صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کی برکس کی صدارت 2026 کے تحت برکس وزرائے صحت کا   16واں اجلاس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر


برکس کے وزرائے صحت نے متفقہ طور پر 16ویں برکس وزارتی اعلامیہ کو اپنانے کا اعلان کیا

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات نافذ کی ہیں: جے پی نڈا

16ویں برکس وزارتی اعلامیہ مستقبل کے تعاون کے لیے دیرپا ادارہ جاتی نظام قائم کرنے والی ہے: مرکزی وزیرِ صحت

16ویں برکس وزرائے صحت کے سربراہی اجلاس میں صحت کی مساوات اور عوامی صحت کے تعاون سے متعلق عملی فریم ورک کی توثیق

قومی ادارہ  برائے دماغی صحت و اعصابی علوم (این آئی ایم ایچ اے این ایس) برکس کے دماغی صحت کے مراکزِ امتیاز کے نیٹ ورک کے درمیان ہم آہنگی کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 23 JUL 2026 3:02PM by PIB Delhi

ہندوستان کی برکس کی  صدارت 2026 کے تحت برکس وزرائے صحت کا 16واں  اجلاس آج چنڈی گڑھ میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس میں برکس رکن ممالک کے وزرائے صحت، وفود کے سربراہان، سینئر حکام اور عوامی صحت کے ماہرین نے شرکت کی، جس میں مشترکہ عوامی صحت کے ترجیحی امور سے نمٹنے اور ایک مضبوط و پائیدار عالمی صحت کے ڈھانچے کے فروغ کے لیے باہمی تال میل کو مزید مستحکم کرنے پر گفتگو ہوئی۔

ہندوستان کی برکس کی صدارت کے مرکزی موضوع، "استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کی تعمیر" کے تحت منعقدہ اس اجلاس میں  رکن ممالک کو صحت کے اہم چیلنجوں پر غور و خوض کرنے  کا موقع فراہم ہوا۔ اجلاس میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، اختراع کو فروغ دینے، وباؤں سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے اور مسلسل باہمی تال میل کے ذریعے سب کے لیے جامع صحت کی سہولتوں کے مقصد کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

کلیدی خطاب

چنڈی گڑھ میں  برکس وزرائے صحت کے 16ویں اجلاس سے ورچوئل  طور پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا نے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے وزرائے صحت، وفود کے سربراہان اور سینئر حکام کا خیر مقدم کیا اور ہندوستان کی برکس کی صدارت کے دوران مسلسل تعاون اور سرگرم شمولیت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کی سرگرم شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ برکس عالمی جنوب کے ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دینے کے لیے مضبوط اور مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

مرکزی وزیرِ صحت نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان نے عوام پر مرکوز پالیسیوں، صحت کی سہولتوں تک رسائی میں توسیع، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا کر صحت کے نظام میں انقلابی اصلاحات نافذ کی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تجربے نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ مضبوط عوامی صحت کا نظام اور صحت کی مساوی سہولتیں تمام ممالک کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں  میں برکس کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے جے پی نڈا نے کہا کہ یہ گروپ عالمی جنوب کی مؤثر آواز بن کر ابھرا ہے اور زیادہ جامع اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں اس کا کردار مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدی امراض، غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات اور تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیرجہتی تعاون اور مضبوط ادارہ جاتی شراکت داری ناگزیر ہے۔

ہندوستان کی برکس کی صدارت کے مرکزی موضوع ’’استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کی تعمیر‘‘ کے  حوالے سے  وزیر  موصوف نے زور دیا کہ عالمی صحت کا مستقبل ایسے مضبوط صحت کے  نظام کی تعمیر سے وابستہ ہے جو ابھرتے ہوئے عوامی صحت کے چیلنجوں کا بروقت اور مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ہندوستان کے لازوال  فلسفے ’’سروے بھونتو سکھن، سروے سنتو نرامیہ‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے جے پی نڈا نے کہا کہ عوامی صحت کا اعلیٰ ترین مقصد صرف بیماری کا علاج کرنا نہیں، بلکہ بیماریوں کی روک تھام اور ہر فرد کی ہمہ جہت صحت و تندرستی کو فروغ دینا ہے۔ہندوستان کی برکس کی صدارت کے دوران صحت کے شعبے سے متعلق اپنی ترجیحات پیش کرتے ہوئے جے پی نڈا نے کہا کہ برکس ممالک دنیا میں تپِ و دق (ٹی بی) کے تقریباً نصف بوجھ کے حامل ہیں۔ انہوں نے  اس بات پر زور دیا کہ برکس ٹی بی ریسرچ نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے سے مشترکہ تحقیق، اختراع، عملی تحقیق اور نئی تشخیص کی سہولیات، علاج اور ٹیکے تک منصفانہ رسائی کو فروغ ملے گا، جس سے دنیا بھر میں ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کو نمایاں تقویت حاصل ہوگی۔

