دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

چھ کروڑ لکھ پتی دیدیوں کی تعداد بڑھانے اور انہیں مارکیٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں 700 شی-مارٹس اور 1,000 ضلعی تکمیلی مراکز قائم کیے جائیں گے


دیہی ترقی کے سیکریٹری نے دیہی روزگار اور معاشی ترقی مشن کے تحت مارکیٹنگ اقدامات کا جائزہ لیا اور خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری اداروں کے لیے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر زور دیا

صلاحیت سازی، کاروباری سرگرمیوں کا فروغ، او این ڈی سی، تجارتی نیٹ ورک کے ساتھ شراکت داری اور مالی شمولیت آئندہ بھی اہم ترجیحات میں شامل رہیں گی

प्रविष्टि तिथि: 14 JUN 2026 8:52PM by PIB Delhi

دیہی ترقی کے محکمے نے چھ کروڑ لکھ پتی دیدیوں کو تیار کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے اہم نکات میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا، دیہی خواتین کے لیے مالی شمولیت کو مضبوط بنانا، اور خود امدادی گروپوں کے اراکین کے لیے صلاحیت سازی، مارکیٹنگ سرگرمیوں، تربیت اور مسلسل رہنمائی و معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔

اس موضوع پر حکومتِ ہند کے دیہی ترقی کے محکمے کے سیکریٹری جناب روہت کنسل کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کا مقصد دین دیال انتودیہ یوجنا – قومی دیہی روزگار و معاشی ترقی مشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) اور اس کی مختلف ذیلی اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔

اجلاس میں جوائنٹ سیکریٹری محترمہ سواتی شرما اور محترمہ جے شری ایم جی کے علاوہ دیہی روزگار و معاشی ترقی ڈویژن اور قومی مشن انتظامی یونٹ(این ایم ایم یو) کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

اس گفتگو کا بنیادی مقصد ایک مضبوط اور مربوط مارکیٹنگ نظام قائم کرنا تھا، تاکہ دیہی خواتین محض روزگار حاصل کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ پیشہ ورانہ انداز میں چلائے جانے والے اور برادری کی ملکیت والے ایسے کاروباری اداروں کی مالک بن سکیں جنہیں منظم منڈیوں تک مستقل رسائی حاصل ہو۔

اجلاس میں برادری کی ملکیت پر مبنی خردہ فروشی کے نظام، ایک متحدہ قومی مارکیٹنگ شناخت، ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارم، بنیادی تجارتی ڈھانچے، ادارہ جاتی معاونتی نظام اور متعلقہ رہنما اصولوں کے عملی نفاذ جیسے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ خود امدادی گروپوں پر مبنی کاروباری اداروں کے فروغ کے لیے سات سو شی مارٹ، ایک ہزار ضلعی تکمیلی مراکز اور سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح کی وفاقی تنظیموں کو بھی مضبوط بنانے کی تجویز ہے۔شی مارٹ ایسے تجارتی مقامات پر قائم کیے جانے کی تجویز ہے جہاں کاروباری امکانات زیادہ ہوں اور جہاں خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کے لیے منڈی تک مسلسل رسائی یقینی بنانے کی خاطر پیداواری اور فروخت کے روابط مضبوط ہوں۔منصوبوں کے مؤثر نفاذ کے لیے سیکریٹری نے تمام سرگرمیوں کا تفصیلی سالانہ کیلنڈر تیار کرنے اور مقررہ اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے خود امدادی گروپوں کے اراکین اور برادری کی تنظیموں کی نمایاں خدمات کو تسلیم کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک وسیع اعزازی نظام متعارف کرانے پر بھی زور دیا۔مجوزہ اعزازات میں بہترین کارکردگی دکھانے والی ریاست، بہترین خاتون کاروباری شخصیت، بہترین ڈیجیٹل اقدام، خود امدادی گروپ فنڈ کی منتقلی میں نمایاں کامیابی، لکھ پتی دیدی ایوارڈ اور دیہی روزگار و معاشی ترقی کے نظام میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف کے لیے دیگر اعزازات شامل ہیں۔

زرعی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر ذریعۂ معاش اور مارکیٹنگ اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے سیکریٹری نے ایس اے آر اے ایس میلہ کے نظرِ ثانی شدہ رہنما اصول تیار کرنے اور جاری کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کی فروخت کے مواقع اور منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے قومی اور ریاستی سطح پر سرس میلوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے پروڈیوسر گروپ ایپ کے اجرا اور جن سامرتھ پورٹل کے ذریعے جمع کرائی گئی قرض درخواستوں میں تاخیر کے مسائل کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اس کے ساتھ انہوں نے دین دیال انتودیہ یوجنا – قومی دیہی روزگار و معاشی ترقی مشن کی قرض سے منسلک اسکیموں کے بارے میں بینکرس میں آگاہی پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

جائزہ اجلاس میں ’’سارس آجیویکا‘‘ کے لیے مجوزہ متحدہ قومی مارکیٹنگ شناخت پر بھی غور کیا گیا۔ اس کا مقصد مختلف اور منقسم برانڈنگ کو ایک ایسی قومی شناخت میں تبدیل کرنا ہے جو معیاری، ممتاز اور ثقافتی طور پر مربوط ہو۔ اس اقدام کے ذریعے مصنوعات کی بہتر پیش کش، معیاری پیکنگ اور مؤثر تشہیر کے ذریعے بازار میں ان کی شناخت کو مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ ان مصنوعات کے پس منظر میں موجود ہنرمندوں اور برادریوں کو بھی نمایاں کیا جائے گا۔

اجلاس میں ازسرِنو تشکیل دیے گئے ای۔سارس پورٹل کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کی ڈیجیٹل رسائی بڑھانے کے لیے اس پلیٹ فارم کو ایک واحد فروخت کنندہ ویب سائٹ سے تبدیل کر کے کثیر فروخت کنندگان پر مشتمل اور متعدد ذرائع سے منسلک تجارتی پلیٹ فارم بنایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع نمایاں ’’سارس گیلری‘‘ کی ازسرِ نو تشکیل کے منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی، جس کا مقصد خریداروں کے تجربے کو بہتر بنانا اور تجارتی کارکردگی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

مصنوعات میں جدت، ڈیزائن کی ترقی، پیکنگ کے معیار میں بہتری، معیاری تقاضوں کی تکمیل اور صلاحیت سازی کے لیے قومی مراکز قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ توقع ہے کہ یہ مراکز خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت اور منڈی میں ان کی تیاری کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اجلاس کا ایک اہم حصہ ہر اقدام کے لیے تفصیلی عملی رہنما اصول پیش کرنا تھا۔ یہ رہنما اصول ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ایک مشترکہ لائحۂ عمل، معیاری عملی طریقۂ کار اور واضح طور پر متعین ذمہ داریاں، مدتِ تکمیل اور طریقۂ کار فراہم کرتے ہیں، تاکہ ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہو اور مطلوبہ نتائج بروقت حاصل کیے جا سکیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے مؤثر عمل درآمد اور وزارت کی مسلسل رہنمائی و معاونت کے نتیجے میں دیہی خواتین کاروباری شخصیات کی منڈیوں تک رسائی نمایاں طور پر مضبوط ہوگی اور خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کو قومی اور بین الاقوامی معیاری منڈیوں میں کامیابی حاصل ہوگی۔

***********

         

ش ح۔ ع ح۔ ش ب ن

U-NO-8607


(रिलीज़ आईडी: 2272869) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , Punjabi , Gujarati , Tamil , Malayalam , English , Telugu