نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

بنگلورو میں منشیات سے پاک بھارت کنکلیو سے نائب صدر جمہوریہ کا خطاب


نائب صدر نے منشیات سے پاک بھارت کی تعمیر کے لیے ہمہ معاشرہ اپروچ پر زور دیا

مہم ’منشیات کو نہ کہیں‘ ملک گیر تحریک بننی چاہیے: نائب صدر

نائب صدر نے نشے کی لت اور ذہنی صحت سے متعلق تحقیق میں اضافے کی اپیل کی

प्रविष्टि तिथि: 28 JUN 2026 2:33PM by PIB Delhi

بھارت کے نائب صدر، جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج تعلیمی اداروں، خاندانوں، صحت کے پیشہ ور افراد، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ منشیات سے پاک بھارت کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں، اور کہا کہ نشے کے خلاف جنگ کا آغاز افراد سے ہونا چاہیے اور اسے ملک گیر تحریک میں بدلنا چاہیے۔

راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (آر جی یو ایچ ایس) کے 31ویں یوم تاسیس کی تقریباًًت کے موقع پر بنگلورو کے سری کانتیراوا اسٹیڈیم میں منعقدہ منشیات سے پاک بھارت کنکلیو سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا اہتمام نارکوٹکس کنٹرول بیورو اور دِشا بودھ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے کیا گیا تھا، نائب صدر نے کہا کہ نشے کا غلط استعمال نہ صرف انفرادی صحت بلکہ تعلیمی حصول، پیداواری صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور قومی ترقی کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔

یوم تاسیس پر آر جی یو ایچ ایس کو مبارکباد دیتے ہوئے، انھوں نے صحت کی تعلیم، تحقیق اور عوامی صحت میں یونیورسٹی کے اہم کردار اور قوم کی خدمت کے لیے وقف صحت پیشہ ور افراد کی نسلوں کی تیاری کی ستائش کی۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے طلبا کے بڑے مجمع پر خوشی کا اظہار کیا جنھوں نے بنگلورو، کرناٹک اور بالآخر بھارت کو منشیات سے پاک بنانے کا عہد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’منشیات سے پاک بھارت‘ صرف منشیات کی عدم موجودگی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ صحت مند انتخاب، باخبر فیصلے، معاون خاندانوں اور لچک دار کمیونٹیز کو فروغ دینے کے بارے میں ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ افراد کو اپنے ذہنوں پر مکمل کنٹرول رکھنا چاہیے، انھوں نے ریمارک کیا کہ جب نشہ ذہن پر قابو پا لیتا ہے، تو انسان اپنی زندگی پر کنٹرول کھو دیتا ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ لت کا شکار ہونے والی ہر نوجوان زندگی قومی صلاحیت کا نقصان ہے۔ انھوں نے طلبا، خاص طور پر مستقبل کے ڈاکٹروں، نرسوں، فارماسسٹوں، ماہرین نفسیات، محققین اور عوامی صحت کے پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ آگاہی کے سفیر بنیں اور نشے کے غلط استعمال کو روکنے، علاج، تحقیق اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کریں۔

نشے کی لت، ذہنی صحت، رویے کی سائنس اور کمیونٹی پر مبنی مداخلتوں میں مزید تحقیق کا مطالبہ کرتے ہوئے، انھوں نے زور دیا کہ شواہد کو عمل کی رہ نمائی کرنی چاہیے اور تحقیق کو پالیسی کو باخبر کرنا چاہیے۔ انھوں نے نشے کے استعمال کے عوارض سے نمٹنے میں ٹیکنالوجی، مشاورت کی خدمات اور ہم عمر معاونت کے نیٹ ورکس کو بروئے کار لانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

منشیات سے پاک تعلیمی اداروں کے بارے میں جناب سی پی رادھا کرشنن نے زور دے کر کہا کہ تین مرکزی جامعات کے چانسلر کے طور پر، انھوں نے مسلسل منشیات سے پاک کیمپس کی وکالت کی ہے۔ اس سال کے اوائل میں دہلی یونیورسٹی میں شروع کی گئی ’منشیات سے پاک کیمپس مہم‘ اور ای-پلیج پلیٹ فارم کا حوالہ دیتے ہوئے، انھوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ اس پہل نے منشیات سے پاک کیمپس کا ماحول بنانے میں حصہ ڈالا ہے۔

اس موقع پر، نائب صدر نے کرناٹک میں قومی پلس پولیو ڈرائیو کے حصے کے طور پر شیر خوار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔ انھوں نے راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سابق وائس چانسلرز کو یونیورسٹی کی ترقی اور پیش رفت میں ان کے انمول تعاون کے اعتراف میں اعزاز سے بھی نوازا۔

کرناٹک کے گورنر جناب تھاور چند گہلوت، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ جناب ڈی کے شیوکمار، آندھرا پردیش کے گورنر جسٹس (ریٹائرڈ) سید عبد النذیر، کرناٹک کے وزیر برائے طبی تعلیم ڈاکٹر شَرَن پرکاش آر پاٹل، کرناٹک کے وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود جناب یو ٹی کھدر فرید، آر جی یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر بھگوان، اور دیگر معززین اس موقع پر موجود تھے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 9259


(रिलीज़ आईडी: 2278606) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Urdu , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam