زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شیوراج سنگھ چوہان کے ہاتھوں آئی سی اے آر کے 98 ویں یوم تاسیس کے موقع پر وکست بھارت 2047 کو عملی جامہ پہنانےکے واسطے وکست کرشی اور خوشحال کسانوں سے متعلق جرات مندانہ ویژن کی نقاب کشائی


ہندوستان کے کسانوں کو بااختیار بنانے کے واسطے فصلوں کی 43 نئی اقسام ، 17 ٹیکنالوجی اور 14 اشاعتوں کا اجراء: شیوراج سنگھ چوہان

مرکزی وزیر زراعت نے 100 ملین کسانوں کے لیے 100 کلائمیٹ اسمارٹ ولیج اور آئی سی اے آر ٹیکنالوجی کا ہدف مقرر کیا

'ون انسٹی ٹیوٹ-ون گرانڈ انوویشن':شیوراج سنگھ چوہان نے آئی سی اے آر کےہر انسٹی ٹیوٹ کی طرف سےانقلابی پہل پر زور دیا

شیوراج سنگھ چوہان نے جعلی بیجوں اور جراثیم کش ادویات کے خلاف سخت قوانین پر زور دیا ، کھیتوں کے آخری میل تک تحقیق کی تیزی سے فراہمی پرزور دیا

آئی سی اے آر کااوپن ڈجیٹل نالج پلیٹ فارم  ہر کسان کے موبائل تک مفت سائنسی ایڈوائزری اور ٹیکنالوجی پہنچائے گا: شیوراج سنگھ چوہان

نئی ویکسین ، فصلوں کی بہتر اقسام اور جدید ٹیکنالوجی سے  زراعتی خود کفالت کی طرف ہندوستان کے سفر کو تقویت ملے گی:شیوراج سنگھ چوہان

प्रविष्टि तिथि: 16 JUL 2026 8:37PM by PIB Delhi

انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کا 98 واں یوم تاسیس آج بھارت رتن سی سبرامنیم آڈیٹوریم ، این اے ایس سی کمپلیکس ، نئی دہلی میں منایا گیا ۔  یوم تاسیس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر  شیوراج سنگھ چوہان نے وکست بھارت 2047 کے کلیدی ستون کے طور پر 'وکست کرشی اور سمردھ کسان' کے لیے جامع روڈ میپ پیش کیا ۔

وزیر موصوف نے 100 کلائمیٹ اسمارٹ ولیج کی ترقی اور آئی سی اے آر ٹیکنالوجی 100 ملین کسانوں تک  پہنچنے کو یقینی بنانے کے واسطے ، 'ون انسٹی ٹیوٹ-ون گرانڈ انوویشن' متعارف کرانے ، آئی سی اے آر اوپن ڈیجیٹل نالج پلیٹ فارم قائم کرنے، جعلی بیجوں اور جراثیم کش ادویات کے خلاف قوانین کو مضبوط کرنے ، اور اختراع اور ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن کے ذریعے آئی سی اے آر کو مالی طور پر خود کفیل بنانے سمیت متعدد اہداف کا اعلان کیا ۔  انہوں نے پہلی بار آئی سی اے آر کے 150 سے زیادہ ملازمین کی خدمات کو مستقل کرنے پر خوشی کا بھی اظہار کیا ۔

1.jpg

کسان روح  کی مانندہیں ،جبکہ سائنسدان دماغ ہیں

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یوم تاسیس محض ایک یادگاری موقع نہیں ہے بلکہ سائنسدانوں کی ان نسلوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع  ہے جن کی لگن سے فقدان کو خود کفالت اور چیلنجوں کو حل میں تبدیل کر دیاگیا۔

کسانوں اور سائنسدانوں کے درمیان شراکت داری کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، "اگر کسان زراعت کی روح ہیں تو سائنسدان اس کا دماغ ہیں ۔  ہمارے کھیتوں میں تب ہی معجزےنمودار ہوتے ہیں جب حکومتی پالیسی ، کسانوں کی محنت اور سائنسی قابلیت ساتھ مل کر کام کریں ۔  انہوں نے ہندوستان کی مضبوط زراعتی بنیاد کی تعمیر میں بھرپورتعاون کو تسلیم کرتے ہوئے متعدد نامور زراعتی سائنسدانوں اور آئی سی اے آر کےسابق رہنماؤں کو جذباتی انداز میں یاد کیا ۔

2.jpg

150 سے زائد ملازمین کومستقل ملازمت کے تقرری نامےتفویض

مرکزی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آئی سی اے آر کے 150 سے زیادہ ملازمین کو پہلی بار مستقل تقرری دی گئی ہے ۔  اسے ایک دیرینہ نا انصافی کی اصلاح قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے آئی سی اے آر کنبہ نے ان ملازمین کو آخر کار ان کی جائز پہچان حاصل کرتے ہوئے دیکھ کر خوشی اور جذباتی اطمینان کا اظہار کیا ۔  انہوں نے تمام نئے ملازمین کو مبارکباد دی اور اسے تنظیم کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا ۔