انہوں نے برکس کے طبی مصنوعات کے انضباطی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور برکس جی ایکس پی وائٹ پیپر کے اجراء کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ضابطہ جاتی معیار، ہم آہنگی، صلاحیت سازی اور طبی مصنوعات کے معیار، حفاظت اور افادیت کو بہتر بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

مستقبل میں صحت سے متعلق ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے بڑے پیمانے پر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور مؤثر  کارروائی کے لیے برکس کے مربوط ابتدائی انتباہی نظام سے متعلق ذیلی ورکنگ گروپ کے قیام اور اس کی شرائطِ کار کی منظوری کا خیرمقدم کیا اور اسے علاقائی و عالمی طبی تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت اہم سنگِ میل قرار دیا۔صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جے پی نڈا نے کہا کہ  آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن،  آیوشمان آروگیہ مندر اور  ای سنجیونی ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم کے ذریعے ہندوستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ صحت کی خدمات کو عام لوگوں تک پہنچانے اور خصوصاً دور دراز اور پسماندہ  علاقوں میں علاج تک رسائی بہتر بنانے میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مسلسل نگہداشت کے لیے برکس ڈیجیٹل ہیلتھ آرکیٹیکچر، بشمول دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتوں تک رسائی سے متعلق دستاویز کے اجراء کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے اسے برکس ممالک کے درمیان تعاون، بہترین تجربات کے تبادلے اور باہمی طور پر سیکھنے کے ایک اہم علمی وسیلہ قرار دیا۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں اور غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیشِ نظر احتیاطی صحت کی نگہداشت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صحت مند طرزِ زندگی کے لیے برکس کا  مشن اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے برکس کے مشترکہ اقدام کا روڈ میپ 2026–2029 کے آغاز کا خیرمقدم کیا، جس کا مقصد برکس ممالک میں متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، روایتی تغذیاتی ثقافت کے تحفظ اور شواہد پر مبنی طرز عمل  میں مثبت تبدیلی کو فروغ دینا ہے۔

جامع صحت کی سہولتوں کے تصور میں دماغی صحت کو بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے جے پی نڈا نے قومی ادارہ برائے دماغی صحت و اعصابی علوم کی رابطہ کاری میں  دماغی صحت کے شعبے میں برکس مراکزِ امتیاز کے نیٹ ورک  کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے اسے اہم ادارہ جاتی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تحقیق کو فروغ ملے گا، دماغی صحت کے بارے میں آگاہی اور  تندرستی کو تقویت ملے گی، اور رکن ممالک میں علاج کی سہولتوں کے خلا کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے صحت کے سماجی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف لڑائی کے عملی فریم ورک اور برکس کے قومی عوامی صحت کے اداروں کے نیٹ ورک کے عملی فریم ورک  کی منظوری کو بھی نمایاں پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فریم ورک سائنسی تعاون، عوامی صحت سے متعلق معلومات کے تبادلے اور مختلف شعبوں کے باہمی اشتراک کے لیے مضبوط اور مستقل ادارہ جاتی بنیاد فراہم کریں گے، جس سے صحت میں مساوات کے فروغ میں مدد ملے گی۔وزیر موصوف نے برکس کے جوہری طب کے شعبے میں تعاون سے متعلق ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر کیا اور برکس کے  ویکسین کی تحقیق و ترقی کے مرکز کی سرگرمیوں کے لیے مسلسل تعاون کی حمایت کا اعادہ کیا، تاکہ مشترکہ تحقیق کو فروغ دیا جا سکے اور مطلوبہ طبی مصنوعات تک منصفانہ رسائی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

شناخت شدہ ترجیحی شعبوں میں بہترین تجربات کا تبادلہ کرنے پر تمام رکن ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جے پی نڈا نے ڈیجیٹل صحت کا  ڈھانچہ، صحت مند طرزِ زندگی،  دماغی صحت، صحت کے سماجی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریاں اور قومی عوامی صحت کے ادارے سے متعلق برکس کے متعدد دستاویزات کے اجراء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ علمی وسائل برکس ممالک کے درمیان باہمی طور پر  سیکھنے کے عمل کو فروغ دیں گے اور عوامی صحت سے متعلق مؤثر اور وسیع پیمانے پر نافذ کی جانے والی مداخلتوں میں معاون ثابت ہوں گے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مرکزی وزیرِ صحت نے کہا کہ 16واں برکس وزارتی اعلامیہ محض اتفاقِ رائے پر مبنی دستاویز نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا دیرپا ادارہ جاتی نظام قائم کرتی ہے جو آنے والے برسوں میں برکس ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔ انہوں نے عالمی جنوب کی توقعات کی عکاسی کرنے والے، جامع، مشترکہ اور منصفانہ عالمی صحت کے نظام کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا، جو پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف ہو۔

