وزیراعظم کا دفتر
مغربی بنگال کے کولکاتا میں 12ویں عالمی یومِ یوگا کی تقریبات سے وزیرِ اعظم کے خطاب کا اردو متن
प्रविष्टि तिथि:
21 JUN 2026 8:25AM by PIB Delhi
محترم گورنر جناب آر۔ این۔ روی جی، پُرجوش قائدِ حزبِ اختلاف جناب سوویندو ادھیکاری جی، مرکزی حکومت میں میرے ساتھی جناب پرتاپ راؤ جادھو جی، اسٹیج پر موجود تمام معزز شخصیات، کولکاتا میں موجود تمام شرکاء، بھارت اور دنیا بھر سے اس یوگا جشن میں شامل ہونے والے تمام افراد، اور میرے عزیز ہم وطنو! آپ سب کو میرا سلام اور نیک تمنائیں۔
21 جون وہ دن ہے جب زمین کے بعض حصوں میں سال کا سب سے طویل دن ہوتا ہے۔ اور عالمی یومِ یوگا کی بدولت 21 جون دنیا کے سب سے بڑے اجتماعی جشن کا دن بھی بن گیا ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں سے یوگا کے شاندار اور متاثر کن مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ بھارت میں ہمالیہ سے لے کر بحرِ ہند تک، مشرق میں شمال مشرقی خطے اور بنگال سے لے کر مغرب میں سوراشٹر تک، پورا ملک یوگا کی توانائی اور شعور سے سرشار نظر آتا ہے۔ پورا ملک اور پوری دنیا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اور یہی یوگا کی حقیقی طاقت ہے۔ یوگا سب کو جوڑتا ہے، یوگا سب کو قریب لاتا ہے۔ اس موقع پر میں عالمی یومِ یوگا کے حوالے سے پوری دنیا اور تمام انسانیت کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
دوستو!
آج یومِ یوگا کے موقع پر میں کولکاتا اور بالخصوص بنگال کے عوام کو صفائی کے اس یوگ کے لیے مبارک باد دینا چاہتا ہوں جو یہاں دیکھنے کو ملا ہے۔ یہ ایک نہایت قابلِ ستائش اقدام ہے۔ ’’سوچھتا سے سواگت‘‘ مہم کے تحت یہاں جس مستقل مزاجی، محنت اور شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وہ ہمارے تمام ہم وطنوں کے لیے ایک عظیم ترغیب بن چکا ہے۔
دوستو!
یومِ یوگا کے موقع پر بنگال میں موجود ہونا واقعی ایک منفرد تجربہ ہے۔ بنگال کی یہ مقدس سرزمین، جہاں بھگوان رام کرشن پرمہنس جیسے عظیم سنتوں نے جنم لیا، جہاں سوامی وویکانند نے یوگا کو پوری دنیا سے روشناس کرایا، جہاں مہارشی اروبندو جیسے عظیم یوگی پیدا ہوئے اور جہاں لاہڑی مہاشیہ نے یوگا کی روایت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، اس دھرتی پر اجتماعی یوگا کا تجربہ ایک منفرد روحانی احساس عطا کرتا ہے۔ اسی سرزمین پر پیدا ہونے والے گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کا ماننا تھا کہ انسان کی شناخت دنیا سے الگ تھلگ رہنے میں نہیں بلکہ اپنے گرد و پیش کی دنیا سے جڑنے میں ہے۔ یہی تعلق اور یہی ربط یوگا کی اصل روح ہے۔ مہارشی اروبندو نے بھی کہا تھا کہ ہماری پوری زندگی ہی یوگا ہے، خواہ ہمیں اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ جب یوگا ہماری فطرت کا حصہ بن جاتا ہے تو وہ انسانی یکجہتی کی بنیاد بن جاتا ہے۔
دوستو!
یوگا محض جسمانی ورزش کا ذریعہ نہیں ہے۔ یوگا کسی ایک عمر یا طبقے تک محدود نہیں۔ بھارت میں ہم جانتے ہیں اور تجربہ کر چکے ہیں کہ یوگا انسانی زندگی کے لیے روشنی، شعور اور توانائی سے جڑنے کا ایک وسیلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال عالمی یومِ یوگا کا موضوع ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘‘ رکھا گیا ہے۔ عمر بڑھنے کے باوجود ہم صحت مند، پُرتوان اور فعال رہ سکتے ہیں، اور یوگا ہمیں اسی راستے کی رہنمائی کرتا ہے۔
دوستو!
جب ہم ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘‘ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ عمر میں اضافہ انسانی صلاحیتوں کو محدود نہ کر دے۔ یوگا انسان کو مسلسل ترقی اور بہتری کی جانب گامزن رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم چالیس برس کی عمر میں بیس برس کی نسبت زیادہ لچکدار ہوں۔ ہمارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم پچاس برس کی عمر میں 30 برس کی نسبت زیادہ پُرجوش اور توانا ہوں۔ ہمارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم ستر برس کی عمر میں 50 برس کی نسبت طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل ہوں۔ یوگا اس منزل کے حصول میں ہماری مدد کرتا ہے۔ یوگا ہمارے جسم کو لچکدار بناتا ہے، ہماری توانائی کو برقرار رکھتا ہے، ذہنی دباؤ سے پاک اور پُرسکون زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے اور طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کو دور رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یوگا کی باقاعدہ مشق ہمیں اپنے جسم اور ذہن کو زندگی بھر سمجھنے اور سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہم اپنے بارے میں جتنا زیادہ جانتے ہیں، اتنا ہی بہتر انداز میں خود کو سنبھال سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘‘ کا موضوع نہ صرف بزرگوں بلکہ ہر عمر کے افراد کے لیے یکساں طور پر اہم ہے۔
دوستو!
بھگود گیتا میں بھگوان شری کرشن نے یوگا کے بارے میں کہا ہے: ’’یُکت آہار وِہارسیہ، یُکت چیشٹسیہ کرمسو، یُکت سواپناؤبودھسیہ، یوگو بھوتی دکھ ہا۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ متوازن غذا اور تفریح، متوازن عمل اور فرائض، نیز متوازن نیند اور بیداری کے ذریعے یوگا دکھوں کو دور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ توازن یوگا کی بنیاد ہے اور توازن ہی ہماری زندگی کی بھی بنیاد ہے۔ لیکن جدید دور میں اکثر لوگ زندگی میں عدم توازن کا شکار ہیں۔ یوگا ہمیں متوازن انداز میں جینے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یوگا ہمیں بتاتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اور جب ہم اپنے جسم کی درست رہنمائی کرنا سیکھ لیتے ہیں تو صحت ہماری فطری حالت بن جاتی ہے۔
دوستو!
یوگا صرف ہماری جسمانی صحت تک محدود نہیں ہے۔ یوگا ذہنی صحت سے جسمانی صحت تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اسی لیے یوگا میں کہا گیا ہے: ’’یُکت چیشٹسیہ کرمسو‘‘، یعنی اس بات کا شعور کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ یہی شعور ہماری زندگی میں سکون و اطمینان کا سرچشمہ بنتا ہے اور عالمی امن کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے۔ اسی لیے آج یوگا صرف ہماری ذاتی زندگی اور طرزِ حیات کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ دنیا کے بہتر مستقبل کے لیے بھی ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
دوستو!
عالمی یومِ یوگا کے موقع پر کروڑوں افراد یوگا سے وابستہ ہوتے ہیں، لیکن آج کا دن ہمیں اپنے اجتماعی عزم کی تجدید کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ آئیے ہم یہ عہد کریں کہ یوگا صرف ایک دن تک محدود نہیں رہے گا اور نہ ہی صرف ایک پروگرام کا حصہ بنے گا۔ ہم یوگا کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں گے، اپنے خاندانوں کا حصہ بنائیں گے اور آنے والی نسلوں تک اسے منتقل کریں گے۔
دوستو!
اسی مقصد کے تحت اس سال ’’یوگا 365‘‘ پہل کو بھی مزید وسعت دی گئی ہے۔ اس کے تحت سو روزہ آن لائن یوگا پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوام نے غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ دنیا کے 130 ممالک سے 30 لاکھ سے زائد افراد اس پروگرام میں شامل ہوئے۔
دوستو!
جب معاشرہ صحت مند ہوتا ہے تو قوم زیادہ باصلاحیت، زیادہ خوشحال اور زیادہ پُراعتماد بن جاتی ہے۔ میں آپ سب کے لیے دعا گو ہوں: ’’سروے بھونتو سکھنہ، سروے سنتو نرامیہ‘‘ یعنی ’’سب خوش رہیں اور سب بیماریوں سے محفوظ رہیں۔‘‘ اسی کے ساتھ میں ایک بار پھر عالمی یومِ یوگا کے موقع پر آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ!
نوٹ: یہ وزیرِ اعظم کے خطاب کا مفہوم پر مبنی اردو ترجمہ ہے۔ اصل خطاب ہندی زبان میں دیا گیا تھا۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-8957
(रिलीज़ आईडी: 2275986)
आगंतुक पटल : 6