پیداوار سے پرے:معیار پر توجہ دینے کا وقت

اناج ، باغبانی ، دودھ اور ماہی پروری کی پیداوار میں ہندوستان کی قابل ذکر ترقی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کسی بھی  لاپرواہی سےمتنبہ کیا ۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی زراعتی ترقی کے اگلے مرحلے کو بہتر صحت عامہ اور عالمی منڈیوں میں مضبوط مسابقت کو یقینی بنانے کے واسطے "مقدار سے زیادہ معیار" کے اصول سے رہنمائی لینی چاہیے ۔  النینو اور آب و ہوا کی تبدیلی سے درپیش چیلنجوں کا ذکر کرے ہوئے انہوں نے آب و ہوا کے لحاظ سے مستحکم زراعت ، ضلع سے متعلق منصوبہ بندی اور زرعی رسک مینجمنٹ پر تیزی سے کام کرنے پر زور دیا ۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نئی عالمی منڈیوں اور تجارتی معاہدوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے ، جس سے اعلی معیار ، برآمد پر مبنی اور صحت بخش زرعی مصنوعات تیار کرنا لازمی ہو گیا ہے ۔

3.jpg

مرکزی وزیر کی طرف سے سات اہم اہداف کااعلان

1. 100 کلائمیٹ اسمارٹ ولیج کی ترقی

جناب  شیوراج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ آئی سی اے آر کا100 واں سال مکمل ہونے سےقبل ، تنظیم اور اس کے اداروں کو مشترکہ طور پر کم از کم 100 کلائمیٹ اسمارٹ ولیج تیار کرنے چاہئیں ۔  یہ گاؤں آب و ہوا کے لحاظ سے مستحکم زراعت ، مربوط کاشتکاری کے نظام ، پانی اور مٹی کے تحفظ ، اور خطرے میں کمی کے عملی ماڈلز کا مظاہرہ کرنےوالے ہوں  گے تاکہ کسانوں کو بدلتےہوئے آب و ہوا کے حالات کے مطابق کامیابی سے ڈھالنے میں مدد ملے ۔

2. ون انسٹی ٹیوٹ-ون گرانڈ انوویشن

آئی سی اے آر کے تمام اداروں کے لیے واضح ہدف مقرر کرتے ہوئے ، وزیر موصوف نے کہا کہ ہر ادارے کو "ون انسٹی ٹیوٹ-ون گرانڈ انوویشن" پہل کے تحت اگلے دو سالوں کے اندر کم از کم ایک انقلابی اختراع فراہم کرنا چاہیے ۔  یہ اختراع  فصل کی نئی قسم ، ویکسین ، ڈیجیٹل ٹول یا آب و ہوا کے لحاظ سے اسمارٹ زراعتی حل ہو سکتا ہے جو ایک اہم قومی اثر پیدا کرنے اور کسانوں کی زندگیوں میں ٹھوس بہتری لانے میں مددگار ہو ۔

3. آئی سی اے آر کی ٹیکنالوجی کی 100 ملین کسانوں تک فراہمی

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ آئی سی اے آر کے صد ی سال تک تنظیم کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی سائنسی ٹیکنالوجی ، اختراعات اور جدید زراعتی حل ملک بھر کے کم از کم 10 کروڑ کسانوں تک پہنچیں ۔  انہوں نے اسے وکست بھارت 2047 کے تحت وکست کرشی اور سمردھ کسان کے وژن کو پورا کرنے کی سمت میں سب سے اہم سنگ میل قرار دیا ۔

4. "مشن آئی سی اے آر-100" اور کرشی وگیان کیندروں کا نیا رول

وزیر موصوف نے تجویز پیش کی کہ اگلے دو سالوں کو "مشن آئی سی اے آر-100" کے طور پر منایا جائے ۔  مشن کے تحت ، کرشی وگیان کیندر کو تربیتی مراکز سے آگے اختراعی مراکز ، ماحولیاتی مشاورتی مراکز ، اسٹارٹ اپ  کےسپورٹ مراکز اور کسانوں کے لیے ٹیکنالوجی کی نمائش کے مراکز کے طور پر تیار ہونا چاہیے ۔  انہوں نے کسانوں کے درمیان آئی سی اے آر کا یوم تاسیس منانے کے لیے پندرہ دن تک چلنے والے ملک گیر آؤٹ ریچ پروگرام کی تجویز پیش کی ، جس کے دوران ہر کے وی کے کو بڑے پیمانے پر آئی سی اے آر کی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی نمائش کرنے کے لیے کم از کم 100 گاؤں کا دورہ کرنا چاہیے ۔

5. آئی سی اے آر کااوپن ڈیجیٹل نالج پلیٹ فارم

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آئی سی اے آر ٹیکنالوجی ، سائنسی ایڈوائزری اور انسٹرکشنل ویڈیو کو کسانوں کے موبائل فون پر مفت قابل رسائی بنانے کے لیے آئی سی اے آر اوپن ڈیجیٹل نالج پلیٹ فارم بنانے کی تجویز پیش کی ۔  ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے موبائل-فرسٹ اپروچ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اسمارٹ فون کے ذریعے اپنے کھیتوں سے براہ راست مٹی کی جانچ کی رہنمائی ، فصلوں سے متعلق مشورے ، موسم کی پیشن گوئی اور مارکیٹ کی معلومات حاصل کرنے پرقادر ہونا چاہیے ۔

