امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے تریپورہ میں بی ایس ایف کی لنکامورا سرحدی چوکی کا معائنہ کیااور سرحدی دفاعی اہلکاروں سے گفتگو کر کے جوانوں کا حوصلہ بڑھایا


بے مثال صبر، مستقل محنت اور مادرِ وطن سے بے پناہ عقیدت کی علامت، قابل احترام “گروجی’’کو ان کی برسی پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جنہوں نے آر ایس ایس کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور آج بھی “ملک مقدم” کے نظریئے کیلئے تحریک کا ذریعہ ہیں

عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر اگرتلہ میں‘‘اگر ’’کے پودے کی شجرکاری کر کے جناب امت شاہ نے ایک سرسبز بھارت کا پیغام دیا

سال2019 سے اب تک سی اے پی ایف کے جوانوں نے 7.50 کروڑ سے زائد درخت لگائے ہیں اور آئندہ سال کے لئے 2 کروڑ درختوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جوان ہر ایک پودے کی اپنے کنبے کے فرد کی طرح دیکھ بھال کر رہے ہیں

منشیات، انسانی اسمگلنگ، اسلحہ کی اسمگلنگ یا ڈرون جیسے چیلنجز کو بی ایس ایف تریپورہ سے مغربی بنگال اور بہار تک سرحدوں پر ہر خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہی ہے

پیرس معاہدے کے تمام نکات کو وقت سے پہلے پورا کر کے بھارت ماحولیاتی تحفظ کا عالمی ماڈل بن چکا ہے اور رگ وید کے پیغام کو موجودہ حکومت نے عملی شکل دی ہے

وزیر داخلہ نے کہاکہ وہ جوان کی ایک ٹیوب لائٹ کے لئے بھی وقت دینے کو تیار ہیں اور بجلی، گرین انرجی اور محفوظ پینے کے پانی کے ذریعے مودی حکومت سرحدی چوکیوں کی صورتحال بدل رہی ہے

جلد ہی سرحدوں پر ‘‘اسمارٹ بارڈر’’ کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا، جس میں جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈرونز، سینسرز اور اسمارٹ فینسنگ کے ذریعے ایک مضبوط اور جدید سکیورٹی گرڈ تشکیل دیا جا رہا ہے

سرحدی سکیورٹی اب تنہاکام نہیں کرے گی ، بلکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، پٹواری، سرپنچ سے لے کر جدید ٹیکنالوجی اور بی ایس ایف جوانوں کی محنت تک سب مل کر ایک لیک پروف سکیورٹی نظام تشکیل دیں گے

سرحدی باڑ کی بڑے پیمانے پر جدید کاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت 650 کلومیٹر پرانی باڑ کی تجدید اور 119 کلومیٹر نئی جدید باڑ کی منظوری دی گئی ہے اور اس کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے

प्रविष्टि तिथि: 05 JUN 2026 4:50PM by PIB Delhi

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے آج سرحدی سلامتی فورس کی لنکامورا سرحدی چوکی (بی او پی) کا معائنہ کیا اور بی ایس ایف کے جوانوں سے گفتگو کی۔مرکزی وزیر داخلہ نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر تریپورہ کی راجدھانی اگرتلہ میں شجرکاری مہم کے تحت اگر کا پودالگایا۔ اس موقع پر تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا، مرکزی داخلہ سکریٹری، انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر، بارڈر مینجمنٹ کے سکریٹری اور سرحدی سلامتی فورس (بی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرل سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔

1.jpg

اس موقع پر اپنے خطاب میں داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ آج یہاں شجرکاری کا پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔ 2019 سے لے کر آج تک تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے جوانوں نے تقریباً 7.5 کروڑ سے زائد درخت لگانے کا کام کیا ہے۔ اس سال 40 سے 60 لاکھ درخت لگائے جائیں گے اور جو درخت مرجھا جائیں گے ان کی دوبارہ شجرکاری کی جائے گی۔ اگلے سال سی اے پی ایف کے جوان2 کروڑ درخت لگانے کا کام کریں گے، جس سے ماحول اور ملک دونوں کی خدمت ہوگی۔

جناب امت شاہ نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت اور اس سمت میں مودی حکومت کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوزون کی تہہ سورج کی شعاعوں کو انسانوں اور دیگر جانداروں کے لئے قابل برداشت بناتی ہے اور اسے محفوظ رکھنے کا واحد مؤثر طریقہ درختوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ماحولیاتی تحفظ کے لئے متعدد اقدامات ایک ساتھ کئے ہیں اور اس حوالے سے بھارت کا ماڈل پیرس ماحولیاتی کانفرنس میں ایک مثالی ماڈل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پیرس معاہدے کے تمام نکات کو وقت سے پہلے مکمل کر کے رگ وید کے ماحولیاتی تحفظ کے پیغام کے ساتھ اپنی وابستگی کو دنیا کے سامنے ثابت کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی اے پی ایف کے تمام جوان ایک درخت کو اپنے کنبے کے فرد کی طرح سمجھ کر اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ یہ صرف سرکاری ہدایت نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک فطری عادت بننی چاہیے، کیونکہ یہی عادت ہمیں اور ہمارے ماحول کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

2.jpg

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ آج سرحدی سلامتی فورس کی 37ویں بٹالین میں جوانوں کی رہائش کا ای-افتتاح اور بی ایس ایف کی 97ویں بٹالین میں کوارٹر گارڈ کمپلیکس کا ای-سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہمارے جوانوں کی سہولت کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ جوانوں اور ان کے اہلِ خانہ کی صحت اور رہائش کے لیے مکانات کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کا نام آتے ہی ملک کے شہریوں کے دل میں احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ قوم جوانوں کی مشکلات کو محسوس کرتی ہے اور ان کی قربانی، محنت اور عزم کو تسلیم کرتی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون نے کہا کہ بی ایس ایف کو ملک کی اہم سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری حاصل ہے اور ہر سرحد پر مختلف نوعیت کے چیلنجز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں بی ایس ایف اور ایس ایس بی تعینات ہیں وہاں اسمارٹ بارڈر کا نظام قائم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک چہار جانب سکیورٹی حکمتِ عملی کے تحت مقامی انتظامیہ، جدید ٹیکنالوجی اور جوانوں کی محنت کو یکجا کر کے سرحدوں کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسمارٹ بارڈر کا تصور آخری مراحل میں ہے اور اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد شروع کیا جائے گا، جس کے تحت ملک کی مختلف سرحدوں پر 7 سے 8 مقامات پر ابتدا کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ میں سامنے آنے والے ابتدائی مسائل کو دور کر کے پورے سرحدی نظام کو اسمارٹ بارڈر میں تبدیل کرنے کی سمت پیش رفت کی جائے گی۔ اس تصور میں ضلعی مجسٹریٹ، ایس پی، پٹواری اور سرپنچ جیسے مقامی انتظامی اداروں کی بھی شمولیت ہوگی، کیونکہ مقامی انتظامیہ کو شامل کئے بغیر سرحدی سکیورٹی کو مؤثر اور ناقابلِ تسخیر نہیں بنایا جا سکتا۔

3.jpg

جناب امت شاہ نے کہا کہ تریپورہ فرنٹیئر ہمارے لیے انتہائی اہم ہے جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی باڑ کی جدید کاری کے لیے 15 سال سے پرانی تقریباً 650 کلومیٹر باڑ میں سے 119 کلومیٹر نئی باڑ کو بھی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جوانوں کی سہولت کے لیے سرحدی چوکیوں میں بجلی کی فراہمی، گرین انرجی اقدامات اور اہلکاروں کے لیے محفوظ پینے کے پانی کے منصوبے نہ صرف شروع کیے گئے بلکہ مکمل بھی کر دیے گئے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ تریپورہ تین طرف سے سرحدوں میں گھری ہوئی ایک حساس ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہم سب کے سامنے یہ ہدف رکھا ہے کہ 2047 تک بھارت کو مکمل طور پر ترقی یافتہ ملک بنانا ہے اور اس کے لئے ملک کا سب سے پہلے محفوظ ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کو اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور نوجوانوں کو نشے جیسے خطرات سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے ہر پہلو سے حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اسمارٹ سکیورٹی گرڈ تیار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ باڑ کی حفاظت کے پورے تصور اور ہماری عملی حکمتِ عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کو متاثر کرنے والی ہر خرابی سے ملک اور سرحدوں کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ فینسنگ اور چہار جانب  سکیورٹی گرڈ کے تصور کو آئندہ دنوں میں تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز کی عملی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

4.jpg

شجرکاری مہم کے تحت آج مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف)، آسام رائفلز، نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی)، دہلی پولیس، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بیورو (بی پی آر اینڈ ڈی)، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور انٹر اسٹیٹ کونسل سیکریٹریٹ (آئی ایس سی ایس) سمیت وزارتِ داخلہ کے تمام دفاتر نے ملک بھر میں 5 لاکھ سے زائد پودے لگائے۔

***

ش ح۔ ک ا۔ م ذ
U.NO.8023


(रिलीज़ आईडी: 2269427) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Khasi , English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Gujarati , Odia , Tamil , Kannada