صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا آج سنٹرل کونسل آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر (سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کی 16ویں کانفرنس کے دوران ‘سمن روڈ میپ 2030’ جاری کریں گے


زچہ اور بچہ کی صحت کے لیے پائیدار ترقی کے اہداف کو پورا  کرنے کی خاطر شواہد پر مبنی اور ہر ریاست کی ضرورت کے مطابق جامع حکمتِ عملی

प्रविष्टि तिथि: 29 JUN 2026 10:48AM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا آج سنٹرل کونسل آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر(سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کی 16ویں کانفرنس کے دوران 'سمن روڈ میپ 2030' (سمن روڈ میپ) جاری کریں گے۔

یہ روڈ میپ ایک جامع اور کثیرجہتی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد زچہ اور بچہ کی صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنانا اور سال 2030 تک تیزی سے پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی) کے تحت زچہ اور بچہ کی اموات میں کمی کے ہدف کو حاصل کرنا ہے۔

سمن روڈ میپ 2030 زچہ اور بچہ کی صحت کے شعبے میں بقیہ مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان نے ماؤں کی صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن بعض مسائل اب بھی موجود ہیں، جن کی وجہ سے خاص طور پر زیادہ توجہ کے مستحق ریاستوں میں زچہ اور بچہ کی اموات میں مزید کمی لانا مشکل ہو رہا ہے۔

یہ روڈ میپ ایک ہی طرزِ عمل اپنانے کے بجائے ہر ریاست اور ضلع کی ضروریات کے لحاظ سے مخصوص، مختلف نوعیت کے اور شواہد پر مبنی اقدامات تجویز کرتا ہے۔ اس کا مقصد مقامی حالات کے مطابق بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر عمل درآمد کے ذریعے زچہ اور بچہ کی صحت کے نتائج میں نمایاں بہتری لانا ہے۔

سمن روڈ میپ 2030 میں زچہ اور بچہ کی نگہداشت کے پورے سفر کو مدنظر رکھتے ہوئے "لائف سائیکل اپروچ" اختیار کی گئی ہے۔ اس کے تحت حمل سے پہلے کی نگہداشت، دورانِ حمل طبی معائنہ، زچگی کے وقت علاج اور ولادت کے بعد زچہ اور بچہ کی نگہداشت کو ایک مربوط نظام کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ بچوں کی صحت، نوعمر افراد کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور تغذیہ سے متعلق خدمات کو بھی آر ایم این سی ایچ اے+این فریم ورک کے تحت درج کیا گیا ہے، تاکہ عوام کو مربوط اور بہتر طبی سہولیات میسر ہوسکیں۔

اس روڈ میپ کی ایک اہم خصوصیت زیادہ خطرے والی حاملہ خواتین کی بروقت شناخت، مسلسل نگرانی اور مناسب علاج کے لیے چار مرحلوں پر مشتمل منظم نظام ہے۔ اس میں حمل کے دوران خطرے سے دوچار خواتین، خاص طور پر حمل کے آخری تین مہینوں میں خصوصی نگرانی، زچگی کے دوران پیش آنے والے خطرات اور ولادت کے بعد ماں کی صحت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

اس منصوبے میں زمینی سطح کے تجربات کی روشنی میں مختلف عملی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں دور دراز اور قبائلی علاقوں میں آمد و رفت کی مشکلات، زچگی کی ہنگامی معیاری طبی سہولیات، سمن پنچایتوں کے ذریعے عوامی شمولیت، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔

اس روڈ میپ کے تحت 13 توجہ طلب ریاستوں—آسام، بہار، چھتیس گڑھ، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، پنجاب، راجستھان، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال—کے 130 اضلاع میں ہدف بنداور مقررہ مدت کے اندر نافذ کی جانے والی خصوصی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے ایسی حکمتِ عملی بھی تجویز کی گئی ہے، جس سے زچہ اور بچہ کی صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور ان کا دائرہ ہر مستحق فرد تک پہنچایا جا سکے۔

زیادہ توجہ کے مستحق ریاستوں کے روڈ میپ میں حاملہ خواتین کے لیے جامع "سمن پیکیج" تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت حمل کا بروقت اندراج، دورانِ حمل تمام ضروری طبی معائنے، معیاری طبی جانچ اور ولادت کے بعد مناسب مدت تک اسپتال میں قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔

حمل کے آخری تین ماہ کے دوران کمیونٹی سطح پر آشا کارکنان(آشا ورکر) ہر پندرہ دن بعد حاملہ خواتین کے گھروں کا دورہ کریں گی۔ ان ملاقاتوں کے دوران خطرناک علامات کی جانچ، تغذیہ سے متعلق مشورے، محفوظ زچگی کی تیاری اور اسپتال میں ولادت کی اہمیت کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

روڈ میپ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ولادت کے بعد کے حساس دور میں ماں کے ساتھ رہنے والے نامزد تیماردار کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ ہنگامی زچگی کی صورت میں بروقت اسپتال پہنچانے کے لیے خاص طور پر دور دراز اور طبی سہولیات سے محروم علاقوں میں ریفرل ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا ۔

مزید برآں، دشوارگزار اور پسماندہ علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے برتھ ویٹنگ ہومز، مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ(ایم سی ایچ)  وِنگ، آبسٹیٹرک ہائی ڈپنڈنسی یونٹس(ایچ ڈی یو) اور انٹینسیو کیئر یونٹس(آئی سی یو) کا قیام لازمی بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے، تاکہ زچہ اور بچہ کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00111EC.jpg

اس جامع حکمتِ عملی میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی نگرانی اور ان کے اسباب کے تجزیے(ایم دی ایس آر) اور جان لیوا پیچیدگیوں سے متاثرہ ماؤں کے معاملات کا باقاعدہ جائزہ لینے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ خامیوں کی نشاندہی کرکے صحت کی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ زچگی کے دوران زیادہ خون بہنے کی صورت میں فوری اور مؤثر علاج کے لیے نان- نیومیٹک اینٹی شاک گارمنٹس  (این اے ایس جی)متعارف کرانے، لیبر روم کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے لیس کرنے، جننی پورٹل کے ذریعے نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے ماحولیات موافق عملی منصوبہ تیار کرنے، سیزیرین آپریشن کی شرح کو ضرورت کے مطابق متوازن رکھنے، اور سمگر شِشو بال سواستھیہ کاریہ کرم کے تحت پیدائش سے لے کر 36 ماہ تک بچوں کی گھر پر طبی نگہداشت کو فروغ دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے  واسطے روڈ میپ میں سینٹر آف ایکسیلینس (امتیازی طبی مراکز) قائم کرنے، شکایات کے فوری ازالے کے لیے مرکزی سطح پر سمن کال سینٹر شروع کرنے، مختلف صحت کے مراکز کے درمیان ریفرل کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، اور جننی پورٹل کے ذریعے نگرانی، رپورٹنگ اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے نظام کو وسعت دینے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے میٹرنل ہیلتھ ڈویژن کی قیادت میں آر ایم این سی ایچ اے+این فریم ورک کے تحت تیار کیا جانےو الا سمن روڈ میپ 2030 ملک بھر میں زچگی کی صحت، نومولود بچوں کی نگہداشت، خاندانی منصوبہ بندی اور تغذیاتی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کی جامع قومی حکمتِ عملی پیش کرتا ہے۔

اس روڈ میپ کا مقصد یہ ہے کہ سال 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی)کے مطابق ہر ایک لاکھ زندہ ولادتوں  پر زچگی کی اموات کی شرح  کو 70 سے کم کیا جائے، نومولود بچوں کی شرحِ اموات  اور شیر خوار بچوں کی شرحِ اموات  میں نمایاں کمی لائی جائے، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں زچہ اور بچہ کی صحت کی خدمات ہر مستحق فرد تک پہنچائی جائیں، اور ایسی تمام اموات کا خاتمہ کیا جائے جنہیں بروقت اور معیاری طبی سہولیات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔

 

ش ح۔ م ش ع۔ ج

Uno-9286


(रिलीज़ आईडी: 2278899) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada