ٹیکسٹائلز کی وزارت
مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل نے بھارت ٹیکس 2026 کا افتتاح کیا؛ بھارت کی سب سے بڑی عالمی ٹیکسٹائل نمائش ریکارڈ بین الاقوامی شرکت کے ساتھ شروع ہوئی
بھارت ٹیکس 2026 — جہاں بھارت کا ٹیکسٹائل وژن عالمی تجارتی عزائم سے ہم آہنگ ہوتا ہے
प्रविष्टि तिथि:
14 JUL 2026 7:24PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل، جناب گری راج سنگھ نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارت کی ممتاز عالمی ٹیکسٹائل تقریب، "بھارت ٹیکس 2026" کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی ریکارڈ بین الاقوامی شرکت کے حامل دنیا کے سب سے بڑے مربوط ٹیکسٹائل ویلیو چین ایونٹ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ بھارت ٹیکس ٹریڈ فیڈریشن (بی ٹی ٹی ایف) کی جانب سے، حکومت ہند کی وزارت ٹیکسٹائل کے تعاون سے منعقد کیے جانے والے "بھارت ٹیکس 2026" میں 130 سے زائد ممالک سے 6,000 سے زیادہ خریدار، 1.3 لاکھ سے زائد تجارتی زائرین، 16 لاکھ مربع فٹ سے زیادہ رقبے پر محیط نمائشی جگہ، اور 20,000 سے زائد ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں۔ یہ تقریب ایک بار پھر اس حقیقت کی توثیق کرتی ہے کہ بھارت عالمی سطح پر قابل اعتماد سورسنگ منزل اور مضبوط، پائیدار اور اختراع پر مبنی ٹیکسٹائل ویلیو چین میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر مملکت برائے ٹیکسٹائل، جناب پبیترا مارگریٹا؛ وزارت ٹیکسٹائل کی سکریٹری، محترمہ نیلم شامی راؤ؛ حکومت ہند کے سینیئر حکام؛ بھارت ٹیکس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین، جناب نرین گوئنکا؛ شریک چیئرمین، جناب بھدریش ڈوڈیا؛ شراکت دار ریاستوں کے وزراء اور حکام؛ عالمی خریدار؛ سورسنگ کے سربراہان؛ صنعتی رہنما؛ برآمد کنندگان؛ سرمایہ کار اور بین الاقوامی ٹیکسٹائل ماحولیاتی نظام سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی۔
بھارت ٹیکس کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی شناخت کی عکاسی کرتے ہوئے، افتتاحی تقریب میں روسی فیڈریشن کے وزیر زراعت، ٹیمور گاوایف کی قیادت میں روسی وزارتی وفد نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ مارک پیٹرسن، جو نیوزی لینڈ کے ایسوسی ایٹ وزیر برائے زراعت اور وزیر برائے دیہی برادریاں ہیں، کی قیادت میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر اور وزارتی وفد نے بھی شرکت کی۔ اس سے یہ بات مزید مستحکم ہوئی کہ یہ تقریب عالمی تجارت اور پالیسی سے متعلق مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہی ہے۔
اس ایڈیشن کے حقیقی قومی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، اس تقریب میں آٹھ اسپانسر ریاستیں، مدھیہ پردیش، بہار، اتر پردیش، پنجاب، مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک اور تمل ناڈو شریک ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نو شریک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، آندھرا پردیش، آسام، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر، اڈیشہ، منی پور، راجستھان اور مغربی بنگال نے بھی اپنی صنعتی بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری کے مواقع اور پالیسی معاونت کی نمائش کی۔
اس تقریب میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ، جناب بھگونت مان، اور بہار کی وزیر برائے صنعت، محترمہ شریاسی سنگھ نے بھی شرکت کی۔ تمل ناڈو کی جانب سے وزیر برائے ہینڈلوم، ٹیکسٹائل اور کھادی، تھرو ایم وجے بالاجی، اور وزیر برائے صنعت، سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارت، محترمہ سیلوی ایس کیرتھانا بھی تقریب میں موجود تھیں۔
مرکز، ریاستوں اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تقریب کے دوران گجرات، اتر پردیش، کرناٹک، مدھیہ پردیش، پنجاب، بہار، مہاراشٹر، تلنگانہ اور تمل ناڈو کے لیے خصوصی اسٹیٹ انویسٹر کنیکٹ سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گجرات اور اتر پردیش کے لیے پی ایم مترا ماسٹر ڈیولپر سیشن بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد حکومتی پالیسیوں کی معاونت کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب کے علاوہ، بھارت ٹیکس 2026 میں 20 سے زائد ممالک کے 350 سے زیادہ مقررین، جن میں بین الاقوامی ماہرین، صنعتی رہنما، سی ای او، پالیسی ساز اور ممتاز ماہرینِ فکر شامل ہیں، مختلف اجلاسوں سے خطاب کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی بین الاقوامی پویلین بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ سرحد پار منظم تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ چار روزہ تقریب کے دوران امریکہ، جاپان، اسپین، برطانیہ، پرتگال، روس، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور میانمار سمیت متعدد ممالک کے صنعتی اور تجارتی وفود کی شرکت متوقع ہے۔ خصوصی دو طرفہ اجلاسوں میں بھارت-امریکہ کپاس شراکت داری، بھارت-نیوزی لینڈ اون کے ماحولیاتی نظام، بھارت-برطانیہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے نفاذ، جاپانی وفد کے ساتھ خصوصی تبادلۂ خیال اور روس کے ساتھ ٹیکسٹائل تعاون جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
بھارت ٹیکس 2026 بھارت کے مکمل ٹیکسٹائل ماحولیاتی نظام کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں ہزاروں تجارتی نمائش کنندگان فائبرز، دھاگے، کپڑے، ملبوسات و فیشن، گھریلو ٹیکسٹائل، تکنیکی ٹیکسٹائل، ہینڈلوم، دستکاری، مشینری اور معاون صنعتوں کی نمائش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تروپور، اچلکرنجی اور احمد آباد جیسے بھارت کے معروف ٹیکسٹائل کلسٹر بھی شامل ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، پرتگال، اسپین، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا، جنوبی افریقہ اور نیپال سمیت 14 ممالک کے بین الاقوامی نمائش کنندگان بھی شریک ہیں۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ادارہ جاتی نمائندگی کے علاوہ ٹرائیڈنٹ، وردھمان ٹیکسٹائلز، آر ایس ڈبلیو ایم، شاہی ایکسپورٹس، کلرجیٹ، اروند، پی ڈی ایس لمیٹڈ اور ستوا جیسے نمایاں صنعتی ادارے بھی اس تقریب کے اہم شراکت دار ہیں۔ چار دنوں پر محیط یہ تقریب تجارت، سرمایہ کاری، پالیسی مکالمے اور بین الاقوامی کاروباری روابط کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جہاں عالمی ٹیکسٹائل ویلیو چین سے وابستہ تمام اہم فریقین ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب گری راج سنگھ نے کہا کہ بھارت ٹیکس صرف تین ایڈیشن کے اندر تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور پالیسی مکالمے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پلیٹ فارم بن چکا ہے، جو بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیت، پالیسی ماحول اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت پر عالمی ٹیکسٹائل صنعت کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے 5F وژن — Farm to Fibre to Factory to Fashion to Foreign کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹیکس بھارتی صنعت کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے اور بین الاقوامی ٹیکسٹائل ویلیو چین میں بھارت کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن گیا ہے۔
بھارت ٹیکس کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کی عکاسی کرتے ہوئے افتتاحی تقریب کے دوران بھارت ٹیکس ٹریڈ فیڈریشن (بی ٹی ٹی ایف) اور پریمیر وژن پیرس کے درمیان ایک لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ پریمیر وژن پیرس دنیا کے ممتاز ٹیکسٹائل اور فیشن سورسنگ پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔ اس معاہدے پر پریمیر وژن ایس اے کے فیشن ڈویژن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر، محترمہ فلورنس روسوں اور بی ٹی ٹی ایف کے چیئرمین، جناب نرین گوئنکا نے جناب گری راج سنگھ کی موجودگی میں دستخط کیے۔ یہ اسٹریٹجک شراکت داری اختراع، پائیداری، ڈیزائن میں مہارت، رجحانات سے متعلق معلومات، خریدار و فروخت کنندہ روابط اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے شعبوں میں بھارت اور یورپ کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے بھارتی مینوفیکچرروں، برآمد کنندگان، ایم ایس ایم ای اور ڈیزائنروں کو معروف بین الاقوامی برانڈ اور فیشن ہاؤسز کے ساتھ روابط استوار کرنے کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
یہ شراکت داری تین اہم شعبوں پر مشتمل ایک فریم ورک قائم کرتی ہے: بھارت ٹیکس اور پریمیر وژن پیرس کے درمیان نمائش کے شعبے میں شراکت داری، یورپی اور عالمی منڈیوں میں بھارتی اور فرانسیسی مینوفیکچرروں کی تشہیر کے لیے مشترکہ برآمدی فروغ، اور عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ اسٹیئرنگ کمیٹی کا قیام۔ توقع ہے کہ اس تعاون سے ادارہ جاتی روابط مضبوط ہوں گے، اہم ٹیکسٹائل تقریبات میں باہمی شرکت بڑھے گی، عالمی بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ ہوگا، پائیدار سورسنگ کو فروغ ملے گا اور بھارتی صنعت اور عالمی فیشن ماحولیاتی نظام کے درمیان کاروباری روابط مزید مستحکم ہوں گے، جس سے بھارت ٹیکس ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ ٹیکسٹائل پلیٹ فارم کے طور پر مزید نمایاں ہوگا۔
