وزارت اطلاعات ونشریات
ٹیلی ویژن، ریڈیو اور متعلقہ خدمات سے متعلق ٹیلی مواصلاتی ضوابط کا مسودہ،عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
12 JUN 2026 11:17AM by PIB Delhi
پارلیمنٹ نے 2023 میں ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ منظور کیا، جو ایک انقلابی قانون ہے۔ اس قانون نے 1885 کے فرسودہ ٹیلی گراف ایکٹ کی جگہ لے لی ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ، ایک جامع قانون ہے، جس کے دائرۂ کار میں مختلف النوع خدمات شامل ہیں۔ اس قانون پر عمل درآمد متعلقہ خدمات کی نوعیت کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور ان سے متعلقہ خدمات سےمتعلق دفعات پر عمل درآمد وزارتِ اطلاعات و نشریات کرتی ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن (ٹیلی ویژن، ریڈیو اور متعلقہ خدمات) ضوابط، 2026 کا مسودہ اس مقصد سے تیار کیا گیا ہے کہ 1885 کے سابقہ ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت ٹیلی ویژن اور ریڈیو خدمات کے لیے وقتاً فوقتاً جاری کی گئی مختلف ہدایات اور رہنما اصولوں کو 2023 کے نئے ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ کے قانونی فریم ورک کے تحت یکجا اور منظم کیا جا سکے۔
اس مجوزہ ضوابط کے مجموعے میں درج ذیل رہنما اصولوں کو یکجا کیا گیا ہے:
- 9 نومبر 2022 کے بھارت میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز کی اپ لنکنگ اور ڈاؤن لنکنگ سے متعلق پالیسی رہنما اصول؛
- 15 مارچ 2001 کے بھارت میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) نشریاتی خدمات کے لائسنس کے حصول سے متعلق رہنما اصول، جن میں وقتاً فوقتاً کی گئی ترامیم بھی شامل ہیں؛
- 26 نومبر 2009 کے ہیڈ اینڈ اِن دی اسکائی (ہٹس) نشریاتی خدمات کی فراہمی سے متعلق رہنما اصول؛
- 25 جولائی 2011 کی نجی اداروں کے ذریعے ایف ایم ریڈیو نشریاتی خدمات کے توسیعی مرحلہ (فیز III) سے متعلق پالیسی رہنما اصول، جن میں 10 ستمبر 2024 تک کی گئی تمام ترامیم شامل ہیں؛
- 13 فروری 2024 کے کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنوں کے قیام سے متعلق نظرثانی شدہ پالیسی رہنما اصول؛ اور
- 8 ستمبر 2008 کے انٹرنیٹ پروٹوکول ٹیلی ویژن (آئی پی ٹی وی) خدمات کی فراہمی سے متعلق رہنما اصول۔
ان قواعد کے نفاذ سے ٹیلی ویژن اور ریڈیو نشریاتی صنعت کو ایک متحد، جامع اور نمایاں طور پر آسان ضابطۂ قواعد میسر آئے گا۔ ان قواعد کا مقصد موجودہ ضابطہ جاتی نظام کو آسان اور ہم آہنگ بنانا، نیز ٹیلی ویژن اور ریڈیو نشریاتی شعبے میں کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔
قواعد کے باضابطہ طور پر نافذ ہونے کے بعد نشریاتی خدمات سے متعلق موجودہ مختلف رہنما اصولوں کی جگہ یہی قواعد نافذ العمل ہوں گے۔
مجوزہ قواعد کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- تسلسل کے ساتھ اصلاحات:موجودہ اجازت ناموں کی شرائط و ضوابط کو ہم آہنگ اور معقول بنایا گیا ہے تاکہ موجودہ نظام کا تسلسل برقرار رہے اور ساتھ ہی اصلاحات بھی متعارف کرائی جا سکیں۔
- کاروبار کرنے میں آسانی
- متعدد رہنما اصولوں کے بجائے ایک واحد ضابطہ جاتی فریم ورک؛
- اجازت ناموں کے اجرا کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا؛
- اجازت حاصل کرنے کے طریقۂ کار کو مزید آسان اور سہل بنانا؛
- گرانٹ آف پرمیشن ایگریمنٹ (جی او پی اے) پر دستخط کرنے کی شرط کا خاتمہ؛
- تنازعات کے فیصلے کے لیے شفاف عدالتی و فیصلہ سازی کا نظام فراہم کرنا۔
یہ مجوزہ قواعد عوامی اور بین وزارتی مشاورت کے لیے وزارتِ اطلاعات و نشریات کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ہیں۔
اگر کسی کے پاس اس سلسلے میں کوئی رائے، تبصرہ یا تجویز ہو تو وہ 27 جولائی 2026 تک انڈر سیکریٹری (بی پی اور ایل)، وزارتِ اطلاعات و نشریات، حکومتِ ہند، تیسری منزل، کرتویہ بھون-II، نئی دہلی – 110001 کو ارسال کر سکتا ہے۔ آراء اور تجاویز ترجیحاً ای میل usbpl-moib[at]gov[dot]in کے ذریعے بھیجی جا سکتی ہیں۔
****
) ش ح ۔ع ح۔ص ج)
U.No. 8317
(रिलीज़ आईडी: 2271994)
आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
हिन्दी
,
Assamese
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam