زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کا آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک کے طوطاپوری آم کے کاشتکاروں کو راحت فراہم کرنے کے لیے بڑا اقدام


جناب شیوراج سنگھ چوہان کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کسانوں کی شکایات پر رپورٹ پیش کی

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کھیتوں، منڈیوں اور فیکٹریوں کا دورہ کیا

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے دہلی میں منعقدہ اہم اجلاس کے دوران ماہر کمیٹی کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا

کسانوں اور صارفین کے مفاد میں آم پر مبنی مشروبات میں 22 سے 25 فیصد حقیقی گودے کو لازمی قرار دینے کی سفارش: جناب شیوراج سنگھ

طوطاپوری آم کے باغات میں نئی اور بہتر اقسام متعارف کروا کر باغبانی کے شعبے کو ترقی دینے کا بڑا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے: جناب شیوراج سنگھ
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے کسانوں کے لیے زونل خریداری، پھلوں کی تھیلیوں اور ایف پی او پر مبنی پروسیسنگ پر زور دیا

مرکز، ریاستیں، آئی سی اے آر اور اے پی ای ڈی اے مل کرطوطا پوری ویلیو چین کو نئی سمت فراہم کریں گے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 JUL 2026 6:26PM by PIB Delhi

آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک میں طوطاپوری آم پیدا کرنے والے کسانوں کی آمدنی میں مسلسل کمی اور منڈیوں میں گرتی ہوئی قیمتوں کی شکایات کے پیش نظر زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اپنی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کے بعد طوطاپوری آم کی کاشت، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کے نظام میں وسیع پیمانے پر بہتری کے لیے جامع ہدایات جاری کی ہیں۔

زراعت  کے مرکزی وزیرجناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج نئی دہلی کے کرشی بھون میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک کے طوطاپوری آم پیدا کرنے والے کسانوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر طوطاپوری آم کی مکمل ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے۔ کمیٹی نے کھیتوں، منڈیوں اور آم کے گودے کی تیاری کرنے والی یونٹوں کا دورہ کیا اور زمینی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر مرکزی وزیر جناب چوہان نے واضح کیا کہ رپورٹ تیار کرنے کے بعد معاملہ صرف فائل بند کرنے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پالیسی، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ،تینوں سطحوں پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001QN7X.jpg

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک کے طوطاپوری آم پیدا کرنے والے کسانوں کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم۔ ایل۔ جاٹ سمیت تمام اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ کمیٹی کے چیئرمین اور آئی سی اے آر-سی آئی ایس ایچ (سینٹرل انسٹی ٹیوٹ فار سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر، لکھنؤ) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دامودرن ٹی نے رپورٹ پیش کی۔یہ اجلاس انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے تحت تشکیل دی گئی ماہر کمیٹی کی رپورٹ پر مرکوز تھا، جس کا مقصد طوطاپوری آم کی کاشت میں کمی اور قیمتوں میں گراوٹ سے متعلق مسائل کا جائزہ لینا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کرنا تھا۔ یہ کمیٹی 2 جولائی 2026 کے حکم کے تحت تشکیل دی گئی تھی، جس میں آئی سی اے آر-سی آئی ایس ایچ (سینٹرل انسٹی ٹیوٹ فار سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر، لکھنؤ)، آئی سی اے آر-آئی آئی ایچ آر (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل ریسرچ، بنگلورو)، آئی سی اے آر-سی آئی ایس ایچ کے سائنس دان، ڈاکٹر وائی ایس آر  ہارٹیکلچرل یونیورسٹی، آندھرا پردیش کے ماہرین اور ریاستی محکمۂ باغبانی کے عہدیدار شامل تھے۔

