وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

انڈونیشیا کی پارلیمنٹ سے وزیر اعظم کا خطاب

प्रविष्टि तिथि: 07 JUL 2026 8:20PM by PIB Delhi

انڈونیشیا کے معزز صدر

محترم نائب  صدر،

محترم اسپیکرس،

پارلیمنٹ کے معزز ارکان

عالی مرتبت خواتین و حضرات،

انڈونیشیا کے میرے عزیز بھائیو اور بہنو،

آپ سب کو نمسکار۔

سلامت سیانگ!

اپنے ’سہابت سیجاتی‘ کے درمیان آکر میں بہت خوش ہوں۔

 

آپ کے درمیان آنا میرے لیے انتہائی خوش قسمتی کی بات ہے۔ میں 140 کروڑ بھارتیوں کے نمائندے کی حیثیت سے اور 'مدر آف ڈیموکریسی' کے ایک خوش قسمت شہری کے طور پر، آپ کو تمام بھارتی کی جانب سے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

معزز ارکان،

انڈونیشیا کے لوگوں نے، یہاں کے بچوں نے، نوجوانوں اور خواتین نے، آج کے دن کو میری زندگی کے سب سے یادگار دنوں میں سے ایک بنا دیا ہے۔ آج صبح جس طرح انڈونیشیا کے لوگوں نے مجھ پر اپنی محبت نچھاور کی ہے، جس طرح میرا استقبال کیا ہے، وہ میں کبھی فراموش نہیں سکتا۔ آج صبح صدر پرابوو نے 'کاپی رائٹ'  کی بات کی تھی۔ میں انہیں یہی کہوں گا کہ اس محبت پر، اس خلوص پر، اس دوستی پر اور اس عزت و احترام پر کسی کا کاپی رائٹ ہو ہی نہیں سکتا۔ صدر پرابوو کے ساتھ میری دوستی کاپی رائٹ کی تمام حدوں سے پرے ہے۔

 

ساتھیو،
آج صبح مجھے انڈونیشیا کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کرنے کی خوش قسمتی بھی حاصل ہوئی۔ میں کروڑوں بھارتیوں کے تئیں انڈونیشیا کے لوگوں کی اس محبت کو، دل سے، کمالِ عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ یہ اعزاز، ہم دونوں ملکوں کی جمہوری اقدار کا ہے، مشترکہ وراثت کا ہے، اور دونوں ملکوں کے مضبوط ہوتے رشتوں کا ہے۔ میں آپ تمام ساتھیوں کا، صدر پرابوو جی کا، انڈونیشیا کی حکومت اور یہاں کے عوام کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

معزز ارکان،

آج بھارت اور انڈونیشیا، تاریخ کے ایک اہم موڑ پر ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ اس صدی کی پہلی چوتھائی گزر چکی ہے، اور اب آنے والے 25 سال ہم دونوں ملکوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ آج انڈونیشیا کی اس عظیم سرزمین پر میں آپ کے سامنے دونوں ملکوں کی مشترکہ ترقی کا یقین لے کر آیا ہوں۔ میں یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ بھارت اور انڈونیشیا مل کر پوری انسانیت کو ایک نئی توانائی سے بھر سکتے ہیں۔

جب بھارت کے 140 کروڑ شہری، انڈونیشیا کے 29 کروڑ شہری، ساجھا کوششوں سے مل کر آگے بڑھیں گے، تو دنیا ایک نئی تاریخ رقم ہوتے ہوئے دیکھے گی۔

بھارت دنیا کا وہ ملک ہے، جو توسیع پسند نہیں، ترقی پسندی کی پالیسی پر عمل کرتا ہے اور اس لیے ہم بھارت میں کہتے ہیں- سب کا ساتھ، سب کا وِکاس۔

آج میں یہی اصول، یہی جزبہ لے کر، انڈونیشیا کے آپ سبھی اراکین پارلیمنٹ کے درمیان آیا ہوں۔

معزز ارکان،

ہماری راجدھانیاں (دارالحکومت) بھلے ہی ہزاروں کلومیٹر دور ہوں، لیکن سمندر میں ہمارے درمیان صرف 150 کلومیٹر کا ہی فاصلہ ہے۔ دوسرے ملکوں میں سمندر بھلے ہی سرحدوں اور دوریوں کی وجہ رہا ہو، لیکن بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان سمندر دوری کی علامت نہیں رہا۔ سمندر ہمارے درمیان ایک پل (سیتو) ہے۔ یہ ہمارے مشترکہ مستقبل کا مرکز ہے۔

بھارت، انڈونیشیا اور بحرِ ہند۔۔۔۔ یہ نام ہمارے باہمی تعلق کی گواہی دیتے ہیں۔ ہزاروں سال تک ہماری بندرگاہیں دنیا کو جوڑتی رہیں۔ ہمارے جہاز، تجارت اور ثقافت کو دور دور تک لے کر گئے۔ ہمارے پاس سمندر سے جڑے مستقبل کے کئی امکانات موجود ہیں۔ اس لیے میں آج سمندر کی اسی وسعت کو بنیاد بنا کر، آپ سے بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی گزارش کروں گا۔

معزز ارکان،

بھارت اور انڈونیشیا صرف سمندر ہی ساجھا نہیں کرتے، ہماری تاریخ بھی مشترک ہے۔ ہمارا تعلق رامائن اور مہابھارت کی وراثت ہے۔ ہمارا تعلق، صدیوں قبل نالندا کے علم سے ہے۔ ہمارا تعلق، وایانگ، رقص اور موسیقی سے ہے۔

ہم بوربودور اور پرمبانن جیسی حیرت انگیز یادگاروں کے ذریعے جڑے ہیں۔ ہم انڈونیشیا کے قومی نشان 'گروڈ'  سے جڑے ہیں۔ ہم 'بالی جاترا' کے تہوار اور اس کے جوش و خروش سے جڑے ہیں۔ اور جب ہم ذائقے کی بات کرتے ہیں تو، 'کروپوک'  اور 'پاپڑ' میں کون زیادہ کُرکرا ہے، یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ 'مصالحہ' اور 'بومبو' ، دونوں ہی ہماری زندگی میں ذائقہ لے کر آتے ہیں۔

 

ساتھیو،

بھارت کے مغربی سرے پر واقع گجرات میری آبائی ریاست ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صدیوں پہلے گجرات سے کچھ تاجر اور صوفی بزرگ سمندر کے راستے ہی انڈونیشیا آئے تھے۔ وہ اپنے ساتھ اسلام کے افکار اور اسلام کی زندگی کی اقدار بھی لے کر یہاں آئے۔ آج بھی گجرات کے 'پٹولا' کپڑے یہاں عزت اور وقار کی علامت ہیں۔ آج بھی انڈونیشیا کی 'باٹک' دستکاری میں ان کا اثر نظر آتا ہے۔

اور اسی لیے ہی صدر سُکرنو نے کہا تھا- ’’انڈونیشیا اور بھارت کے لوگ خون اور ثقافت کے رشتوں سے جڑے ہیں۔‘‘

 

ساتھیو،

ایسا کتنا کچھ ہے، جو ہمارے آباؤ اجداد نے ایک ساتھ جیا ہے۔ ہم لوگوں نے طویل عرصے تک غیر ملکی حکومت کا سامنا کیا۔ ہم دونوں ہی ملک تقریباً ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے۔ انڈونیشیا 1945 میں، اور بھارت 1947 میں! اور، جب ایک آزاد ملک کے طور پر خودمختاری کی بات آئی تو بھارت اقوامِ متحدہ میں انڈونیشیا کی تحریکِ آزادی کی ایک مضبوط آواز بنا۔

اس دور میں،

محترم بیجو پٹنائک جی نے جو کردار ادا کیا جس طرح انہوں نے وزیر اعظم سُتان شہرر اور نائب صدر محمد ہٹّا کو بحفظات بھارت پہنچایا، وہ واقعہ دونوں ہی ممالک کو اور قریب لے آیا۔

معزز ارکان،

ایک اور بات جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے وہ ہے ہماری ہماری مضبوط جمہوریت میں تنوع۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، مدر آف ڈیموکریسی ہے۔ اور، انڈونیشیا دنیا کی تیسری سب سے بڑی جمہوریت ہے۔

بھارت میں سیکڑوں زبانیں اور کئی روایات ہیں، تو انڈونیشیا میں بھی سیکڑوں زبانیں اور کئی روایات ہیں۔ بھارت میں 'وسودھیو کٹمبکم' کا اصول ہے تو انڈونیشیا میں 'بھینیکا تنگل ایکا' کا نظریہ ہے۔ ہم دونوں نے اپنی جمہوریت میں اسی تنوع کو ہی اپنے اتحاد کی بنیاد بنا لیا ہے۔

معزز ارکان

1950میں جب بھارت نے اپنا پہلا یومِ جمہوریہ منایا تھا، تو اس تقریب کے مہمانِ خصوصی بھی صدر سُکرنو ہی تھے، جس کا ذکر معزز اسپیکر صاحب نے کیا۔ اور اس دور میں 'بانڈونگ کانفرنس' میں صدر سوئیکارنو اور وزیر اعظم نہرو نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ آزاد ملکوں کو اپنے فیصلے خود لینے کا حق حاصل ہے۔

معزز ارکان،

جمہوریت کی طاقت کیا ہوتی ہے انڈونیشیا نے یہ ریفارمیسی کے ذریعہ دنیا کو دکھایا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں انڈونیشیا کی معیشت تیزی سے آگے بڑھی ہے اور کروڑوں لوگ غریبی سے باہر آئے ہیں۔

بھارت کا جمہوری تجربہ بھی یہی کہتا ہے۔ آج بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی معیشت ہے۔ اور ہمارے یہاں بھی گذشتہ ایک دہائی میں 25 کروڑ سے زائد بھارتی، غریبی سے باہر آئے ہیں۔

اور اس لیے دوستو،

جب بھارت اور انڈونیشیا ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، تو دنیا کا یہ یقین مضبوط ہوتا ہے کہ جمہوریت موقع دیتی ہے، جمہوریت اعتماد دیتی ہے،

اور جمہوریہ مستقبل بناتی ہے۔ اور مجھے پختہ یقین ہے کہ ہماری یہ جمہوری اقدار اور مشترکہ امنگیں بھارت – انڈونیشیا تعلقات کو نئی بلندوں تک لے جائیں گی۔

معزز ارکان،

ایک ساتھ آزاد ملکوں کی حیثیت سے ہم نے جو سفر شروع کیا تھا اب اس آزادی کے سو سال بھی ہم ایک ساتھ پورے کرنے جا رہے ہیں۔ یہاں انڈونیشیا میں آپ 'انڈونیشیا ایماس 2045' کے پرعزم وژن پر چل رہے ہیں۔ اور بھارت میں ہم 'وِکست بھارت 2047' کا عزم لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اپنے ان اہداف کو حاصل کرنے میں ہم ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں۔

ہم دنیا کے سب سے زیادہ نوجوان معاشروں میں سے ہیں۔ ہم دنیا کی سب سے تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں شامل ہیں۔ ہم دونوں بڑی بحری طاقتیں ہیں۔ ہم گلوبل ساؤتھ کی ایک مضبوط آواز ہیں۔ ہم قدیم تہذیبیں بھی ہیں، اور مستقبل کے لیے فطری شراکت دار بھی ہیں۔

اس سفر میں ہم ایک دوسرے کے شراکت دار بھی بنیں اور طاقت بھی بنیں۔ اسی وژن کو لے کر آج صدر پرابوو کے ساتھ میری تفصیلی گفتگو بھی ہوئی ہے۔ ہمارے مقاصد بالکل واضح ہیں۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان جو خیر سگالی اور اعتماد ہے، ہمیں اسے اپنے شہریوں کے لیے نئے مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔

گزشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت تقریباً 25 ارب ڈالر تک پہنچی ہے۔ بھارت کی سو سے زیادہ کمپنیاں انڈونیشیا میں کام کر رہی ہیں۔ یقیناً ہم ساتھ مل کر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن، آگے ابھی اور بھی لامحدود امکانات ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔

معزز ارکان،

مستقبل کے شعبوں میں بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان لامتناہی آسمان کو چھونے کی صلاحیت موجود ہے۔ مثال کے طور پر، خلائی ٹیکنالوجی۔ آج پوری دنیا خلا میں بھارت کی صلاحیتوں کا لوہا مان رہی ہے۔ اور بھارت اس میں انڈونیشیا کو اپنا فطری شراکت دار مانتا ہے۔

'بیاک' میں سیٹلائٹ ٹریکنگ کی سہولیات، طویل عرصے سے بھارت کے خلائی پروگرام میں تعاون کرتی رہی ہیں۔ بھارت نے بھی انڈونیشیا کے کئی سیٹلائٹ خلا میں بھیجے ہیں، اور صلاحیت سازی میں اپنا تعاون دیا ہے۔ اب اس تعاون کو مزید آگے لے جانے کا وقت ہے۔ سیٹلائٹ ایپلی کیشنز میں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔ بھارت، انڈونیشیا میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کی سہولت تیار کرنے میں بھی تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔

ساتھیو،

ہماری سمندری وراثت کے تحفظ کے لیے ہم 5 ہزار سال پرانے بندرگاہ شہر لوتھل میں نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج  کامپلیکس بنا رہے ہیں۔

میں چاہوں گا کہ انڈونیشیا بھی اس پروجیکٹ کے ساتھ جڑے۔

معزز ارکان،

دہشت گردی جیسے موضوعات پر بھارت اور انڈونیشیا، دونوں کی ایک ہی رائے رہی ہے۔ گزشتہ سال پہلگام میں جب خوفناک دہشت گردانہ حملہ ہوا، تو انڈونیشیا بھارت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ میں اس کے لیے، صدر پرابوو اور آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ہمارے دونوں ملک انسدادِ دہشت گردی پر جوائنٹ ورکنگ گروپ کے ذریعے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس، سائبر خطرات، دہشت گردوں کی فنڈنگ اور انتہا پسندی کے خاتمے جیسے شعبوں میں ہم مزید تعاون بڑھا کر، دنیا میں امن پسند قوتوں کو مضبوطی فراہم کر سکتے ہیں۔

معزز ارکان،

آج عالمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے، اور ایسے میں ہم جیسے ترقی پذیر ملک برابر کی شراکت داری اور اپنے بڑے کردار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس عالمی منظر نامے میں، بھارت کا صاف طور پر ماننا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو اب مزید ٹالا نہیں جا سکتا۔

2022 میں انڈونیشیا کی جی-20 صدارت اور 2023 میں بھارت کی جی-20 صدارت، دونوں نے ترقی پزیر ممالک کی ترجیحات کو عالمی مباحثے کے مرکز میں لانے کی کوشش کی۔

انڈونیشیا کی بے باس – آکٹف کی روایت اور بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کے لیے عہد بستگی عالمی موضوعات پر ہمیں ساتھ کھڑے ہونے کے لیے مضبوط بنیاد دیتی ہیں۔

بھارت ایک آزاد، کھلے اور ہمہ گیر انڈو-پیسیفک کا زبردست حامی ہے۔ بھارت انڈو-پیسیفک میں جہاز رانی کی آزادی کی بات کرتا ہے۔ اس کے لیے ہم نے 'آسیان' کو مرکزی حیثیت میں رکھا ہے۔ ہماری 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' کا مرکز بھی آسیان ہی ہے۔ بھارت اور آسیان کی ہمہ گیر حکمتِ عملی کی شراکت داری مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ بھارت اور انڈونیشیا اس سمت میں مسلسل کام کرتے رہیں۔

معزز ارکان،

ہمارے سامنے ایک اور بڑا موقع ہے۔ گزشتہ سال انڈونیشیا برکس کا مستقل رکن بنا ہے۔ اس سال بھارت ہی برکس کی صدارت کر رہا ہے۔ برکس کا یہ فورم مزید عملی ہو، زیادہ متوازن ہو، اور گلوبل ساؤتھ کی ضروریات کے تئیں مزید حساس ہو،

ہم اس کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔

معزز ارکان،

آج، انڈونیشیا کے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کے سامنے، میں بھارت اور انڈونیشیا کی شراکت داری کے ایک نئے دور کا اعلان کرتا ہوں۔ گنگا اور مہاکام کی لہروں کی طرح، ہماری تہذیبوں نے صدیوں سے افکار، عقیدے، تجارت اور ثقافت کو جوڑا ہے۔ آج، اسی تاریخی بہاؤ کو مستقبل کی نئی توانائی دینے کے لیے، میں آپ سب کے سامنے 'گنگا-مہاکام وژن' پیش کرنا چاہتا ہوں۔

یہ وژن ہماری شراکت داری کو صرف دورِ حاضر کی ضرورتوں تک محدود نہیں رکھتا۔ یہ آنے والی پیڑھیوں کے لیے امن، خوشحالی، تحفظ اور ساجھا ترقی کا راستہ ہموار کرتا ہے۔

پہلا۔۔۔ تہذیبی رابطہ

ہم اپنے تہذیبی تعلق کو نئی نسلوں کے شعور سے جوڑیں گے۔ رامیان سے بوربودور تک، سمندری سفروں سے ثقافتی مکالمے تک — ہم اپنی مشترکہ تاریخ کو مستقبل کی طاقت بنائیں گے۔ اس کے لیے ہمیں بھارت-انڈونیشیا 'تہذیبی مکالمہ' شروع کرنا چاہیے۔

دوسرا۔۔۔ ساجھا ترقی

ترقی یافتہ ملک بننے کے اپنے اپنے سفر میں بھارت اور انڈونیشیا مضبوط شراکت دار رہیں گے۔ انڈونیشیا کا "ایماس" وژن اور بھارت کا ترقی یافتہ بھارت کا عزم — ایک دوسرے کو رفتار دیں گے، ایک دوسرے کو طاقت دیں گے، اور ہمارے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

تیسرا۔۔۔ سلامتی اور اسٹریٹجک اعتماد

ہم دفاعی اور سلامتی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔ ہم اپنی قومی صلاحیتوں کو مضبوط کریں گے، اور دہشت گردی، سائبر خطرات، سمندری چیلنجوں اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کا مل کر سامنا کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کا اسٹریٹجک اعتماد، انڈو-پیسیفک خطے میں استحکام کی ایک مضبوط بنیاد بنے گا۔

چوتھا۔۔۔ سمندری خوشحالی

دو عظیم بحری ملکوں کے طور پر، ہم اپنے مشترکہ بحری جغرافیے کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کریں گے۔ سابانگ سے گریٹ نکوبار تک، ملاکا گیٹ وے سے انڈو-پیسیفک تک — ہم کنیکٹیویٹی، لاجسٹکس، بحری معیشت، بحری سلامتی اور تجارتی مضبوطی میں نئے مواقع پیدا کریں گے۔

پانچواں۔۔۔ گلوبل ساؤتھ کی آواز

ہم گلوبل ساؤتھ کی امنگوں کو مزید مضبوط آواز دیں گے۔ ہم ایک ایسے عالمی نظام کے لیے کام کریں گے، جہاں ترقی مبنی بر شمولیت ہو، ٹیکنالوجی تک رسائی آسان ہو، اور عالمی حکمرانی زیادہ منصفانہ اور نمائندہ  ہو۔

ساتھیو،

بھارت اور انڈونیشیا مل کر انسانیت کے پانچویں حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہماری شراکت داری صرف دو ملکوں کا تعلق نہیں ہے، یہ انڈو-پیسیفک کے استحکام، گلوبل ساؤتھ کی طاقت، اور دنیا کے مشترکہ مستقبل میں یقین کا عزم ہے۔ آئیے، اپنی تاریخی دوستی کو ایک نئے دور میں لے جائیں۔ آئیے، 'گنگا-مہاکام وژن' کو مل کر سچ کر دکھائیں۔

 

معزز ارکان،

بھارت میں تلسی داس جی نے لکھا تھا۔۔۔

 

جانیں بِنو نہ ہوئی پرتیتی۔

جانیں بِنو نہ ہوئی پرتیتی۔

بِنو پرتیتی ہوئی نہیں پریتی۔۔

 

یعنی، جب تک لوگ ایک دوسرے کو جانیں گے نہیں، تب تک ان کے درمیان اپنائیت نہیں بڑھے گی۔ مجھے بتایا گیا ہے، انڈونیشیا میں ایک کہاوت ہے اور اس کے معنی بھی یہی ہیں۔

’’تاک کینال ماکا تاک سایانگ‘‘

اس لیے،

ہم نے طے کیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے کا سلسلہ مزید تیز کریں گے۔ آج شام میں اور صدر پرابوو یہاں رہنے والے ہندوستانیوں سے ملیں گے۔ کل صدر پرابوو اور میں 'پرمبانن' بھی جائیں گے۔ ہم اس عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے منصوبے کا آغاز کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا اس وراثت کو سنبھالنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، جو تاریخ نے ہمیں سونپی ہے۔

معزز ارکان،

میں آج آپ تمام اراکین کو بھارت آنے کی خصوصی دعوت بھی دے رہا ہوں۔ آپ ضرور بھارت آئیں، اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ آئیں، بھارت کے لوگوں کو آپ کا استقبال کرتے ہوئے بہت خوشی ہوگی۔

مجھے یقین ہے کہ ہم 'مِترا سلامانیا'، یعنی ہمیشہ کے شراکت دار بن کر کام کریں گے۔ ہم مل کر بھارت اور انڈونیشیا کے لوگوں کے لیے مشترکہ خوشحالی کا مستقبل بنائیں گے۔ انہی الفاظ کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

انڈونیشیا زندہ باد!

بھارت ماتا کی جے!

شکریہ

********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:9490


(रिलीज़ आईडी: 2282296) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Bengali , Manipuri , Gujarati , Odia , Telugu , Kannada , Malayalam