اس شراکت داری کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے جناب گری راج سنگھ نے کہا، "یہ شراکت داری بھارت ٹیکس کو ایک حقیقی عالمی پلیٹ فارم کے طور پر قائم کرنے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔ اس سے بھارتی ایم ایس ایم ای، پہلی بار برآمدات کرنے والوں اور مینوفیکچرروں کو یورپ کے ممتاز خریداروں سے رابطے کے مواقع میسر آئیں گے، جبکہ بھارت کی ایک قابل اعتماد، اختراعی اور پائیدار سورسنگ منزل کے طور پر صلاحیتیں بھی اجاگر ہوں گی۔ یہ عالمی ٹیکسٹائل ویلیو چین میں بھارت کے ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کو بھی مزید مضبوط بناتا ہے۔"
آئندہ چار دنوں کے دوران بھارت ٹیکس 2026 میں 100 سے زائد علمی اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں 39 پینل مباحثے، 16 گول میز اجلاس، 37 ماسٹر کلاس اور 8 ریاستی سیشن شامل ہوں گے۔ ان میں 50 سے زیادہ علمی شراکت دار تعاون فراہم کریں گے اور تجارت و سرمایہ کاری، پائیدار ی، انڈسٹری 5.0، اختراع، تکنیکی ٹیکسٹائل، فیشن، پالیسی اور عالمی سورسنگ جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ان اجلاسوں کے ساتھ ساتھ تقریب میں 4,000 سے زائد منتخب B2B ملاقاتیں، 100 سے زیادہ B2G ملاقاتیں، اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، پائیداری اور مارکیٹ تک رسائی سے متعلق 30 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یو) پر دستخط بھی متوقع ہیں، جس سے عالمی ٹیکسٹائل ویلیو چین میں مکالمے کو عملی کاروباری مواقع میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
اس تقریب میں سی آئی ٹی آئی ٹیکسٹائل سسٹین ایبلٹی ایوارڈ 2026 بھی پیش کیے جائیں گے، جن کے ذریعے سات شعبوں میں ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کو سراہا جائے گا: وسائل کا مؤثر استعمال، توانائی اور اخراج، سرکلر اکانومی، پائیدار مواد، سماجی ذمہ داری، ذمہ دار کاروباری طرزِ عمل، اور صنعتی تعاون۔
شرکا کی سہولت کے لیے بھارت ٹیکس 2026 اپنی موبائل ایپ اور پری فیئر ڈائریکٹری کو مربوط ڈیجیٹل کاروباری پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جن کے ذریعے نمائش کنندگان کی تلاش، ملاقاتوں کا شیڈول، تقریب کی رہنمائی، کیو آر (QR) کوڈ کے ذریعے لیڈ کیپچر، ڈیجیٹل بیج تک رسائی، مصنوعی ذہانت پر مبنی معاونت اور پیشگی خریدار و فروخت کنندہ میچ میکنگ جیسی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر اور اعداد و شمار پر مبنی بنایا جا سکے۔
بھارت کی ممتاز عالمی ٹیکسٹائل تقریب کے طور پر بھارت ٹیکس 2026 اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت ایک عالمی سطح پر قابل اعتماد ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ اور سورسنگ مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔ حکومتوں، صنعت، اختراع کاروں، سرمایہ کاروں اور خریداروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرکے یہ تقریب مضبوط، پائیدار اور مستقبل سے ہم آہنگ ٹیکسٹائل ویلیو چینز کی تشکیل میں بھارت کی قائدانہ حیثیت کو مزید مستحکم کرتی ہے اور "وکست بھارت @2047" کے وژن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بھارت ٹیکس 2026 کا تعارف
بھارت ٹیکس 2026 بھارت کی ممتاز عالمی ٹیکسٹائل تقریب ہے، جس کا انعقاد بھارت ٹیکس ٹریڈ فیڈریشن (بی ٹی ٹی ایف) کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ یہ ادارہ ٹیکسٹائل برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسلوں اور صنعتی انجمنوں کا ایک مشترکہ تنظیمی پلیٹ فارم ہے، جسے حکومت ہند کی وزارت ٹیکسٹائل کی معاونت حاصل ہے۔ 14 سے 17 جولائی 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والی یہ تقریب بھارت کی مکمل ٹیکسٹائل ویلیو چین کی جامع نمائش پیش کرتی ہے اور ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں عالمی تجارت، سرمایہ کاری، اختراع، پائیداری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک ممتاز عالمی پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے۔
***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 9944
(रिलीज़ आईडी: 2284650)
आगंतुक पटल : 7