وزیراعظم کا دفتر
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبہ میں تعاون پر ہندوستان-جاپان کا مشترکہ بیان
प्रविष्टि तिथि:
02 JUL 2026 9:55PM by PIB Delhi
جمہوریۂ بھارت کے وزیراعظم اور جاپان کی وزیراعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی) ایک عہد ساز، ہمہ گیر ٹیکنالوجی ہے جو معیشت، معاشرے، سائنس و ٹیکنالوجی، صنعت و کاروبار، حکمرانی اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، ترقی، نفاذ اور نظم و نسق سے متعلق آج کیے جانے والے فیصلے اختراع، سماجی بہبود، اقتصادی سلامتی اور بین الاقوامی نظام پر طویل المدتی اثرات مرتب کریں گے۔ اس مشترکہ ادراک کی بنیاد پر دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دونوں ممالک کی لچک اور مسابقتی صلاحیت کو باہمی طور پر مضبوط بنانے اور اختراع و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، تاکہ ایک محفوظ، قابلِ اعتماد، جامع، انسان مرکز، پائیدار، جوابدہ اور اختراع پر مبنی مصنوعی ذہانت کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی ساختی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بھارت کے مہاساگر- ایم اے ایچ اے ایس اے جی اے آر ویژن اور جاپان کے تازہ ترین‘فری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک (ایف او آئی پی)’ ویژن کے مطابق مضبوط اور ترقی پر مبنی اقتصادی نظام تشکیل دینے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بھارت، جاپان اور ہم خیال ممالک و شراکت داروں کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا، تاکہ ہند-بحرالکاہل خطے اور گلوبل ساؤتھ (جی ایس) میں مضبوط اور جامع مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات کی توثیق کی کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجیز کے استعمال اور اطلاق کے ذریعے اختراع کو فروغ دیا جائے، اس سے وابستہ خطرات کو مناسب انداز میں کم کیا جائے اور مصنوعی ذہانت کی سپلائی چینز کو مضبوط، متنوع اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے نئی دہلی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ہونے والی مفید گفتگو اور اس کے نتائج کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ‘‘جاپان-بھارت اے آئی تعاون اقدام (جے آئی اے –سی آئی)’’ کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہا، اور بالخصوص اپریل 2026 میں منعقد ہونے والے پہلےبھارت-جاپان اے آئی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں ہونے والی بات چیت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت کے مواقع اور چیلنجز کے بارے میں مشترکہ فہم کو مزید گہرا کرنے اور اپنے مشترکہ ویژن کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے، حسبِ ضرورت متعلقہ فریقوں کی شمولیت کے ساتھ، بھارت-جاپان اے آئی اسٹریٹجک ڈائیلاگ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا، خصوصاً درج ذیل ترجیحی شعبوں میں:
دونوں رہنماؤں نے ایک ایسے بین الاقوامی نظام حکمرانی کے فروغ کی اہمیت کا اعادہ کیا جو محفوظ، قابل اعتماد، مضبوط اور جامع مصنوعی ذہانت پر مبنی ہو، ذمہ دارانہ اختراع کو فروغ دے اور ساتھ ہی ہر ملک کے قومی قوانین، ترجیحات اور مخصوص حالات کا احترام کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی خطرات اور مواقع کے متوازن جائزے، وسیع شمولیت، باخبر فیصلوں، متناسب ضوابط، باہمی مطابقت اور بدلتے حالات کے مطابق لچکدار انداز پر مبنی ہونی چاہیے۔
اس ضمن میں دونوں رہنماؤں نے ہیروشیما اے آئی پراسیس(ایچ اے آئی پی) کی اہمیت کا اعادہ کیا جس میں اس کے بین الاقوامی رہنما اصول اور جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے ضابطۂ اخلاق بھی شامل ہے۔ انہوں نےنئی دہلی اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران سیف اینڈ ٹرسٹڈ اے آئی ورکنگ گروپ، جس کی مشترکہ صدارت جاپان نے کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق رہنما نوٹ (جی این اے آئی جی) میں بیان کردہ اصولوں کو بھی اجاگر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے جی-20، اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی)، گلوبل پارٹنرشپ آن اے آئی (جی پی اے آئی) اوراقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا، اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے حوالے سے منعقد ہونے والے پہلےاقوام متحدہ عالمی مکالمے (یو این جی ڈی آن اے آئی جی) کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے ہیروشیما اے آئی پراسیس فرینڈز گروپ اور پارٹنرز کمیونٹی کے اندر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا، جس میں گلوبل ساؤتھ(جی بی) اور نجی شعبے کی زیادہ مؤثر شرکت کو فروغ دینا، اور ہیروشیما اے آئی پراسیس فرینڈز گروپ ایکشن پلان- 2026 پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا شامل ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے پورے لائف سائیکل کے دوران اس کے محفوظ ڈیزائن، ترقی، نفاذ اور استعمال کے حوالے سے تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں اے آئی ماڈلز کی جانچ، صلاحیتوں کا جائزہ، رہنما اصول، آلات اور معیارات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ‘ٹرسٹڈ اے آئی کامنز ’ کے ذریعے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیں، جس کا اعلان نئی دہلی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کیا گیا تھا جو تکنیکی وسائل، آلات، معیارات اور بہترین طریق کار کو یکجا کرتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انتہائی جدید فرنٹیئر اے آئی ماڈلز میں اعلیٰ درجے کی سائبر صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، جو ایک جانب دفاعی نظام کو مضبوط بنا سکتی ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کے غلط استعمال کے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سائبر اسپیس ایک عالمی عوامی اثاثہ (جی پی جی) ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے نظاموں کی جانچ، محدود اجرا ( جی آر) اور قابلِ اعتماد رسائی سے متعلق انتظامات خطرات کے متوازن جائزے پر مبنی ہوں اور ذمہ دار شراکت داروں کی جائز سائبر دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھیں۔ دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر سکیورٹی اور خود اے آئی نظاموں کی سلامتی کے شعبے میں، خصوصاً اہم بنیادی ڈھانچے ( سی آئی) کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے استعمال کے دوران بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ذمہ دارانہ ڈیزائن، مؤثر نظم و نسق اور خطرات پر مبنی حفاظتی اقدامات اس امر کے لیے لازمی ہیں کہ مصنوعی ذہانت بچوں کے لیے نقصان کا ذریعہ بننے کے بجائے تعلیم، سیکھنے اور مثبت نشوونما کا وسیلہ ثابت ہو۔
دونوں رہنماؤں نے ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور مضبوط مصنوعی ذہانت کے نظام کی تعمیر کی اہمیت کا اعادہ کیا، خصوصاً ہند-بحرالکاہل خطے میں، جہاں اے آئی ٹیکنالوجی کے پورے سلسلے ( ٹی ایس) کے لیے مضبوط، متنوع اور قابلِ اعتماد سپلائی چینز موجود ہوں۔ اس تناظر میں انہوں نے بھارت اور جاپان کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اسٹریٹجک تحقیق و ترقی کے شراکت دار بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اے آئی کے لیے محفوظ ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز، جی پی یو (جی پی یو)، دیگر کمپیوٹنگ وسائل اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، اور اقتصادی سلامتی کے نقطۂ نظر سے اے آئی ٹیکنالوجی اسٹیک میں موجود ممکنہ مواقع اور خطرات کا مشترکہ جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نےفری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک (ایف او آئی پی) ڈجیٹل کوریڈور اقدام کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ڈجیٹل رابطے اور مصنوعی ذہانت کی مضبوط سپلائی چینز کو فروغ دیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے مضبوط، اختراعی اور مؤثر مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نئی دہلی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں زیربحث آنے والے‘مضبوط، اختراعی اور مؤثر مصنوعی ذہانت سے متعلق رضاکارانہ رہنما اصول’ اور ‘مضبوط اے آئی بنیادی ڈھانچے کے فروغ سے متعلق پلے بک’ کو مدنظر رکھتے ہوئے، مؤثر اے آئی ماڈلز، بہتر انداز میں نتائج اخذ کرنے ( او آئی)، توانائی کے لحاظ سے مؤثر کمپیوٹنگ اور ماحول دوست، محفوظ ڈیٹا انفراسٹرکچر پر مشترکہ کام کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان کثیر لسانی ( ملٹی لینگول)، اوپن سورس، شعبہ جاتی ( ڈی ایس) اور مخصوص صنعتوں کے لیے تیار کردہ ( ورٹیکل) مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، بشمول مقامی زبانوں اور عوامی مفاد کے لیے استعمال ہونے والے ماڈلز، پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے متعدد اہم مفاہمتی معاہدوں کا خیرمقدم کیا، جن میں: انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی ، بھارت جین ٹیکنالوجی فاؤنڈیشن ( بی جی ٹی ایف) اورنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیٹکس( این آئی آئی/آر او آئی ایس)، جاپان کے درمیان بڑے لسانی ماڈلز ( ایل ایل ایم ایس) کی مشترکہ تحقیق اور ترقی کے لیے مفاہمتی یادداشت ؛سروم (ایس اے آر آر وی ایم) اور پریفرڈ نیٹ ورکس ( پی این) کے درمیان مصنوعی ذہانت کی مکمل ٹیکنالوجی اسٹیک میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت؛ اور انڈیا اے آئی ( آئی آئی انڈیا) اور جاپان کی وزارت معیشت، تجارت و صنعت ( ایم