این ایف ڈی سی–این ایف اے آئی کلیکشن کی احیاشدہ کلاسیکی دستاویزی فلموں سے ایم آئی ایف ایف 2026 میں ناظرین مسحور
گاندھی، بیگم اختر اور پنڈت روی شنکرحیات و خدمات پر مبنی دستاویزی فلمیں ایم آئی ایف ایف میں قابل ذکر رہیں
نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن–نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا(این ایف ڈی سی-این ایف اے آئی) کےکلیکشن سے پانچ احیا شدہ کلاسیکی دستاویزی فلمیں 19ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول(ایم آئی ایف ایف 2026) میں خصوصی غیر مسابقتی سیکشن- این ایف اے آئی پیش کرتا ہے’’ احیاشدہ کلاسیکس‘‘کے تحت پیش کی گئیں۔ منتخب کی گئی تمام فلمیں نیشنل فلم ہیریٹیج مشن(این ایف ایچ ایم کے تحت بحال (ری اسٹور)کی گئی ہیں، جو حکومت ہند کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک کے سنیما ورثے کا تحفظ اور بحالی ہے۔
بدھ کی شام پیش کیے گئے اس خصوصی پیکیج میں سابقہ فلمز ڈویژن کی تیار کردہ پانچ اہم دستاویزی فلمیں شامل تھیں۔ یہ فلمیں اجتماعی طور پرہندوستان کے ثقافتی، فنّی اور سماجی ورثے کی عکاسی کرتی ہیں اور موجودہ دور کے ناظرین کو ملک کی تاریخ کے اہم ادوار اور نمایاں شخصیات سے دوبارہ روشناس ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
ان دستاویزی فلموں میں سے تین عظیم شخصیات—مہاتما گاندھی، بیگم اختر اور پنڈت روی شنکر—کی زندگی اور خدمات پر مبنی ہیں، جبکہ باقی دو فلمیں کلکتہ شہر اور ہندوستان کی قبائلی برادریوں کی ثقافتی زندگی اور سماجی ورثے کی سنیما کے ذریعے مؤثر عکاسی کرتی ہیں۔
مہاتما: مہاتما گاندھی کی حیات (1869–1948) — حصہ اول
ہدایت کار وتھل بھائی کے جھاوری کی ہدایت میں 1968 میں تیار کی گئی یہ انگریزی زبان کی دستاویزی فلم آرکائیول فوٹیج کا وسیع استعمال کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کی زندگی اور کام کا ایک جامع احوال پیش کرتی ہے۔ یہ فلم مہاتما گاندھی کی زندگی اور ان کے کارناموں کا ایک قیمتی تاریخی ریکارڈ فراہم کرتی ہے۔

بیگم اختر
فلمز ڈویژن کی پیشکش اور این کے ایسر کی ہدایت کاری میں 1971 میں تیار کی گئی یہ انگریزی زبان کی دستاویزی فلم نامور گلوکارہ بیگم اختر کی زندگی، شخصیت اور فنی سفر کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، جنہیں محبت اور احترام سے ’ملکۂ غزل‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی گھریلو زندگی کے نادر مناظر، اہلِ خانہ کے ساتھ یادگار لمحات اور اسٹیج پر پیش کی گئی دلکش پرفارمنس کے ذریعے یہ فلم غزل اور ٹھمری کی اس عظیم فنکارہ کے فن، احساس اور موسیقی سے ان کی گہری وابستگی کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔

روی شنکر
پرمود پاٹی کی ہدایت کاری میں 1970 میں تیار کی گئی یہ دستاویزی سوانحی فلم عالمی شہرت یافتہ ستار نواز پنڈت روی شنکر کی زندگی، فنی سفر اور موسیقی سے ان کی غیر معمولی وابستگی کو اجاگر کرتی ہے۔ انٹرویوز، موسیقی کی محفلوں کی نادر ریکارڈنگز اور یادگار پرفارمنس کے ذریعے یہ فلم اس عظیم کلاسیکی موسیقار، ممتاز کمپوزر اور ہندوستانی موسیقی کے ثقافتی سفیر کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوؤں کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔

پورٹریٹ آف اے سٹی
چِدانند داس گپتا کی ہدایت کاری میں 1961 میں تیار کی گئی یہ دستاویزی فلم اُس دور کے کلکتہ کا ایک دلکش اور جاندار سنیماٹک منظرنامہ پیش کرتی ہے۔ فیکٹریوں، اخباری دفاتر، دریاؤں اور ریس کورس جیسے مقامات کی بصری جھلکیوں کو موسیقی، قدرتی صوتی ماحول اور برمحل مکالموں کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے یہ فلم ایک مصروف و پررونق شہر کی دھڑکن، اس کی روزمرہ زندگی اور منفرد تہذیبی شناخت کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔

ہماری اصل باشندگان
یہ فلم1953 میں جگت مراری کے پروڈکشن اور ہدایت کاری میں بنائی گئی۔ یہ انگریزی زبان کی مختصر دستاویزی فلم ہندوستان کی متنوع قبائلی برادریوں کا تعارف پیش کرتی ہے۔ 12 منٹ سے بھی کم دورانیے میں یہ فلم ملک بھر میں پھیلے ہوئے تقریباً 172 قبائلی گروپوں کی منفرد ثقافتی روایات، لباس، زیورات، موسیقی اور رقص کی روایات کو اجاگر کرتی ہے۔

اسکریننگز کے موقع پر منعقدہ ایک خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے این ایف ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب پرکاش مگدوم نے مستقبل کی نسلوں کے لیے فلمی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلموں کا تحفظ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سنیما کی تاریخ نئی اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور قابل رسائی رہے۔ انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ آج دنیا کے کئی ممتاز بین الاقوامی فلمی میلوں میں ازسرِ نو بحال شدہ کلاسیکی فلموں کی نمائش کے لیے خصوصی حصے مختص کیے جاتے ہیں۔
ایم آئی ایف ایف 2026 میں ان فلموں کی شمولیت فلمز ڈویژن کے آرکائیوز کی مستقل اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو دستاویزی اور نان فکشن سنیما کی دنیا کے سب سے قیمتی ذخائر میں سے ایک ہیں۔ نیشنل فلم ہیریٹیج مشن کے تحت جدید ترین بحالی کے عمل کے ذریعے ان فلموں کو معاصر ناظرین کے لیے ازسر نو احیاکیا گیا ہے، جبکہ ان کی اصل فلمی خصوصیات کو بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔
یہ اسکریننگز این ایف ڈی سی-این ایف اے آئی کے اس عزم کی توثیق کرتی ہیں کہ ہندوستان کے آڈیو ویژول ورثے کو محفوظ رکھا جائے اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔ ایم آئی ایف ایف 2026 میں ان کی پیشکش یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ یہ میلہ نہ صرف معاصر دستاویزی فلم سازی کا جشن مناتا ہے ،بلکہ ہندوستان کے مالا مال سنیما ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
پریس ریلیزز اور ایم آئی ایف ایف کے روزانہ کے پروگراموں کی اعلیٰ معیار کی تصاویر تک رسائی کے لیے یہاں کلک کریں۔
****
) ش ح – م ع ن- ن ع )
U.No. 8879
रिलीज़ आईडी:
2275174
| Visitor Counter:
11