زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اندور سے برکس زرعی تعاون کیلئے نیا عزم : مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے عالمی شراکت داری اور ‘‘وسودھیو کٹمبکم’’ کے جذبے پر زور دیا - مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان

ہندوستان کی توجہ چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے: مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان

زرعی شعبہ سالانہ 4.5 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے،جبکہ خوراک کی پیداوار 376 ملین ٹن تک پہنچ گئی-جناب شیوراج سنگھ  چوہان

خواتین اور نوجوانوں کی طاقت زرعی تبدیلی کی بنیاد ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان

قدرتی کاشتکاری اور جدید ٹیکنالوجی مستقبل کی تیاری اور زرعی استحکام کی بنیاد بنیں گی-مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان

प्रविष्टि तिथि: 12 JUN 2026 2:38PM by PIB Delhi

برکس ممالک کے وزرائے زراعت کی دو روزہ کانفرنس آج اندور میں شروع ہوئی ، جو مدھیہ پردیش کا تجارتی دارالحکومت اور صفائی کیلئے معروف ہے ۔  اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوستان کی زرعی طاقت ، ثقافتی اقدار اور عالمی تعاون کے عزم کو مؤثر طریقے سے پیش کیا ۔  وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ، انہوں نے دنیا کو ایک خاندان سمجھتے ہوئے امن ، ہم آہنگی اور شراکت داری پر مبنی ترقی کے منتر کے ساتھ ‘‘وسودھیو کٹمبکم’’ کے جذبے کو آگے بڑھایا ۔  زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

1.jpg

اپنے خطاب میں ‘‘اتیتھی دیوو بھؤ’’ کی ہندوستانی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے تمام مندوبین کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہندوستان ہمیشہ عالمی اتحاد ، امن اور تعاون کے حق میں رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کا وژن ‘‘جنگ نہیں امن ، تنازعہ نہیں ہم آہنگی’’ پر مبنی ہے جو عالمی زرعی شراکت داری کے لئےسد رہنما اصول بن سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ مکالمہ خاص طور پر چھوٹے اور حاشیہ پر رہنے والے کسانوں کو درپیش چیلنجوں جیسے آب و ہوا کی تبدیلی ، قدرتی وسائل پر دباؤ اور بازار کی غیر یقینی صورتحال کے اجتماعی حل تلاش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر چھوٹے کسان مضبوط ہوں گے تو دنیا کا غذائی تحفظ خود بخود مضبوط ہو جائے گا ۔

2.jpg

ہندوستان کی زرعی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے بتایا کہ زراعت کے شعبے نے گزشتہ ایک دہائی میں تقریبا 4.5 فیصد کی اوسط سالانہ ترقی درج کی ہے ۔ ملک کی خوراک کی کل پیداوار بڑھ کر تقریبا 376 ملین ٹن ہو گئی ہے ۔ گندم کی پیداوار 118 ملین ٹن کے قریب پہنچ گئی ہے ، جبکہ باغبانی کی پیداوار 378 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی ہے ۔ مچھلی کی پیداوار بھی بڑھ کر 19 ملین ٹن سے زیادہ ہو گئی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا غذائی تحفظ کا پروگرام چلاتا ہے جس کے ذریعے ایک بڑی آبادی کے لیے غذا کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ کسانوں کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں ان کی محنت اور حکومت کی حساس پالیسیوں کا نتیجہ ہیں ۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ہندوستان میں تقریبا 43 فیصد افرادی قوت زراعت سے وابستہ ہے اور یہ شعبہ نہ صرف غذائی تحفظ بلکہ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی کی بنیاد بھی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں چلائے جانے والے ایڈوانسڈ سیڈز ، آبپاشی ، ٹیکنالوجی اور کسانوں کے امدادی پروگرام جیسی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ان اسکیموں سے بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے ۔

3.jpg

چھوٹے اور حاشیہ پر رہنے والے کسانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تقریبا 87 فیصد کسان اس زمرے میں آتے ہیں اور انہیں بااختیار بنانا جامع ترقی کی کلید ہے ۔ پردھان منتری کسان سمان ندھی کے تحت لاکھوں کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچایا جا رہا ہے ، جبکہ کسان کریڈٹ کارڈ اور فصل بیمہ جیسی اسکیمیں کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کر رہی ہیں ۔

قدرتی کاشتکاری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیمیائی کھادوں کا متوازن استعمال اور مٹی کی صحت کو برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ مدھیہ پردیش سے شروع کئے گئے ملک گیر‘‘کھیت بچاؤ ابھیان’’ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کے ذریعے کسانوں کو سائنسی معلومات اور خدمات فراہم کی جا رہی ہیں ، جس سے قدرتی کاشتکاری اور نامیاتی وسائل کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

4.jpeg

مرکزی وزیر نے زراعت اور دیہی ترقی میں خواتین کی شرکت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کو زرعی تبدیلی کی مضبوط ترین بنیادوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ملک بھر میں کروڑوں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے زراعت اور اس سے وابستہ سرگرمیوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ‘‘ڈرون دیدی’’ جیسی پہل دیہی بھارت میں تکنیکی اور سماجی تبدیلی کی علامت بن چکی ہے، جو خواتین کو جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنے اور دیہی معیشت کی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے جدید زراعت میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اختراع، اسٹارٹ اپس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور زرعی صنعت کاری کے ذریعے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس شعبے کو زیادہ جدید، مؤثر اور پُرکشش بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے نتیجے میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ایسا زرعی نظام تشکیل پا رہا ہے جو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

برکس ممالک سے مزید قریبی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے جناب چوہان نے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانے، غذا کی فراہمی کو یقینی بنانے اور دنیا بھر میں پائیدار زرعی ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ کانفرنس تجربات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور پالیسی سطح پر مکالمے کے ذریعے مضبوط شراکت داری قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق برکس ممالک کی اجتماعی کوششیں عالمی زراعت کو نئی سمت فراہم کر سکتی ہیں اور زیادہ محفوظ، پائیدار اور جامع زرعی مستقبل کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن

U.NO.8535


(रिलीज़ आईडी: 2272124) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam