جنگلی حیات کے تحفظ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں ملک میں شیروں کی تعداد 3,682 اور ٹائیگر ریزرو کی تعداد 58 تک پہنچ گئی ہے، جو ایک نمایاں کامیابی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہاتھیوں کے محفوظ علاقے، قومی پارکس، جنگلی حیات کی پناہ گاہیں، محفوظ علاقے، کمیونٹی ریزرو اور آبی ذخائر، دلدلی زمین کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

این ٹی سی اے کے ایکو ٹورازم ویب پیج کا افتتاح کرتے ہوئے جناب بھوپیندر یادو نے تمام ٹائیگر ریزروز سے متعلق معلومات کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر یکجا کرنے پر این ٹی سی اے کو مبارکباد دی۔ اس ویب پیج پر تمام ٹائیگر ریزروز کی مستند ویب سائٹس کے براہِ راست روابط فراہم کیے گئے ہیں، جہاں سے سفاری اور رہائش کی بکنگ کی جا سکتی ہے۔ اس اقدام سے معلومات تک عوام کی رسائی مزید آسان ہوگی اور ذمہ دارانہ، ماحول دوست اور پائیدار قدرتی سیاحت کو فروغ ملے گا۔
جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق تجربات کو محفوظ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ "جنگلات کی کہانیاں محض اعداد و شمار نہیں ہوتیں بلکہ ان میں روایتی علم، جذبات، جنگلی حیات کے تحفظ کا جذبہ اور جنگلی حیات کے افسران، ماہرینِ تحفظِ ماحول اور دیگر متعلقہ افراد کے برسوں کے تجربات شامل ہوتے ہیں۔" انہوں نے جنگلات کے افسران پر زور دیا کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق اپنے تجربات قلمبند کریں اور انہیں اس انداز میں عوام کے سامنے لائیں کہ وہ مؤثر، قابلِ عمل اور زمینی حقائق پر مبنی پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوں۔
جناب بھوپیندر یادو نے جنگلات کے افسران اور عملے کی استعدادِ کار بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس مقصد کے لیے عالمی سطح کی بہترین روایات کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں دنیا بھر میں علم، تجربات اور بہترین عملی طریقوں کے تبادلے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

شیروں کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں کام کرنے والے افراد کی خدمات کے اعتراف میں این ٹی سی اے ایوارڈز جنگلی حیات کے افسران اور دیگر نمایاں شخصیات کو شیروں کے تحفظ اور محفوظ جنگلاتی علاقوں کے مؤثر انتظام میں غیر معمولی کارکردگی پر پیش کیے گئے۔ اس موقع پر جنگلات کے صف اول کے عملے کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جن کی انتھک محنت جنگلی حیات کے تحفظ میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
وزیر موصوف نے اس موقع پر "شیروں کو بچاؤ" کے موضوع پر دہلی-این سی آر کے اسکولوں کے طلبہ کے لیے منعقد کیے گئے مصوری، اسکیچ سازی، نعرہ نویسی اور ماسک سازی کے مقابلوں کی بہترین تخلیقات پر مشتمل نمائش کا بھی جائزہ لیا۔
اس کے علاوہ، وزارت کے ماحولیاتی تعلیم پروگرام کے تحت ایکو کلبز کے ذریعے ملک گیر سطح پر شیروں کے تحفظ سے متعلق عوامی آگاہی مہم بھی چلائی گئی، جس میں خاص طور پر ٹائیگر ریزرو کے قریب واقع اسکولوں کو شامل کیا گیا۔

اس تقریب کے دوران پانچ اہم مطبوعات بھی جاری کی گئیں، جو نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کی سائنسی بنیادوں پر استوار تحفظِ جنگلی حیات، علم کے فروغ اور عوامی بیداری کے لیے مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان مطبوعات میں شامل ہیں:
- این ٹی سی اے آؤٹ ریچ جرنل "اسٹرائپس" کا جولائی 2026 کا شمارہ۔
- 24 ٹائیگر ریزرو کی سیکیورٹی آڈٹ رپورٹ۔
- ہندوستان کے ٹائیگر منظر نامے میں سست ریچھ کے مسکن کی موزونیت کے جائزے سے متعلق رپورٹ۔
- "ٹائیگرز آف دی ورلڈ"، جو انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس اور گلوبل ٹائیگر فورم کے اشتراک سے شائع کی گئی۔
- "دی رہمن کھیڑا ٹائیگر"، جس کے مصنفین جناب چندر پرکاش گوئل اور جناب ستیہ پرکاش یادو ہیں۔

شیروں کے بین الاقوامی دن 2026 کی تقریبات نے شیروں کے تحفظ کے لیے ہندوستان کے غیر متزلزل عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔ اس موقع پر غیر معمولی خدمات کے اعتراف، سائنسی بنیادوں پر تحفظ، استعدادِ کار میں اضافہ، ذمہ دارانہ ایکو ٹورازم، علم و تجربات کے تبادلے اور ملک کی قیمتی قدرتی وراثت کے تحفظ میں عوامی شمولیت کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
پس منظر: شیروں کا بین الاقوامی دن 2026
ایک صدی قبل ایشیا کے جنگلات میں تقریباً ایک لاکھ جنگلی شیر پائے جاتے تھے، لیکن آج وہ اپنے تاریخی مسکن کے صرف 8 فیصد سے بھی کم علاقے تک محدود ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، بالی، جاوا اور کیسپین نسل کے شیر مکمل طور پر معدوم ہو چکے ہیں۔ شیروں کی تعداد میں اس تیز رفتار کمی کی بنیادی وجوہات میں غیر قانونی شکار، جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت، قدرتی مساکن کی تباہی اور ٹکڑے ٹکڑے ہونا، انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات، اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر 2010 میں سینٹ پیٹرزبرگ ٹائیگر سمٹ کے دوران شیروں کے قدرتی مساکن رکھنے والے 13 ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر گلوبل ٹائیگر ریکوری پروگرام کا آغاز کیا۔ اسی اجلاس میں ہر سال 29 جولائی کو شیروں کا بین الاقوامی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کا اہم ہدف TX2 کے تحت 2022 تک دنیا بھر میں جنگلی شیروں کی تعداد کو دوگنا کرنا تھا۔
اس کے بعد سے شیروں کا بین الاقوامی دن شیروں کے تحفظ کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے، عوامی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنے اور شیروں اور ان کے قدرتی مساکن کے تحفظ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
****
(ش ح۔۔م ع۔ م ذ۔)
UR No.898
(रिलीज़ आईडी: 2291449)
आगंतुक पटल : 5