قدیم ہندوستانی فلسفے ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی ’’ساری دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کا تذکرہ کرتے  ہوئے جے پی نڈا نے برکس ممالک سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، شراکت داری اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے سے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں تاکہ سب کے لیے صحت مند مستقبل کی تعمیر ممکن ہو سکے۔

دن بھر کی  سرگرمیاں

وزارتی سطح کے مذاکرات ہندوستان کی برکس کی صدارت کے تحت نشان زد کردہ  نو ترجیحی شعبوں پر مرکوز رہے، جو صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور تعاون و علم کے تبادلے کے ذریعے عوامی صحت کو درپیش نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے تئیں مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

رکن ممالک نے برکس ٹی بی ریسرچ نیٹ ورک کی مسلسل تائید کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ تحقیق، اختراع اور علمی تبادلے کے ذریعے تپِ و دق (ٹی بی) کے خاتمے کی عالمی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے۔

اجلاس میں طبی مصنوعات کے لیے برکس  کے انضباطی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، تاکہ ضابطہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ ملے، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے اور محفوظ، مؤثر اور معیاری طبی مصنوعات تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔

عالمی صحت کے  تحفظ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے  برکس کے وزراء نے بڑے پیمانے پر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور ان  پر مؤثر  کارروائی کے لیے برکس کے مربوط ابتدائی انتباہی نظام کے تحت خصوصی ذیلی ورکنگ گروپ کے قیام کی حمایت کی اور اس کی شرائطِ کار کی توثیق کی، تاکہ برکس ممالک کے درمیان تعاون، بیماریوں کی نگرانی، معلومات کے تبادلے، عوامی صحت کی مشترکہ تیاری اور فوری کارروائی  کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

وفود نے مسلسل نگہداشت کے لیے ڈیجیٹل صحت کے ڈھانچے  کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا، تاکہ باہم مربوط ڈیجیٹل صحت کے نظام قائم کیے جا سکیں اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک معیاری طبی خدمات کی فراہمی کو وسعت دی جا سکے۔

جامع صحت کی سہولتوں کے لازمی جزو کے طور پر دماغی صحت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے وزراء نے  دماغی  صحت کے شعبے میں برکس کے مراکزِ امتیاز کے نیٹ ورک کے قیام کی تائید کی، جس میں ہندوستان کا قومی ادارہ برائے دماغی صحت و اعصابی علوم  رابطہ کار مرکزِ امتیاز کے طور پر خدمات انجام دے گا۔رکن ممالک نے افرادی قوت کی صلاحیت میں اضافے کے لیے تربیت، علم کے تبادلے اور بہترین تجربات کے اشتراک کو فروغ دینے کی غرض سے برکس  کے تربیتی  مراکز کے نیٹ ورک کے قیام کی بھی توثیق کی۔ یہ نیٹ ورک برکس ممالک میں مشترکہ تحقیق، پالیسی سطح پر مکالمے اور شواہد پر مبنی دماغی صحت کے فروغ کی حکمت عملیوں کی تیاری میں معاون ثابت ہوگا۔

اجلاس میں روایتی، تکمیلی اور مربوط طریقۂ علاج (ٹی سی آئی ایم) کے فروغ کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے شواہد کی مجموعہ کاری، مشترکہ تحقیق اور علمی تبادلے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ رکن ممالک نے برکس ہیلتھ ٹریک کے تحت روایتی، تکمیلی اور مربوط طریقۂ علاج سے متعلق برکس کے ماہرین کے ورکنگ گروپ کے مجوزہ قیام کا خیرمقدم کیا اور اس کی شرائطِ کار کی توثیق کی۔ اسے برکس ممالک کے درمیان مکالمے، تعاون اور بہترین تجربات کے تبادلے کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔

وزراء نے صحت کے سماجی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے برکس کے عملی فریم ورک کی بھی توثیق کی، جسے ہر ملک کے قومی حالات کے مطابق صحت میں مساوات، جامع صحت کی سہولتوں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اجتماعی اقدامات کو مضبوط بنانے کا مشترکہ پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔اس کے علاوہ وزراء نے برکس  کےقومی عوامی صحت کے اداروں کے نیٹ ورک کے عملی فریم ورک کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد باہمی احترام، شمولیت، تعاون اور پائیداری کے اصولوں کی بنیاد پر علم کے تبادلے، شواہد پر مبنی پالیسی سازی، صلاحیت سازی اور تکنیکی تعاون کے ذریعے ادارہ جاتی اشتراک کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

وفود نے برکس کے تحت جوہری طب کے شعبے میں مسلسل تعاون کا خیرمقدم کیا اور مشترکہ تحقیق کو فروغ دینے کے ساتھ محفوظ اور مؤثر ویکسین تک منصفانہ رسائی بہتر بنانے کے لیے  برکس  کے ٹیکے کی تحقیق و ترقی کے مرکز کی مسلسل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

وزرائے صحت اور مختلف ممالک کے وفود نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی اور آیوش کی وزارت کے نمائشی پویلین کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے ایٹ رائٹ انڈیا مہم کے تحت فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کے لائیو باجرہ سیشن میں بھی شرکت کی، جہاں ڈیجیٹل صحت، روایتی طریقۂ علاج، تغذیاتی تحفظ اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ سے متعلق ہندوستان کے مختلف اقدامات کی نمائش کی گئی۔

برکس کے  وزرائے صحت کے اعلامیے کی منظوری

اجلاس کا ایک اہم ترین نتیجہ 16ویں برکس وزرائے صحت کے اعلامیے کی متفقہ منظوری  ہے، جو برکس ممالک کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور مضبوط، منصفانہ اور عوام پر مرکوز صحت کے نظام کو مستحکم بنائیں گے۔

اعلامیے میں رکن ممالک نے جامع صحت کی سہولتوں کو فروغ دینے، وباؤں کی روک تھام، تیاری اور مؤثر  کارروائی  کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل صحت کو فروغ دینے، ضابطہ جاتی تعاون کو وسعت دینے، مشترکہ تحقیق میں اضافہ کرنے، متعدی اور غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے، دماغی صحت اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے، روایتی طریقۂ علاج کو مستحکم بنانے، اور سستی ادویات، ویکسین، تشخیصی سہولتوں اور طبی ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

منظور شدہ برکس وزرائے صحت کی اعلامیہ کو  درج ذیل لنک  سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

قومی بیانات اور بہترین تجربات کا تبادلہ

اجلاس کے دوران برکس کے رکن ممالک کے وزرائے صحت اور وفود کے سربراہان نے اپنے اپنے قومی بیانات پیش کیے، جن میں عوامی صحت سے متعلق ترجیحات، نمایاں کامیابیاں اور پالیسی اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔رکن ممالک نے مضبوط صحت کے نظام کی تعمیر، جامع صحت کی سہولتوں کے فروغ، وباؤں کی روک تھام، تیاری اور مؤثر کارروائی  کو بہتر بنانے، ڈیجیٹل صحت کو فروغ دینے، معیاری اور کم لاگت طبی خدمات تک رسائی بڑھانے، نیز تحقیق، اختراع اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔متعدد وفود نے متعدی اور غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے، بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے، ادویات کے ضابطہ جاتی نظام کو بہتر کرنے اور روایتی طریقۂ علاج کے فروغ کے لیے اپنے اپنے ممالک کی کوششوں اور اقدامات کو بھی پیش کیا۔

رکن ممالک نے برکس ہیلتھ ٹریک کو آگے بڑھانے میں ہندوستان کی قیادت کا خیرمقدم کیا اور اس کی صدارت کے دوران متعین کیے گئے نو ترجیحی شعبوں پر خصوصی توجہ کی بھرپور ستائش کی۔وفود نے برکس ٹی بی ریسرچ نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے، طبی مصنوعات کے ضابطہ جاتی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، بڑے پیمانے پر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور مؤثر کارروائی  کے لیے برکس مربوط ابتدائی انتباہی نظام کو عملی شکل دینے، مسلسل نگہداشت کے لیے ڈیجیٹل صحت کے ڈھانچے کو فروغ دینے  اور صحت مند طرزِ زندگی کے لیے برکس مشن، دماغی صحت کے شعبے میں برکس مراکزِ امتیاز کے نیٹ ورک،  برکس قومی عوامی صحت کے اداروں کے نیٹ ورک اور صحت کے سماجی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے متعلق اقدامات کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون کو مستحکم کرنے کی حمایت کا اظہار کیا۔وفود نے برکس کے مختلف دستاویزات اور عملی فریم ورک کے اجراء کی بھی ستائش کی اور انہیں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم علمی وسائل قرار دیا۔

برکس وزرائے صحت کے 16ویں اجلاس کا کامیاب اختتام شراکت داری، اختراع، مضبوط صحت کے نظام اور پائیدار ترقی کے ذریعے عالمی صحت کے بہتر نتائج کے حصول کے لیے برکس ممالک کے درمیان مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔

******

(ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا)

UR. No-435


(रिलीज़ आईडी: 2288412) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Telugu , English , हिन्दी , Marathi , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Gujarati , Tamil