پنچایتی راج کی وزارت
دیہی سطح پر خواتین کے تحفظ اور صنفی مساوات کے مسائل کے بارے میں 17.5 لاکھ سے زائد منتخب مرد عوامی نمائندوں کو باخبر بنانے کا اقدام
نربھیا فنڈ کے تحت اپنی نوعیت کا پہلا قومی پروگرام، 28,500 ماسٹر تربیت کاروں کا تربیتی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 JUN 2026 12:21PM by PIB Delhi
پنچایتی راج کی وزارت نے نربھیا فنڈ کے تحت 17 تا 19 جون 2026 نئی دہلی میں ’’نربھے چیتنا‘‘ کے موضوع پر سہ روزہ تربیتِ مربیان پروگرام کا انعقاد کیا۔ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مہم قرار دی جانے والی ’’نربھے چیتنا‘‘ ایک تاریخی قومی اقدام ہے، جس کا مقصد مردوں میں خواتین سے متعلق مسائل، خصوصاً خواتین کے تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے حساسیت پیدا کرنا اور دیہی سطح پر صنفی اعتبار سے حساس طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانا ہے۔ اس پروگرام کے دوران ’’نربھے چیتنا‘‘ کے تربیتی ماڈیول کا بھی آغاز کیا گیا، جسے ٹرانسفارم رورل انڈیا نے تیار کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے ماسٹر تربیت کاروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک تیار کرنا ہے جو پنچایتی راج اداروں میں منتخب مرد عوامی نمائندوں کو صنفی مساوات، خواتین کے تحفظ، حقوق اور قیادت کے موضوعات پر تربیت فراہم کریں۔ پائلٹ مرحلے میں آسام، چھتیس گڑھ، ہماچل پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور اتراکھنڈ سمیت 6 ریاستوں سے تقریباً 40 ماسٹر تربیت کاروں نے شرکت کی۔ یہ گروپ ایک تدریجی تربیتی ماڈل کی بنیاد بنے گا، جسے بعد میں ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ پنچایتی راج کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج نے کہا کہ خواتین کے تحفظ، وقار اور مساوی شرکت کو یقینی بنائے بغیر وِکست بھارت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنچایتیں سماجی اور جمہوری تبدیلی کے مؤثر ادارے ہیں، جو دیہی سطح پر سوچ اور رویّوں میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’نربھے چیتنا‘‘ کا مقصد ایسی قیادت کو فروغ دینا ہے جو صنفی حساسیت کی حامل ہو اور خواتین کے وقار، تحفظ اور مواقع کو ترقی کے بنیادی ستونوں کے طور پر تسلیم کرے۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ پنچایتی راج کے ایڈیشنل سکریٹری جناب سشیل کمار لوہانی نے کہا کہ خواتین کے تحفظ اور عزت و وقار کو یقینی بنانا پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خواتین اور بچیوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کی تشکیل میں پنچایتوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نربھے چیتنا‘‘ کا مقصد منتخب مرد عوامی نمائندوں میں بیداری، حساسیت اور جوابدہی کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ اپنی برادریوں میں خواتین کے تحفظ، وقار، قیادت اور بااختیار بنانے کے مؤثر علمبردار بن سکیں۔
اس پروگرام میں شراکتی اور عملی طرزِ تربیت اختیار کیا گیا، جس کے تحت ماہرین کے خطابات، گروہی مباحثے، مطالعاتی مثالیں (کیس اسٹڈیز) اور تجرباتی تعلیم کے ذریعے صنفی مسائل کی بہتر تفہیم پیدا کرنے، معاشرتی تعصبات اور فرسودہ تصورات کو چیلنج کرنے اور صنفی حساس قیادت کو فروغ دینے پر توجہ دی گئی۔ پروگرام کے اہم موضوعات میں مثبت مردانگی، کمیونٹی کی شمولیت، اور خواتین کے تحفظ، وقار اور سماجی شمولیت کے فروغ میں پنچایتوں کا کردار شامل تھا۔
نربھے چیتنا کے بارے میں
’’نربھے چیتنا‘‘، ’’نربھے رہو‘‘ اقدام کا ایک اہم جزو ہے، جس کا آغاز 11 مارچ 2026 کو کیا گیا تھا۔ اس جامع پروگرام کے 3 باہم مربوط اجزاء ہیں۔ نربھے نیتری کا مقصد منتخب خواتین نمائندوں کی صلاحیت سازی اور انہیں قانونی حقوق و آگہی سے بااختیار بنانا ہے۔ نربھے چیتنا کا ہدف منتخب مرد عوامی نمائندوں میں صنفی مساوات اور خواتین کے تحفظ و سلامتی کے بارے میں حساسیت پیدا کرنا ہے۔ جبکہ نربھے درشتی کے تحت پنچایتوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی حفاظتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے دیہی علاقوں کے اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ’’نربھے چیتنا‘‘ کے تحت ریاستی، ضلعی اور بلاک سطح پر 28,500 ماسٹر تربیت کاروں کا ایک مضبوط تربیتی نیٹ ورک تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر کے 17.5 لاکھ سے زائد منتخب مرد عوامی نمائندوں تک رسائی حاصل کی جائے گی، تاکہ وہ خواتین کے تحفظ، وقار، مساوات اور بااختیار بنانے کے مؤثر علمبردار بن سکیں۔

******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-8925
(ریلیز آئی ڈی: 2275650)
وزیٹر کاؤنٹر : 14