نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نے گہرے  سمندروں میں ماہی گیری کے پائیدار استعمال کے لیے اجازت نامے جاری کرنے کے قومی پروگرام کا آغاز کیا

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ گہرے سمندر بحری سفر میں ایک نئے باب کی نمائندگی کرتے ہیں

نوجوانوں کو  چاہیے کہ وہ ماہی گیری کو سائنس اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے جدید پیشے کے طور پر دیکھیں: نائب صدر جمہوریہ

پائیدار ماہی گیری ایک اخلاقی ذمہ داری ہے؛ ترقی کاتحفظ ماحول کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے: نائب صدر جمہوریہ

بھارت اپنے خصوصی اقتصادی زون اور گہرے  سمندروں کی غیر استعمال شدہ صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے: نائب صدر جمہوریہ

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 1:32PM by PIB Delhi

بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی. پی. رادھا کرشنن نے آج بھونیشور میں  گہرے  سمندروں میں ماہی گیری کے پائیدار استعمال کے لیے اجازت نامے (ایل او اے) جاری کرنے کے قومی پروگرام کا آغاز کیا۔ اس موقع پر نائب صدرجمہوریہ نے اوڈیشہ گہرے سمندر میں ماہی گیری مشن دستاویز بھی جاری کی اور ملک بھر کی دس مچھلی کسان پیداوار کنندہ تنظیموں (ایف پی پی اوز) اور ماہی گیروں کو گہرے سمندروں میں ماہی گیری کے لیے اجازت نامے (ایل او اے) پیش کیے۔

 اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر  جمہوریہ نے کہا کہ مذکورہ  اقدام بھارت کے بحری سفر میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بھارتی ماہی گیروں کو ملک کے خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) اور گہرےسمندروں کی وسیع صلاحیتوں سے پائیدار طریقے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔  نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ یہ پروگرام مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور ماہی گیر برادری کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد ماہی گیری کے شعبے میں ترقی، پائیداری اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔

نائب صدر  جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کے پاس 11 ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی اور تقریباً 24 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط خصوصی اقتصادی زون موجود ہے، جہاں مالا مال سمندری وسائل  موجود ہیں ، لیکن اس کا بڑا حصہ ابھی تک مکمل طور پربروئے کار  نہیں لایا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ روایتی طور پر ماہی گیری کی سرگرمیاں ساحل کے قریب تک محدود رہی ہیں، تاہم  یہ نیا نظام بھارتی ماہی گیروں کو گہرے سمندری علاقوں میں اعتماد کے ساتھ جانے کے قابل بنائے گا اور  وہ ٹونا جیسی زیادہ قدر والی مچھلیوں کے پائیدار شکار کے بھی اہل ہوں گے۔

بھارت کے ماہی گیری کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر  جمہویہ نے کہا کہ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس کا عالمی مچھلی پیداوار میں تقریباً آٹھ فیصد کا حصہ ہے۔  نائب صدرجمہوریہ نے  بتایا کہ ماہی گیری کا  شعبہ تقریباً تین کروڑ ماہی گیروں اور مچھلی کسانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات 73 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا  کہ گہرے  سمندروں سے متعلق یہ اقدام بھارت کی برآمدی صلاحیت کو مزید مضبوطی فراہم کرے گا اور مچھلی کے شکار، پراسیسنگ،کولڈ چین ، نقل و حمل، پیکیجنگ، رسد اور برآمدی خدمات کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ نئے نظام میں اجازت نامے جاری کرنے کے لیے ماہی گیری سے متعلق امدادی تعاون تنظیموں، مچھلی کسان پیداوار کنندہ تنظیموں اور بھارتی ماہی گیروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ساحلی برادریوں کو بااختیار بنانے کی  جانب  ایک اہم قدم قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی کوششیں ماہی گیری کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کا سبب بن  سکتی ہیں۔

پائیدار ماہی گیری کو ایک اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ معاشی ترقی سمندری وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہونی چاہیے۔ انہوں نے ڈیجیٹل اجازت نامہ نظام، کشتیوں کی نگرانی، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم ماہی گیری کے خلاف اقدامات کی سختی سے تعمیل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ نوجوانوں پر اس بات کے لیے زور دیتے ہوئے کہ وہ ماہی گیری کو سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور عالمی مواقع سے وابستہ ایک جدید پیشے کے طور پر دیکھیں، انہوں نے اداروں سے اپیل کی کہ وہ ترقی یافتہ بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت  کی شکل دینے کے لیے  ماہی گیر برادریوں کو علم، ٹیکنالوجی اور مالی مدد فراہم کرتے رہیں۔

اس پروگرام میں اوڈیشہ کے گورنر جناب ہری بابو کمبھمپتی، اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی، مرکزی وزیر برائے ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج جناب راجیو رنجن سنگھ، مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان، مرکزی وزیر مملکت برائے ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل، اوڈیشہ کے ماہی گیری اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای ) کے  وزیر مملکت جناب گوکلانند ملک، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ حکام، ماہی گیری سے متعلق اداروں کے نمائندے، ماہی گیر تنظیموں کے عہدیداران اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔

 

 

 

 

 

 

************

 

 

 ش ح۔ ش م ۔ م ذ

UR. No. 9744


(रिलीज़ आईडी: 2282862) आगंतुक पटल : 28
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Malayalam