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی ہدایت پر کمیٹی نے 8 سے 10 جولائی تک آندھرا پردیش کے تروپتی اور چتور اضلاع کا دورہ کیا، جہاں اس نے کسانوں، کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی او)، منڈی نمائندوں، آم کے گودے کی تیاری کرنے والی یونٹوں، برآمد کنندگان اور ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی اور طوطاپوری آم کی مکمل ویلیو چین کے تمام مراحل کا جائزہ لیا۔

اپنی رپورٹ اجلاس میں پیش کرتے ہوئے کمیٹی نے بتایا کہ رواں سال طوطاپوری آم کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجوہات میں پروسیسنگ کی گنجائش اور خریداری کے انتظامات میں بروقت تال میل کا فقدان، گھریلو بازار میں آم پر مبنی مشروبات میں حقیقی آم کے گودے کی کم مقدار اور عالمی بازار میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کئی مقامات پر سیزن کے آغاز میں فیکٹریاں بروقت خریداری نہیں کر پاتی ہیں، جبکہ کسانوں کی پیداوار ایک ہی وقت میں منڈیوں اور پروسیسنگ یونٹوں تک پہنچ جاتی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں اچانک گراوٹ آتی ہے اور کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

آم پر مبنی مشروبات کے معاملے پر کمیٹی نے تجویز دی کہ تمام ایسے مشروبات میں 22 سے 25 فیصد تک حقیقی قدرتی آم کا گودا شامل ہونا چاہیے۔ کمیٹی کے مطابق اگر صرف وہی مشروبات جن میں مقررہ حد سے زیادہ گودا شامل ہو، انہیں 5 فیصد گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے زمرے میں رکھا جائے، جبکہ کم گودے والے مشروبات پر زیادہ جی ایس ٹی کی شرح لاگو کی جائے، تو ایک طرف طوطاپوری آم کے گودے کی کھپت میں اضافہ ہوگا اور دوسری جانب صارفین کو زیادہ غذائیت بخش اور حقیقی پھلوں پر مبنی مشروبات دستیاب ہوں گے۔

اس تجویز کو مدِنظر رکھتے ہوئے، مرکزی وزیر جناب چوہان نے ہدایت دی کہ متعلقہ وزارتوں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی)، جی ایس ٹی کونسل، وزارت خزانہ، وزارتِفوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز، وزارتِ زراعت اور وزارت صحت کے درمیان ایک بین الوزارتی اجلاس منعقد کیا جائے، تاکہ ضروری معیارات اور ٹیکس کے ڈھانچے پر اتفاق رائے قائم کیا جا سکے۔

طوطاپوری آم کی ویلیو چین کو مستحکم اور منظم بنانے کے لیے کمیٹی نے مرکزی رابطہ کاری اور قیمت استحکام کمیٹی کے قیام کی سفارش کی ہے، جو آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک جیسے بڑے پیداواری ریاستوں کے لیے اعلیٰ سطحی ادارہ جاتی نظام کے طور پر کام کرے گی۔ آم کے ہر سیزن سے قبل یہ کمیٹی فصل کے تخمینے، پروسیسنگ اور برآمدی طلب، زرعی اخراجات اور بازار کی صورتحال کا جائزہ لے گی، اور کسانوں کے لیے منافع بخش خریداری قیمتوں اور آم کے گودے کی حوالہ جاتی قیمتوں کے تعین میں معاونت کرے گی، تاکہ کسانوں اور صنعت دونوں کو پہلے ہی واضح رہنمائی حاصل ہو سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002ZKLP.jpg

 

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آندھرا پردیش کے چتور، تروپتی، انامیا اور کڑپہ اضلاع میں طوطاپوری آم کی کاشت کا ایک بڑا حصہ پرانے باغات پر مشتمل ہے، جن کی پیداوار اور معیار دونوں میں کمی آئی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمیٹی نے ٹاپ ورکنگ تکنیک کے ذریعے باغات کی تجدید کی سفارش کی، جس کے تحت نیلم، الفانسو، ہمایت، بنگن پلی اور دیگر اعلیٰ قدر والی اقسام کی قلمیں موجودہ درختوں پر پیوند کی جا سکتی ہیں، اور دو سے تین سال میں نئی اور زیادہ قیمتی فصل حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کلسٹر کی سطح پر اچھی زرعی طریقہ کار (جی اے پی) کے نفاذ، کسانوں کو تربیت فراہم کرنے، نمائشی باغات قائم کرنے اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

پھلوں کے معیار کو بہتر بنانے اور اعلیٰ قیمت والی گھریلو منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے کمیٹی نے تجویز دی کہ ابتدائی مرحلے میں چتور، تروپتی، انامیا اور کڑپہ اضلاع کے تقریباً 23,333 ہیکٹر رقبے میں پھلوں کی تھیلیاں (فروٹ کورز) فراہم کی جائیں، تاکہ پھل کی بیرونی ساخت بہتر رہے، کیڑوں سے ہونے والے نقصان میں کمی آئے اور طوطاپوری آم زیادہ قیمت والی منڈیوں تک پہنچ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی زونل خریداری اور ابتدائی پروسیسنگ کے انتظامات تیار کرنے کی سفارش بھی کی گئی، جس کے تحت محکمۂ باغبانی، پروسیسنگ صنعت اور کسان پیداواری تنظیمیں مشترکہ طور پر سالانہ خریداری کا منصوبہ تیار کریں گی۔

آندھرا پردیش حکومت کے لیے یہ سفارش بھی کی گئی کہ وہ ایک معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) جاری کرے، جس کے تحت تمام رجسٹرڈ پروسیسنگ یونٹوں کے لیے ہر سال 15 مئی سے آم کی خریداری اور گودا تیار کرنے کا عمل شروع کرنا لازمی قرار دیا جائے۔

اجلاس کے دوران کسانوں کی قیادت میں چلنے والی پروسیسنگ یونٹوں اور کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی اوز) پر مبنی ویلیو ایڈیشن ماڈلز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ آئی سی اے آر-سی آئی ایس ایچ اور آئی آئی ایچ آر کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے آم کی گٹھلی کے بیج سے 'آم بٹر' اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے کے امکانات پر زور دیا گیا، تاکہ توتاپوری آم کی گٹھلیاں اور دیگر ضمنی مصنوعات بھی کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکیں۔

اجلاس میں ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) کے نمائندوں نے توتاپوری اور دیگر بھارتی آموں کے لیے گھریلو اور بین الاقوامی منڈیوں کو وسعت دینے کی کوششوں سے آگاہ کیا، خاص طور پر اخراجات کم کرنے اور نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے سمندری راستوں کے ذریعے برآمدات کو فروغ دینے کے اقدامات سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ اس تناظر میں جناب شیوراج چوہان نے کہا کہ اے پی ای ڈی اے، آئی سی اے آر اور ریاستی حکومتوں کے تعاون سے توتاپوری آم پر مبنی پروسیس شدہ مصنوعات اور تازہ آموں کے لیے ایک مربوط برآمدی اور مارکیٹنگ حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران جناب شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت طوطاپوری آم کی مکمل ویلیو چین کو کسانوں پر مرکوز بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں، آئی سی اے آر، اے پی ای ڈی اے، کسان پیداواری تنظیمیں اور پروسیسنگ صنعت سب مل کر اپنی ذمہ داری نبھائیں گے، اور جی ایس ٹی، غذائی تحفظ کے معیارات اور ریاستی پالیسیوں کے درمیان تال میل قائم کرکے ایک واضح لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اگر تجویز کردہ اقدامات کو جامع انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک کے طوطاپوری آم پیدا کرنے والے کسانوں کی آمدنی میں مستقل اضافہ ہوگا اور بھارتی آم عالمی بازار میں اپنی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکیں گے۔

***

)ش ح۔ش آ۔ص ج)

722: UN No


(ریلیز آئی ڈی: 2290301) وزیٹر کاؤنٹر : 19