وزیراعظم کا دفتر
فرانس میں بھارت انوویٹ 2026 کی تقریب میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
प्रविष्टि तिथि:
14 JUN 2026 4:36PM by PIB Delhi
عزت مآب، میرے عزیز دوست، صدر میکرون،
وینچر کیپیٹل سرمایہ کار، صنعتی رہنما اور اختراع کار حضرات،
بونژو!
نمستے!
میں ’’بھارت انوویٹس‘‘ میں شریک تمام ساتھیوں کا خیرمقدم کرتا ہوں اور اس پروگرام کے انعقاد پر سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
دنیا میں مختلف ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے ہیں اور اسٹریٹجک شراکت داریاں بھی قائم کرتے ہیں، لیکن بعض تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو صرف مشترکہ مفادات ہی نہیں بلکہ مشترکہ وژن پر بھی قائم ہوتے ہیں۔ ہندوستان اور فرانس کا رشتہ بھی ایسا ہی ہے۔
اس تعلق میں ربط بھی ہے اور یقین بھی۔ اس میں اختراع بھی ہے اور تحریک بھی۔ اس میں مشترکہ اقدار بھی ہیں اور مشترکہ وژن بھی۔
اسی مضبوط بنیاد پر گزشتہ برسوں میں ہم نے مل کر نئی پہلوں کا آغاز کیا، نئے خیالات کو سمت دی اور عالمی چیلنجوں کے حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
چاہے بین الاقوامی شمسی اتحاد ہو، مصنوعی ذہانت پر بات چیت ہو یا سلامتی سے لے کر پائیداری تک کی شراکت داری، انسانیت کو درپیش چیلنجوں کے حل کے لیے دونوں ممالک نے مل کر کام کیا ہے۔
اسی سال فروری میں ہند-فرانس سالِ اختراع کا آغاز ہوا اور آج ہمیں خوشی ہے کہ ’’بھارت انوویٹس‘‘ کا آغاز بھی فرانس کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے۔
میں اپنے دوست صدر میکرون کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس موقع پر یہاں موجود ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اس صدی کے چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے لیے ہندوستان اور فرانس کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ اقدام اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
’’بھارت انوویٹس ‘‘ہندوستانی صلاحیتوں اور یورپی سرمایہ کاری کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہندوستان کے نوجوان ذہنوں کو یورپی مہارت سے جڑنے کا موقع مل رہا ہے۔
ساتھیو،
آج اکیسویں صدی کا ہندوستان ایک بہت بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ آج ہندوستان میں اسٹارٹ اپ انقلاب برپا ہے۔ اس انقلاب میں ہندوستان کا نوجوان ایک نئی سوچ کے ساتھ انسانیت کی بھلائی کے لیے مسائل کے حل تلاش کر رہا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے عالمی معیار کے حل کو عالمی سطح تک پہنچانے کا ذریعہ ہی ’’بھارت انوویٹس‘‘ ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی کے بورڈ کے چیئرمین، میرے دوست ہریش سالوے جی نے اس پروگرام کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے لیے میں انہیں اور پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
آج یہاں بڑی تعداد میں نوجوان کاروباری شخصیات شریک ہیں۔ یہاں آپ کو ہندوستان کے مستقبل کی جھلک نظر آتی ہے۔ آپ کو ہندوستان کے نوجوانوں کا اعتماد دکھائی دیتا ہے۔ آپ کو نئے ہندوستان کی توانائی محسوس ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسا ہندوستان ہے جو صرف حل کا صارف نہیں بلکہ حل فراہم کرنے والا ملک بن کر ابھر رہا ہے۔ یہاں کوئی مصنوعی ذہانت کے ذریعے دیہی زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف ہے، تو کوئی کسانوں کی مدد کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے۔ کچھ نوجوان اسمارٹ شہروں، جدید مینوفیکچرنگ اور نئے مواد کے ذریعے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں۔ کوئی گرین ہائیڈروجن، برقی نقل و حمل اور بیٹری ٹیکنالوجیز کے ذریعے پائیدار مستقبل کو یقینی بنا رہا ہے، جبکہ کچھ اسٹارٹ اپس دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں نئی ٹیکنالوجیاں تیار کر رہے ہیں۔
آپ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے میں کہوں گا:
ہندوستان وسعت اور رفتار کے ساتھ اختراع کر رہا ہے۔
ہندوستان ایک پائیدار مستقبل کے لیے اختراع کر رہا ہے۔
اور ہندوستان پوری دنیا کے لیے اختراع کر رہا ہے۔
ساتھیو،
آج اس پروگرام میں بڑی تعداد میں وینچر کیپیٹل سرمایہ کار اور صنعتی رہنما بھی شریک ہیں۔ میں ان کے سامنے خاص طور پر ہندوستان سے آئے ان نوجوان ساتھیوں کی تعریف کرنا چاہوں گا۔
یہاں موجود تمام افراد نے روایتی راستوں پر چلنے کے بجائے ایک نئی راہ اختیار کی ہے اور اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ آپ کو یہاں 100 سے 125 اسٹارٹ اپس نظر آ رہے ہیں، لیکن ہندوستان میں ایسے دو لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ آج یہ تمام اسٹارٹ اپس نئی توانائی کے ساتھ ہندوستان اور عالمی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ساتھیو،
دنیا کے لیے یہ دہائی تبدیلی اور ترقی، دونوں کی دہائی ہے۔ تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان دنیا ایک غیر معمولی ہلچل کے دور سے گزر رہی ہے۔ لیکن جتنے زیادہ چیلنجز انسانیت کے سامنے ہیں، اتنے ہی زیادہ مواقع بھی موجود ہیں۔
مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، خلائی ٹیکنالوجیز اور جدید مواد ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جو انسانیت کے مستقبل کی تشکیل کریں گی۔ یہی انسانی تہذیب کے اگلے باب کی بنیاد ہیں۔
ہر تکنیکی انقلاب انسانیت کو ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے اور ہر موقع اپنے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ آج دنیا ایسی ٹیکنالوجیوں کی متلاشی ہے جو قابل اعتماد، جامع، انسان دوست اور عالمی فلاح و بہبود کے لیے وقف ہوں۔ ایسے وقت میں ہندوستان کی ترجیح ہے: انسانیت کے لیے ٹیکنالوجی اور انسان مرکز اختراع۔
ساتھیو،
یہی سوچ ہمارے ڈیجیٹل انقلاب کا مرکز رہی ہے۔ یہی ہندوستان کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کا بھی بنیادی فلسفہ ہے۔ ہمارے مصنوعی ذہانت کے وژن کا مرکزی اصول بھی یہی ہے:
سب کے لیے مصنوعی ذہانت — سب کی بھلائی، سب کی خوشحالی۔
دہلی میں منعقدہ مصنوعی ذہانت اثراتی سربراہ اجلاس کا مرکزی موضوع بھی یہی تھا۔
ساتھیو،
ہندوستان نے ثابت کیا ہے کہ اختراع اور شمولیت ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ کسی بھی اختراع کی عظمت صرف اس کی مالی قدر میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے انسانی اثرات میں ہوتی ہے۔
یہی ’’بھارت انوویٹس‘‘ کی روح ہے اور یہی ہندوستان کا نقطۂ نظر بھی ہے۔ یہاں موجود اسٹارٹ اپ دنیا سے وابستہ تمام افراد اور آپ سب کے لیے یہ ایک بڑی تحریک کا ذریعہ ہے۔
ساتھیو،
اختراع ہندوستان کی سرشت میں شامل ہے۔ ہزاروں برسوں سے ہندوستان نے اپنے علم اور اختراع کے ذریعے دنیا کو نئی سمت دی ہے۔ ریاضی سے فلکیات تک، طب سے یوگا تک، ہندوستان کی خدمات پوری انسانیت کی ترقی کی بنیاد رہی ہیں۔ آج ہم نے اسی عظیم ورثے کو نئی رفتار اور نئی سمت عطا کی ہے۔
ساتھیو،
گزشتہ 11 سے 12 برسوں میں ہندوستان نے اختراع کے لیے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام تیار کیا ہے۔ پیٹنٹ درخواستوں سے لے کر انکیوبیشن نیٹ ورکس تک، اسٹارٹ اپ انڈیا سے لے کر پالیسی معاونت تک، یہ پورا سفر مشن موڈ میں آگے بڑھا ہے۔
آج ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام بن چکا ہے۔ لیکن ہماری سوچ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے۔ ہم نے اختراع کو نچلی سطح تک پہنچانے کا کام کیا ہے۔
اسکولوں میں اٹل ٹنکرنگ لیبز قائم کی گئی ہیں، نوجوانوں کو ہیکاتھونز اور اختراعی چیلنجوں سے جوڑا جا رہا ہے، ملک بھر میں انکیوبیٹرز اور تحقیقی اداروں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے، اور خاص طور پر خواتین اختراع کاروں کو جدید ٹیکنالوجیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں ہندوستان میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئی ہے۔ آج ’’ڈرون دیدی‘‘ سے لے کر اسٹارٹ اپ بانی بننے تک ہماری خواتین نئی کامیابیوں کی داستانیں رقم کر رہی ہیں۔
ساتھیو،
نوجوانوں کی اسی توانائی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان کے دفاعی شعبے کو بھی اختراع کے لیے کھولا گیا ہے۔ آج دفاع اور خلائی شعبوں سے وابستہ سیکڑوں اسٹارٹ اپس ہندوستان میں شاندار کام کر رہے ہیں۔
حال ہی میں ہندوستان نے جوہری توانائی کے شعبے میں بھی اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن سے صاف توانائی، جدید ری ایکٹرز اور اعلیٰ درجے کی تحقیق کے میدان میں نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
اصلاحات کی یہ تیز رفتار گاڑی رکے گی نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھتی رہے گی، اور ہندوستان سے ابھرنے والے اسٹارٹ اپس کی تعداد بھی کئی گنا بڑھتی رہے گی۔
ساتھیو،
ایک دہائی پہلے دنیا ہندوستان کو ٹیکنالوجی اپنانے والے ملک کے طور پر دیکھتی تھی، لیکن آج ہندوستان ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ہندوستان جو بھی اختراع کرتا ہے اور جو بھی حل پیش کرتا ہے، اس کا فائدہ انسانیت کے ایک بڑے حصے تک پہنچتا ہے۔ ’’بھارت انوویٹس‘‘ کا مقصد بھی یہی ہے۔
بھارت انوویٹس دنیا کے لیے ایک دعوت ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ مل کر عالمی اختراع کے اگلے باب کی تخلیق کرے۔
میں آئندہ تین دنوں کے دوران ہونے والے آپ کے تمام اجلاسوں اور مباحثوں کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ ہم شراکت داری چاہتے ہیں، مشترکہ ترقی چاہتے ہیں، مشترکہ تحقیق چاہتے ہیں، مشترکہ مینوفیکچرنگ چاہتے ہیں اور طویل مدتی تعاون چاہتے ہیں۔
میں یہاں موجود ہر سرمایہ کار، ہر یونیورسٹی، ہر تحقیقی ادارے اور ہر کاروباری شخصیت کو پُرزور دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہندوستان آئیں، ہمارے ساتھ مل کر کام کریں، ہندوستان میں ڈیزائن کریں، ہندوستان میں تیّار کریں اور پوری دنیا کے لیے حل تیار کریں۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
*****
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :8593 )
(रिलीज़ आईडी: 2272724)
आगंतुक पटल : 3