’’سنیما واحد آواز والا باہمی تعانون پر مبنی فن ہے‘‘: فلم ایڈیٹنگ کے موضوع پر منعقدہ ایم آئی ایف ایف 2026 ورکشاپ کے دوران دیپا بھاٹیا کا اظہار خیال
ایک ایڈیٹر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ اثرانگیز تبدیلیٔ مناظر کے ذریعہ طویل مدتوں کو چند منٹوں کے اسکرین ٹائم میں سمیٹ کر ’’وقت کے تصور میں ردوبدل کرے‘‘: دیپا بھاٹیا
نامور فلم ایڈیٹر دیپا بھاٹیا نے آج 19ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف 2026) کے موقع پر منعقدہ ایک ورکشاپ، جس کا عنوان "سروائیونگ دی کٹ" تھا، کے دوران فلم ایڈیٹنگ کے فن اور مہارت کے بارے میں گرانقدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس سیشن میں فلم کے طالب علموں اور فلم سازی کے مختلف شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی۔
سینما کی اصل روح کے بارے میں بات کرتے ہوئے، دیپا بھاٹیا، جو خود بھی ایک ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ہیں، نے کہا کہ سینما متحرک تصویر اور تدوین کا مجموعہ ہے، اور ایڈیٹنگ کی مہارت میں اس انسانی لمس کی جھلک ہونی چاہیے جو فلمی تجربے کا مرکز و محور رہتا ہے۔

ایک ایڈیٹر کے لیے ضروری خصوصیات کی وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے فہم و فراست اور گہرے مشاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "ایڈیٹرز میں شاٹ کو پرکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ پورے مواد کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ایک ایڈیٹر کو چاہیے کہ وہ پرسکون اور غور و فکر کے ساتھ، بغیر کسی خلفشار کے، پوری فوٹیج کو بالکل مراقبے کے انداز میں دیکھے۔ دیپا بھاٹیا نے فوٹیج کو پوری توجہ اور خلوص سے دیکھنے کو ایڈیٹنگ کے عمل کا سب سے اہم اور پہلا قدم قرار دیا۔
ماہر ایڈیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ ایڈیٹرز کو فلم ساز کے نقطہ نظر اور جذباتی شدت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور ایڈیٹنگ ٹیبل پر پروجیکٹ کے ساتھ گہرا لگاؤ اور قربت کا احساس پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی لگن بہترین تخلیقی نتائج کو ممکن بناتی ہے۔ اس پورے عمل میں بہترین منظر کی شناخت کرنا، انہیں انتہائی مؤثر ترتیب میں سجانا، اور موزوں ترین فریمز اور کٹس کا انتخاب کرنا شامل ہے۔
ایڈیٹنگ کو تال سمجھنے کا ایک فن قرار دیتے ہوئے، دیپا بھاٹیا نے وضاحت کی کہ ایڈیٹنگ کے عمل کے دوران مناظر کو حتمی شکل دینے میں شاٹس کی اندرونی اور بیرونی دونوں تال اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اپنے وسیع پیشہ ورانہ تجربے سے مختلف مثالیں دیتے ہوئے، دیپا بھاٹیا نے اپنے کئی مایہ ناز پروجیکٹس پر گفتگو کی۔ انہوں نے 'تارے زمین پر'، 'مائی نیم از خان'، 'راک آن!!'، 'کائی پو چے!'، 'رئیس'، 'اسٹوڈنٹ آف دی ایئر' اور 'سچن: اے بلین ڈریمز' جیسی فلموں کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے فلم کے اندر سیکوینسز (مناظر کے تسلسل) کے پختہ ہونے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایک ایڈیٹر کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مؤثر ٹرانزیشنز (تبدیلیِ مناظر) کے ذریعے طویل وقت کو اسکرین پر چند منٹوں میں سمیٹ کر وقت کے احساس میں ردو بدل کرے۔

'راک آن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ کس طرح فلم کی ایڈیٹنگ نے اس کے ابتدائی مناظر میں ایک فطری اور غیر تراشیدہ انداز برقرار رکھا اور پھر اختتامی حصوں میں یہ بتدریج ٹھہراؤ کی طرف بڑھ گئی۔ 'سچن: اے بلین ڈریمز' کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے یاد کیا کہ انہوں نے لندن میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک اس فلم کی ایڈیٹنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دستاویزی فلم ایک ایسے مونٹیج سے شروع ہوتی ہے جسے اس عظیم کرکٹر کی زندگی اور کریئر کی اصل روح کو اجاگر کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
او ٹی ٹی پلیٹ فارموں کی آمد کے ساتھ ہی دستاویزی فلموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے دیپا بھاٹیا نے کہا کہ اس صنف میں ناظرین کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سنیما کے بارے میں اپنی سمجھ کا خلاصہ کرتے ہوئے، دیپا بھاٹیا نے اسے "ایک واحد آواز کے ساتھ ایک باہمی تعاون کا فن" قرار دیا، جس میں انہوں نے فلم سازی میں شامل اجتماعی کوششوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایک متحد تخلیقی نقطہ نظر (ویژن) کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ایم آئی ایف ایف کی روزانہ کی تقریبات کی اعلیٰ کوالٹی کی تصاویر اور پریس ریلیز ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:8853
रिलीज़ आईडी:
2274928
| Visitor Counter:
9