6. جعلی بیجوں اور جراثیم کش ادویات کے خلاف سخت قوانین

جعلی اور غیر معیاری زراعتی معلومات کے بارے میں کسانوں کی وسیع شکایات کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے جعلی بیجوں اور جراثیم کش ادویات کے خلاف سخت قانونی دفعات پر زور دیا ۔  انہوں نے سائنسدانوں سے اپیل کی کہ وہ فیلڈ سطح کی آسان ٹیکنالوجی اور تشخیصی آلات تیار کریں جن سے کسان بیجوں اور جراثیم کش ادویات کے معیار کی فوری تصدیق کرنے پرقادر ہوں ، اس طرح انہیں دھوکہ دہی سے بچایا جائے گا اور فصلوں کے نقصانات کو کم کیا جا سکے گا ۔

4.jpg

7. 2029 تک 10,000 کروڑ روپے کے اندرونی وسائل پیدا کرنے کا ہدف

جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ آئی سی اے آر کو مکمل طور پر سرکاری فنڈنگ پر اپنا انحصار بتدریج کم کرنا چاہیے اور اپنی ٹیکنالوجی، فصلوں کی اقسام ، ویکسین اور لائسنسنگ کے اقدامات کے ذریعے مالی طور پرخود مختار ہونا چاہیے ۔  انہوں نے 2029 تک 10,000 کروڑ روپے کے داخلی وسائل پیدا کرنے کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ، جبکہ  یہ یقین دلایا کہ اختراع کے ذریعے ادارہ جاتی خود انحصاری پیدا کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ حکومتی تعاون جاری رہے گا ۔

زراعتی خود کفالت کو مضبوط بنانے کے واسطےنئی اقسام ، ویکسین اور ٹیکنالوجی

آئی سی اے آر کے یوم تاسیس کی تقریبات میں فصلوں کی 43 نئی اقسام ، 17 ٹیکنالوجی/مصنوعات ، اور 14 اشاعتوں کا اجراء عمل میں آیا، جن میں زیادہ پیداوار دینے والی اور بیماری سے مزاحم فصلوں کی اقسام ، غذائیت سے بھرپور فصلیں ، مویشیوں اور ماہی پروری کے لیے ویکسین ، اور ڈیجیٹل زراعتی حل شامل ہیں ۔  پیر اور منہ کی بیماری اور جانوروں کی دیگر بڑی بیماریوں پر قابو پانے میں آئی سی اے آر کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ  چوہان نے کہا کہ بیجوں ، کھادوں اور جانوروں کی صحت میں خود کفالت مقامی ویکسین ، فصلوں کی بہتر اقسام اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کی جائے گی ۔  اس موقع پر 70 سے زیادہ مفاہمت ناموں اور ٹیکنالوجی لائسنسنگ  کےمعاہدوں پر بھی دستخط ہوئے ، جن کا مقصد نجی شعبے اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ تال میل کے ذریعے کسانوں کو آئی سی اے آر  کےاختراعات کی منتقلی کو تیز کرنا ہے ۔

5.jpg

سائنسدانوں کے لیے تحریکی پیغام

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے سائنسی تحقیق کو قومی مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر سائنسدان کی ذمہ داری روزگار سے کہیں زیادہ ہے ۔  بھگوان کرشن کی تعلیمات سے تحریک لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مثالی کارکن پرجوش ، انا سے پاک ، متحمل مزاج  اور دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔  انہوں نے سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ کسانوں کی امنگوں کو اپنا ذاتی مشن بنائیں اور ہندوستان کی زراعت کا کایا پلٹ کرنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت کو بروئے کار لائیں ۔  انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس طرح کی اجتماعی کوششوں سے 2047 تک وکست کرشی اور سمردھ کسان کے وژن کو تبدیل کیا جائےگا ۔

ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری  نیز پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ ، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر اور جناب بھاگیرتھ چودھری ، ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری نیز پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل ، ڈی اے آر ای کے سکریٹری اور آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ اور ایڈیشنل سکریٹری جناب گیانندر ڈی ترپاٹھی نے بھی اجتماع سے خطاب کیا ۔

ملک بھر کے تمام کرشی وگیان کیندروں ، آئی سی اے آر  کےاداروں اور زراعتی یونیورسٹیوں کے سائنسدانوں ، ملازمین ،  طلبہ اورر زراعتی برادری کے ارکان نے ورچوئل طورپر اس پروگرام میں شرکت کی ، جس سے 98 واں یوم تاسیس ہندوستان کے زراعتی تحقیقی ماحولیاتی نظام کا حقیقی معنوں میں ملک گیر جشن بن گیا ۔

****

 

ش ح۔م ش ع۔ ش ا

U. NO.: 61


(रिलीज़ आईडी: 2285634) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Malayalam , English , हिन्दी , Bengali , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu