صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریۂ ہند کا مالدووا کا دورہ، صدر مالدووا سے دوطرفہ ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 4:28PM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو پیر کی صبح مالدووا کے دارالحکومت کیشیناوپہنچ گئیں۔ یہ ان کے مالدووا، شمالی مقدونیہ اور رومانیہ کے سرکاری دورے کا پہلا مرحلہ ہے۔کسی بھی ہندوستانی صدر جمہوریہ کا مالدووا کا یہ پہلا دورہ ہے۔

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کے اس سرکاری دورے میں صارفین کے امور، خوراک اور عوامی نظام تقسیم کی وزارت کی وزیر مملکت محترمہ نیموبین جینتی بھائی بمبھانیہ، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر دنیش شرما اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ جناب وجے بگھیل بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

کیشیناو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آمد کے موقع پر صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کا استقبال جمہوریہ مالدووا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ جناب میہائی پوپسوئی نے کیا۔
اس کے بعد صدر جمہوریہ نے صدارتی محل کا دورہ کیا، جہاں جمہوریہ مالدووا کی صدر محترمہ مایا ساندو نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر انہیں رسمی استقبالیہ اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں دونوں صدور کے درمیان پہلے ایک علیحدہ ملاقات ہوئی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات منعقد ہوئے۔ ان ملاقاتوں میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ شراکت داری کے تمام شعبوں پر تعمیری، مثبت اور مستقبل پر مبنی تبادلۂ خیال کیا۔

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ کسی بھی ہندوستانی صدر کا مالدووا کا یہ پہلا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے اور یہ ہندوستان اور مالدووا کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان اور مالدووا کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر واقع ہیں، تاہم امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے مشترکہ عزم کی بنیاد پر ان کی شراکت داری مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔

صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی تعاون ہندوستان اور مالدووا کی شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ، مضبوط اور پائیدار سپلائی چین کی تشکیل، رابطہ کاری کو بہتر بنانے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر جمہوریہ نے مالدووا کے پیشہ ور افراد کے لیے ہندوستانی تکنیکی و اقتصادی تعاون (آئی ٹی ای سی) پروگرام کے تحت تربیتی نشستوں کی تعداد دوگنا کرنے کے ہندوستان کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان نشستوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے متعلق خصوصی کورسز بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے مالدووا کے سفارت کاروں کو بھی ہندوستان کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سفارت کاری سے متعلق خصوصی کورسز میں شرکت کے لئے مدعو کیا۔
دونوں رہنماؤں نے زراعت، لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچے، صحت اور دواسازی، قابل تجدید توانائی، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ، مصنوعی ذہانت اور اختراعات سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کے قیام کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔
بعد ازاں دونوں صدور نے ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیانات جاری کیے۔ (صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو کے پریس بیان کا متن منسلک ہے۔)
انگریزی میں صدرجمہوریہ کاپریس بیان دیکھنےکےلئےیہاں کلک کریں
************
ش ح۔ک ح ۔ م ا
U. No. 192
(रिलीज़ आईडी: 2286676)
आगंतुक पटल : 18