پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
حکومت نے ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول کی حفاظت، کارکردگی اور قومی فوائد کو اجاگر کیا
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 3:06PM by PIB Delhi
اب تک حکومت نے پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کو 20 فیصد سے زیادہ بڑھانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ایتھنول کی زیادہ مقدار پر مشتمل ملاوٹ سے متعلق مستقبل میں کوئی بھی فیصلہ تفصیلی سائنسی اور تکنیکی مطالعات، نیز تمام متعلقہ فریقوں، بشمول آٹوموبائل مینوفیکچررز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور تحقیقی اداروں سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔لیکن، ای 85 ایندھن، جس میں 85 فیصد ایتھنول اور 15 فیصد پٹرول شامل ہوتا ہے، صرف ان فلیکس فیول گاڑیوں (ایف ایف وی ایس) کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو اس ایندھن کے استعمال کے لیے خاص طور پر تیار اور تصدیق شدہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک بھر میں پٹرول میں ایتھنول کی بنیادی ملاوٹ کی سطح کو 20 فیصد سے زیادہ بڑھا دیا گیا ہے۔
پٹرول میں ایتھنول کی موجودہ مقررہ ملاوٹ کی شرح اور گزشتہ تین برسوں کے دوران حاصل کی گئی اوسط ملاوٹ کی سال بہ سال تفصیلات درج ذیل ہیں۔
|
Ethanol Supply Year
|
Average Blending(%)
|
|
2022-23
|
~12
|
|
2023-24
|
~14.6
|
|
2024-25
|
~19.2
|
|
2025-26 (Nov-June)
|
20
|
ایتھنول کوئی نیا ایندھن نہیں ہے۔ دنیا بھر میں اسے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ برازیل جیسے ممالک میں کئی دہائیوں سے پٹرول میں ایتھنول کی زیادہ مقدار والی ملاوٹ رائج ہے۔بھارت میں ایتھنول بلینڈڈ پٹرول (ای بی پی )پروگرام کو مرحلہ وار، سائنسی بنیادوں پر اور وسیع مشاورتی عمل کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، جس میں نیتی آیوگ، آٹوموبائل مینوفیکچررز، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (اوایم سی )، آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی) سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز(ایس آئی اے ایم ) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرولیم(آئی آئی پی ) اور دیگر تکنیکی اداروں نے حصہ لیا۔
بھارت نے مرحلہ وار پالیسی سازی، متعلقہ فریقوں سے مشاورت، سائنسی جائزوں اور ضروری صلاحیتوں کی ترقی پر دو دہائیوں سے زائد عرصے تک کام کرنے کے بعد، مقررہ ہدف سے پانچ سال پہلے ہی پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملاوٹ کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔سائنسی مطالعات، عملی آزمائشوں اور وسیع پیمانے پر حقیقی استعمال کے تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ای 20 مقررہ معیار اور گاڑی بنانے والی کمپنیوں کی سفارشات کے مطابق استعمال کیے جانے پر ایک محفوظ، زیادہ صاف اور تکنیکی طور پر بہتر ایندھن ہے۔ حکومت کا یہ جائزہ صرف تجربہ گاہوں میں ہونے والی تحقیق پر مبنی نہیں، بلکہ ملک بھر میں اس کے نفاذ کے بعد حاصل ہونے والے وسیع عملی تجربات پر بھی مبنی ہے۔
ای 15+ ملاوٹ شدہ پٹرول گزشتہ ساڑھے تین سال سے زائد عرصے سے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے، جبکہ ای 19-ای 20 (E19-E20) ایندھن ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے استعمال میں ہے۔ اس دوران 20 کروڑ سے زائد دو پہیہ گاڑیاں اور 3 کروڑ سے زیادہ پٹرول کاریں ان ایندھنوں پر چل رہی ہیں، تاہم ایتھنول ملاوٹ کے باعث انجن کی بڑے پیمانے پر خرابی یا گاڑیوں کے ناکارہ ہونے کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔وسیع پیمانے پر حاصل ہونے والا عملی تجربہ بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔ گاڑی بنانے والی کمپنیوں کے سروس ریکارڈ کے مطابق ای 20 ایندھن کے استعمال سے نہ تو غیر معمولی زنگ لگنے، نہ پرزوں کے غیر معمولی گھساؤ اور نہ ہی گاڑیوں کی عمر میں کسی کمی کے شواہد ملے ہیں۔ مزید برآں، گاڑی ساز کمپنیاں ای 20 ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر وارنٹی کی ذمہ داریاں بدستور پوری کر رہی ہیں، جو اس ایندھن کی حفاظت، قابل اعتماد ہونے اور مؤثریت پر مزید اعتماد فراہم کرتا ہے۔
ملک کی سب سے بڑی مسافر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک نے مالی سال 2025–26 کے دوران 2.84 کروڑ گاڑیوں کی سروسنگ کی، جن میں تقریباً 1.5 کروڑ ایسی پرانی گاڑیاں بھی شامل تھیں جو ای 20 (E20) کے لیے تصدیق شدہ نہیں تھیں۔ اس کے باوجود ای 20 ایندھن کے استعمال سے انجن کو نقصان یا پرزوں کے غیر معمولی گھساؤ کا کوئی معاملہ رپورٹ نہیں ہوا۔اسی طرح، دو پہیہ گاڑیاں بنانے والی ایک سرکردہ کمپنی نے بھی اپنے وسیع سروس ریکارڈ کی بنیاد پر بتایا ہے کہ ای 20 ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں میں، پہلے استعمال ہونے والے ایندھنوں کے مقابلے میں، نقصان یا خرابی کے واقعات میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
حکومت کو ای 20 ایندھن کے استعمال کے باعث گاڑیوں کی مائلیج میں نمایاں کمی، رفتار پکڑنے میں سستی یا پٹرول ٹینک میں زنگ لگنے کے حوالے سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں، آٹوموبائل انجمنوں یا صارفین کی تنظیموں کی جانب سے کوئی بڑے پیمانے پر یا مصدقہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔البتہ، حکومت نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بعض خدشات کا نوٹس لیا ہے، جن کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا ہے۔
نیتی آیوگ ، آئی او سی ایل ، اے آر اے آئی ، آئی آئی پی اور ایس آئی اے ایم کی بین وزارتی کمیٹی جانب سے کیے گئے وسیع پیمانے پر لیبارٹری تجربات اور عملی آزمائشوں سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ ای 20 ایندھن نہ تو غیر معمولی گھساؤ کا باعث بنتا ہے اور نہ ہی گاڑیوں کے پرزوں یا نظام کے ساتھ مطابقت کے مسائل پیدا کرتا ہے۔
جہاں تک مائلیج کا تعلق ہے، سرکاری اداروں اور آٹوموبائل ساز کمپنیوں کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایندھن کی کارکردگی کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، جن میں سڑک اور ڈرائیونگ کے حالات، ڈرائیونگ کا انداز اور گاڑی کی دیکھ بھال شامل ہیں۔ای 10 کے لیے تیار کی گئی بعض گاڑیوں میں ای 20 ایندھن استعمال کرنے سے فیول اکانومی میں ممکنہ کمی عموماً 3 سے 5 فیصد تک محدود رہتی ہے، جبکہ ای 20 زیادہ آکٹین ریٹنگ، بہتر اینٹی ناک خصوصیات، زیادہ صاف احتراق اور انجن کی زیادہ ہموار کارکردگی فراہم کرتا ہے۔
آٹوموبائل ساز کمپنیاں، پرزہ جات فراہم کرنے والے ادارے، ایس آئی اے ایم، اے آر اے آئی ٹیسٹنگ ایجنسیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں،ای 20 کی سائنسی جانچ اور مرحلہ وار نفاذ کے ہر مرحلے میں شامل رہی ہیں۔ای 20 کو صرف اس وقت نافذ کیا گیا جب فیول سسٹم، انجن کی پائیداری، گاڑی کی کارکردگی، پرزوں کے مناسب مطابقتی معیار اور اخراجی کارکردگی کی کامیاب جانچ مکمل ہو گئی۔ ان مطالعات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پرانی گاڑیوں کی کارکردگی پر ای 20 کے استعمال سے کوئی نمایاں منفی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی ان میں غیر معمولی گھساؤ یا خرابی کے شواہد ملے ہیں۔
ایس آئی اے ایم، اے آر اے آئی کے مطابق، ای 20 ایندھن گاڑی کی رفتار پکڑنے کی صلاحیت اور سفر کے معیار کو بہتر بناتا ہے، جبکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی لاتا ہے۔ایتھنول کی زیادہ آکٹین ریٹنگ جدید ہائی کمپریشن انجنوں کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ ہیٹ آف ویپورائزیشن احتراق (کمبسچن) کی کارکردگی میں مزید بہتری پیدا کرتی ہے۔
ای 20 کی جانب منتقلی سے ملک کو نمایاں قومی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ ایتھنول بلینڈڈ پٹرول پروگرام کے تحت اب تک 1.97 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے، تقریباً 316 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل کے استعمال کا متبادل فراہم کیا گیا ہے، قریب 952 لاکھ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کے اخراج میں کمی آئی ہے، جبکہ کسانوں کو 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم منتقل کی جا چکی ہے۔
حکومت کی پالیسی قومی بایو فیول پالیسی اور بھارت کے توانائی تحفظ اور اخراج میں کمی کے اہداف کے مطابق مرحلہ وار صاف، زیادہ مؤثر اور ماحول دوست ایندھن کی جانب منتقلی کو فروغ دینا ہے۔
ای 20 کی جانب منتقلی مرحلہ وار، مشاورتی عمل اور سائنسی توثیق کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔ اس سے قبل آٹوموبائل ساز کمپنیوں، ایس آئی اے ایم، اے آر اے آئی ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کی گئی۔نفاذ سے قبل میٹریل کمپیٹیبلٹی ،انجن کی پائیداری،فیول سسٹمز، ڈرائیویبلٹی ،اخراج اور کارکردگی کا جامع جائزہ لیا گیا۔
وسیع پیمانے پر آزمائش، سائنسی توثیق اور آٹوموبائل صنعت کی منظوری کے بعد ای 20 (E20) ایندھن کو اختیار کیا گیا ہے، اس لیے ای 0 (E0) یا ای 10 (E10) پٹرول کی طرف واپس جانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ عوامی پالیسی کا مقصد بہتر معیار کے ایندھن کی جانب پیش رفت کرنا ہے، نہ کہ کم معیار کے ایندھن کی طرف واپس لوٹنا۔
ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ای 0، ای 10 اور ای 20 پٹرول کی الگ الگ سپلائی چین برقرار رکھنے سے لاجسٹکس کی پیچیدگیاں، ذخیرہ اندوزی اور ایندھن کی ترسیل و ہینڈلنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ عوامی پالیسی میں صارفین کی سہولت کے ساتھ ساتھ توانائی کے تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور کسانوں کی فلاح کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
چونکہ صاف ستھرے اور سائنسی طور پر تصدیق شدہ ایندھن کو اختیار کیا جا چکا ہے، اس لیے پالیسی کا مقصد بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، نہ کہ کم معیار کے ایندھن کی طرف واپس جانا۔
پبلک شعبے کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں(او ایم سی) نے صارفین کی شکایات اور تجاویز کے اندراج، جانچ اور ازالے کے لیے مؤثر شکایتی ازالہ نظام قائم کر رکھا ہے، جس میں ای 20 ایندھن سے متعلق شکایات بھی شامل ہیں۔صارفین اپنی شکایات یا تجاویز متعدد آن لائن اور آف لائن ذرائع سے درج کرا سکتے ہیں، جن میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر موجود شکایت و تجویز رجسٹر، مخصوص ٹول فری کسٹمر کیئر نمبر، کمپنیوں کی ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز، کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ (سی آرایم) سسٹم، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ای میل اور سینٹرلائزڈ پبلک گریوینس ریڈریسل اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی پی جی آر اےایم ایس) شامل ہیں۔شکایات کے فوری ازالے کے لیے تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ڈیلروں اور متعلقہ فیلڈ افسران کی رابطہ معلومات نمایاں طور پر آویزاں کی جاتی ہیں۔ ان تمام ذرائع سے موصول ہونے والی شکایات کی مقررہ طریقہ کار کے مطابق جانچ کی جاتی ہے اور انہیں طے شدہ مدت کے اندر نمٹا دیا جاتا ہے۔
صارفین میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف عوامی بیداری مہمات بھی چلائی جاتی ہیں، تاکہ انہیں یہ بتایا جا سکے کہ ای 20 (E20) ایندھن تمام پٹرول گاڑیوں کے ساتھ تکنیکی طور پر مطابقت رکھتا ہے اور اس کے استعمال سے کارکردگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ ایتھنول ملاوٹ کے ماحولیاتی فوائد اور توانائی کے تحفظ میں اس کے کردار سے بھی عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے۔شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے موصول ہونے والے صارفین کے تاثرات کا او ایم سی باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہیں، اور جہاں ضرورت ہو وہاں مناسب اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں، تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رہے اور ایتھنول بلینڈڈ پٹرول (ای بی پی) پروگرام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
یہ معلومات پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیرمملکت جناب سریش گوپی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں
***
(ش ح۔ش آ۔ ت ع)
UN No: 438
(रिलीज़ आईडी: 2288389)
आगंतुक पटल : 10