صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدرِ جمہوریہ ہند نے سنٹرل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش کی پہلی کنووکیشن تقریب میں شرکت کی


صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے طلباء سے کہا کہ  نئے خیالات کو اپنانے اور نیا علم حاصل کرنے کا حوصلہ پیدا کریں

प्रविष्टि तिथि: 01 JUL 2026 2:24PM by PIB Delhi

صدرِ جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (یکم جولائی، 2026 ء) آندھرا پردیش کے اننت پورمو میں واقع سنٹرل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش کی پہلی کنووکیشن تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  ، صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ سنٹرل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش کی پہلی کنووکیشن تقریب نہ صرف جشن کا ایک موقع ہے بلکہ اس نوخیز تعلیمی ادارے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی نے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ادارہ بننے کے لیے ایک طویل مدتی ویژن تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف، بالخصوص معیاری تعلیم سے متعلق اہداف کے تئیں یونیورسٹی کا عزم، جامع اور مساوی ترقی کے تئیں اس کی ذمہ داری کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سنٹرل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش ایک بہترین تعلیمی مرکز کے طور پر ابھرے گی اور سال  ، 2047  ء تک وکست بھارت کے ویژن کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

PResidentpic201072026XKG6.jfif

فارغ ہونے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے  ، صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ کنووکیشن  ، برسوں کی محنت، لگن اور ثابت قدمی کی تکمیل کا موقع ہوتا ہے۔ طلباء نے خوابوں کے ساتھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اور آج وہ علم، اعتماد اور ایسی ڈگری کے ساتھ یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں  ، جو ان کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھولتی ہے۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ طلباء کی کامیابی ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے، لیکن اس میں ان کے والدین کی قربانیوں، اساتذہ کی رہنمائی اور معاشرے کے تعاون کا بھی اہم کردار ہے۔ اس لیے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کو بھی کچھ واپس لوٹائیں۔ خواہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے کاروباری بنیں، جدت طرازی کو فروغ دینے والے سائنسداں ، عوام کی خدمت کرنے والے سرکاری ملازم یا معاشرے کی خدمت کرنے والے فلاحی کارکن، ان کی تعلیم معاشرے کے محروم طبقات کے لیے طاقت اور سہارا بننی چاہیے۔

PResidentpic1010720268KE5.jfif

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ تکنیکی ترقی ہر شعبے کو تبدیل کر رہی ہے۔ ایسے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں تعلیم کا عمل ڈگری حاصل کرنے پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کے مطابق خود کو مسلسل ڈھالنے کا رجحان طلباء کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہوگا۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ نئے خیالات کو اپنانے اور نیا علم حاصل کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ سیکھنے کا جذبہ رکھنے والے، باحوصلہ اور اختراعی صلاحیتوں سے آراستہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان اپنے علم کو تخلیقی صلاحیت، عزم اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ  منسلک کریں تو وہ چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل  کر سکتے ہیں اور ایک زیادہ شمولیت پر مبنی اور خوشحال بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صدرِ جمہوریہ نے طلباء سے کہا کہ اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دیانت داری، ہمدردی، دوسروں کے احساسات کا احترام اور فطرت کے احترام جیسی اقدار صرف اعلیٰ اخلاقی اصول  ہی نہیں  ہیں بلکہ ہمہ جہت ترقی کی بنیاد بھی ہیں۔ یہ اوصاف انہیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور معاشرے و قوم کی بامعنی خدمت کرنے کے قابل بنائیں گے۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ وکست بھارت کا ویژن صرف نوجوانوں کی توانائی، صلاحیت اور عزم کے ذریعے ہی حقیقت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء زندگی میں جو بھی راستہ اختیار کریں، اس پر لگن، دیانت داری اور بہترین کارکردگی کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔

صدرِ جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ش ح۔  م م ۔ ع ا )

U.No.9397


(रिलीज़ आईडी: 2279865) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Telugu , Telugu_Vw , Malayalam