ای ٹی آئی) کے درمیان دونوں ممالک کی اے آئی کمپنیوں کی معاونت کے لیے مفاہمتی تعاون ( ایم او سی) شامل ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائنسی دریافتوں اور جدید تحقیق کی اہمیت کو تسلیم کیا اور متعلقہ اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس سلسلے میں باہمی تعاون کو فروغ دیں، جس میں‘نیٹ ورک آف اے آئی فار سائنس ( اے آئی فو رایس) انسٹی ٹیوشنز’ کے تحت جس کا قیام نئی دہلی اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران عمل میں آیا تھا۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دینے اور محققین کے تبادلے سمیت تحقیقی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی اسٹریٹجک اہمیت کا اعادہ کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے سیمی کنڈکٹرز سے لے کر اے آئی ٹیکنالوجی اسٹیک کے تمام شعبوں تک صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون کے ذریعے انسانی وسائل کے تبادلے کو فروغ دے کر دونوں ممالک کی صنعتی مسابقت کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں ہندوستان کا مضبوط انسانی سرمایہ دونوں ممالک کے درمیان مزید قریبی تعاون کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، اور بھارت کے ممتاز اعلیٰ تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ جاپانی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے روابط کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جاپانی کمپنیوں کو ہندوستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق و ترقی، اختراع اور صنعتی شراکت داری کو وسعت دینے کی ترغیب دی جائے، جبکہ مشترکہ تحقیق، انٹرن شپ، روزگار کے مواقع اور دیگر ذرائع کے ذریعے بھارتی ماہرین کی پیشہ ورانہ ترقی اور جاپان میں ان کی نقل و حرکت کی حمایت کی جائے، تاکہ جاپانی کمپنیوں اور بھارت کے اے آئی ٹیلنٹ ایکو سسٹم کے درمیان مضبوط روابط قائم ہوں۔
اس تناظر میں دونوں رہنماؤں نےجنوری 2026 میں منعقدہ بھارت-جاپان وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں طے کیے گئے اس ہدف کا اعادہ کیا کہ 2030 تک بھارت سے 500 اعلیٰ مہارت رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے ماہرین کو جاپان مدعو کیا جائے گا اور مشترکہ تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ ترقی، اس کے مؤثر استعمال اور نظم و نسق میں انسانی وسائل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے نئی دہلی اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران تیار کیے گئے‘‘مصنوعی ذہانت کے دور میں مہارتوں کی ترقی اور ازسرِ نو مہارت حاصل کرنے کے لیے رضاکارانہ رہنما اصول’’ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کی اسٹریٹجک، اقتصادی اور سماجی ترجیحات کو پورا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تیار کرنا نہایت اہم ہے، اور انہوں نےسرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے ذریعے جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، تحقیقی اداروں، سرمایہ کاروں اورغیر سرکاری اداروں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ طور پر ایسے عملی مسائل کی نشاندہی کریں جن کے لیے قابلِ توسیع مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تیار کیے جا سکیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کامیاب اے آئی استعمالات کو اپنانے، مختلف مقامات پر دہرانے اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے گلوبل AI امپیکٹ کامنز سے استفادہ کریں۔
دونوں رہنماؤں نےنئی دہلی اعلامیہ میں پیش کیے گئے ‘‘سب کے لیے مصنوعی ذہانت ( اے آئی فار آل)’’ کے ویژن کا خیرمقدم کیا اور اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچیں، جامع اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
دونوں رہنماؤں نے ہم خیال ممالک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کے شعبے میںصلاحیت سازی(سی بی)، تکنیکی معاونت، علم کے تبادلہ اور کامیاب عملی نمونوں ( یو ایس) کی نقل اور توسیع کے لیے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ ہر ملک کے قومی قوانین، ترجیحات اور مخصوص حالات کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تیسرے ممالک اور مختلف شعبوں کے شراکت داروں(ایم ایس سی) کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا ایک محفوظ، قابل اعتماد، جامع، پائیدار، مضبوط اور انسان دوست مصنوعی ذہانت کے نظام کی مشترکہ تشکیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے جاپان کی وزیراعظم تاکائیچی سنائے کی اس تجویز کا خیرمقدم اور حمایت کی کہ جاپان مناسب موقع پر عالمی اے آئی سربراہی اجلاس (اے آئی-ایس) کی میزبانی کرے گا۔
*****
ش ح- ظ الف- خ م
UR-9493
(रिलीज़ आईडी: 2280659)
आगंतुक पटल : 2