نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نے ایم ایس ایم ای کے بین الاقوامی دن  2026 کی تقریبات میں شرکت کی؛ ایم ایس ایم ایز کے لیے اہم ڈیجیٹل اقدامات کا آغاز


معیار، اختراع اور ٹیکنالوجی کو اپنانا ایم ایس ایم ایز کی طویل مدتی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے: نائب صدر

نائب صدر نے ایم ایس ایم ایز کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے، بینک قرضوں میں توسیع اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا

ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو خطرہ نہیں بلکہ مواقع کے طور پر اپنانا چاہیے: جناب سی۔ پی۔ رادھاکرشنن

نائب صدر نے اپنے کاروباری سفر کو یاد کرتے ہوئے نوجوانوں کو سخت محنت اور مسلسل سیکھنے کا پیغام دیا

प्रविष्टि तिथि: 27 JUN 2026 2:32PM by PIB Delhi

 نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی۔ پی۔ رادھاکرشنن نے آج ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر، نئی دلّی میں منعقدہ ایم ایس ایم ای کے بین الاقوامی دن  2026 کی تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت چھوٹے ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایم ایس ایم ایز) محض ایک معاشی زمرہ نہیں بلکہ پہلی نسل کے کاروباری افراد کے حوصلے، نوجوانوں کی امنگوں، خواتین کاروباریوں کے عزم اور لاکھوں چھوٹے کاروباروں کی ثابت قدمی کی علامت ہیں، جنہوں نے چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکست بھارت @2047 کے ہدف کی جانب ہندوستان کا سفر ایک مضبوط، متحرک اور ترقی پذیر ایم ایس ایم ای شعبے کی بدولت آگے بڑھے گا۔

اپنے کاروباری سفر کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کی مالی معاونت سے ملبوسات کا ایک چھوٹا کاروبار شروع کیا۔ ابتدائی برسوں کے چیلنجز کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ثابت قدمی، مسلسل سیکھنے کے جذبے اور سخت محنت نے انہیں عوامی زندگی میں آنے سے قبل نِٹ ویئر برآمدات کے ایک نمایاں کاروبار کی بنیاد رکھنے میں کامیاب بنایا۔ انہوں نے نوجوان کاروباریوں پر زور دیا کہ وہ ابتدائی مشکلات سے کبھی مایوس نہ ہوں اور اپنے پیشے کو سیکھنے کے لیے پوری لگن سے کام کریں۔

کوائر بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے جناب سی۔ پی۔ رادھاکرشنن نے کہا کہ انہیں اس شعبے کے بارے میں پہلے زیادہ معلومات نہیں تھیں، لیکن انہوں نے صنعت کے ہر پہلو کو سمجھنے میں خود کو پوری طرح وقف کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدکاروں  کے ساتھ قریبی تعاون اور بلند اہداف مقرر کرنے کے نتیجے میں اس شعبے نے نمایاں ترقی حاصل کی۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا عزم کر لیں، سخت محنت کریں اور اپنے شعبے کی مکمل معلومات حاصل کریں تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔‘‘

کوالٹی  کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ کوالٹی  پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لاگت میں کمی کبھی بھی معیار کی قربانی دے کر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، ’’اصل کامیابی یہ ہے کہ لاگت کم کی جائے، لیکن معیار برقرار رکھا جائے اور حریفوں سے بہتر خدمات فراہم کی جائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے دوران کاروبار کو برقرار رکھنے کی بنیاد اعلیٰ معیار ہی ہے۔

ایم ایس ایم ای شعبے میں مزید ترقی پسند سوچ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ہر بہت چھوٹے  کاروباری ادارے کو چھوٹا ادارہ بننے اور ہر چھوٹے ادارے کو درمیانے درجے کے ادارے میں تبدیل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو صنعتوں سے آغاز کرنے والے کاروباری افراد کو پوری عملی زندگی ایک ہی سطح پر نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس تبدیلی کے لیے مناسب سرمایہ کاری، پالیسی معاونت اور آسان مالی رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

نائب صدر  جمہوریہ نے وزارتِ ایم ایس ایم ای پر زور دیا کہ وہ تمام ایم ایس ایم ایز کی رجسٹریشن کو فروغ دے، کیونکہ بہتر رجسٹریشن سے مستند اعداد و شمار دستیاب ہوں گے اور شعبے کی حقیقی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر پالیسیاں مرتب کی جا سکیں گی۔

اقوام متحدہ کے اس سال کے موضوع ’’مصنوعی ذہانت سے چلنے والے مستقبل میں انسان پر مبنی کاروبار‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جناب سی۔ پی۔ رادھاکرشنن نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کو خطرے کے بجائے ایک موقع سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کمپیوٹرز کے ابتدائی دور میں پائے جانے والے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر ٹیکنالوجی نے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو مثبت انداز میں اپنایا جائے تو یہ بھی ترقی کے نئے امکانات پیدا کرے گی۔

کھادی و دیہی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی)کے کردار کو سراہتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اس ادارے نے شہد کی پیداوار اور کھادی ملبوسات جیسے شعبوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی  ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کھادی گاندھیائی نظریات سے تحریک  یافتہ  ہے، لیکن عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اسے صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق خود کو مسلسل ڈھالتے رہنا ہوگا۔

اس موقع پر نائب صدر نے نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (این ایس آئی سی) کو شیڈول ’اے‘ کمپنی کا درجہ ملنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پی ایم ای جی پی 2.0 پورٹل، سمادھان 2.0 پورٹل، پروکیورمنٹ اینڈ مارکیٹنگ سپورٹ(پی ایم ایس) 2.0 پورٹل، ایم ایس ایم ای گلوبل مارٹ 2.0 پورٹل، ٹیسٹنگ سینٹر پورٹل اور وزارتِ ایم ایس ایم ای کے کثیر لسانی سہولت اقدام کا افتتاح بھی کیا۔ اس کے علاوہ ایم ایس ایم ای آئیڈیا ہیکاتھون 6.0 کا بھی آغاز کیا گیا۔ نائب صدر نے سیلف ریلائنٹ انڈیا (ایس آر آئی)فنڈ اور پی ایم وشوکرما (پی ایم وی)اسکیم پر مبنی ای کتابوں کا اجراء کیا اور کھادی و دیہی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی) کی نئی مصنوعات بھی متعارف کرائیں۔


اس موقع پر مرکزی وزیر برائے ایم ایس ایم ای جناب جیتن رام مانجھی، وزیر مملکت برائے ایم ایس ایم ای محترمہ شوبھا کرندلاجے، کھادی و دیہی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی)کے چیئرمین جناب منوج کمار، وزارتِ ایم ایس ایم ای کے سکریٹری جناب بھارت کھیرا، وزارت کے سینئر افسران، صنعت کار اور کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔

**********

ش ح-ا ع خ    ۔ر  ا

U-No- 9240


(रिलीज़ आईडी: 2278412) आगंतुक पटल : 26
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Malayalam