صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدرجمہوریہ ہند کا شمالی مقدونیہ کا دورہ؛ انہوں نے شمالی مقدونیہ کے صدر کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی اور وفود کی سطح پر مذاکرات کی قیادت کی
اقتصادی تعاون، بھارت اور شمالی مقدونیہ کے دو طرفہ تعلقات کا ایک نہایت اہم ستون ہے: صدرجمہوریہ دروپدی مرمو
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 4:32PM by PIB Delhi
صدرجمہوریہ ہند، محترمہ دروپدی مرمو، گزشتہ شام (20 جولائی 2026) مالدووا، شمالی مقدونیہ اور رومانیہ کے سرکاری دوروں کے دوسرے مرحلے کے تحت شمالی مقدونیہ کے دارالحکومت اسکوپیے پہنچیں۔ یہ کسی بھی بھارتی صدر کا شمالی مقدونیہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
اسکوپیے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال شمالی مقدونیہ کے وزیر خارجہ و غیر ملکی تجارت ٹمچو مکونسکی نے کیا۔
اس سرکاری دورے میں صدر جمہوریہ کے ہمراہ صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی مرکزی وزیر مملکت نیموبین جینتی بھائی بمبھانیا اور ارکانِ پارلیمنٹ ڈاکٹر دنیش شرما اور جناب وجے بگھیل بھی موجود ہیں۔
آج (21 جولائی 2026) صدرِجمہوریہ نے اپنے دورے کی سرگرمیوں کا آغاز شمالی مقدونیہ کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر ولا وودنو کے دورے سے کیا۔ وہاں جمہوریہ شمالی مقدونیہ کی صدر محترمہ ڈاکٹر گوردانا سلیانووسکا-داوکووا نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہیں رسمی خیرمقدمی تقریب اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان انفرادی ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران دو طرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ جمہوری اقدار اور باہمی احترام پر مبنی گہرے اور دوستانہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ بھارت اور شمالی مقدونیہ کے دوطرفہ تعلقات میں اقتصادی تعاون نہایت اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات، زراعت، غذائی اشیا کی پراسیسنگ، دواسازی، ٹیکسٹائل، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، سیاحت، مہمان نوازی اور فلم سازی سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔
صدرجمہوریہ نے کہا کہ ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات ہمیشہ سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے مضبوط ترین ستونوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ تخلیقی صنعت کے شعبے میں تعاون ثقافتی تبادلوں کا ایک اہم پہلو ہے۔
صدر نے کہا کہ بھارت انٹر نیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے)، کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر (سی ڈی آر آئی) اور گلوبل بائیو فیولز الائنس جیسے اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے ان اقدامات میں شامل ہونے کے لیے شمالی مقدونیہ کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان عالمی اقدامات میں شمولیت سے شمالی مقدونیہ قابل تجدید توانائی کے فروغ اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے عالمی بہترین تجربات اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھا سکے گا۔
صدرجمہوریہ نے شمالی مقدونیہ کے لیے انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹی ای سی)پروگرام کے تحت تربیتی نشستوں کی تعداد، بشمول مصنوعی ذہانت (اےآئی) سے متعلق کورسز، دوگنا کرنے کے بھارت کے فیصلے کا اعلان کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ دورہ بھارت اور شمالی مقدونیہ کے کثیر جہتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گا اور آنے والے برسوں میں اسے نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
North Macedonia Press Statement English in pdf
***
(ش ح ۔ ش آ۔ م ذ)
U.No: 253
(रिलीज़ आईडी: 2287205)
आगंतुक पटल : 15