کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت دنیا کا سب سے زیادہ سرمایہ کاری کا قابلِ بھروسہ  مرکز بن کر ابھرا ہے: وزیرِ تجارت و صنعت جناب  پیوش گوئل نے سٹی انڈیا کانفرنس سے خطاب کیا

کینیڈا اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھارت کو سرمایہ کاروں کا بھرپور اعتماد حاصل ہوا؛ مجوزہ بھارت-کینیڈا آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو مثبت ردِعمل ملا: پیوش گوئل

بھارت کے تجارتی معاہدے مارکیٹ تک رسائی کو بڑھا رہے ہیں اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ہنرمند افراد کی نقل و حرکت میں بھی سہولت پیدا کررہے ہیں: پیوش گوئل

عمان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ نافذ ہو گیا ہے، جبکہ بھارت آئندہ 10 ماہ میں حال ہی میں طے پانے والے 9 تجارتی معاہدوں کو عملی طور پر نافذ کرنے جا رہا ہے: پیوش گوئل

جن وشواس ایکٹ 2.0 کے تحت تقریباً 1,000 جرائم کو غیر فوجداری قرار دیا گیا ہے، جبکہ ’’بھاویا اسکیم‘‘ کے ذریعے 100 صنعتی پارکس کو عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ تیار کیا جائے گا: پیوش گوئل

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 1:21PM by PIB Delhi

بھارت کے وزیرِ تجارت و صنعت جناب  پیوش گوئل نے ممبئی میں منعقدہ سٹی انڈیا کانفرنس 2026 سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کا مرکز بن کر ابھرا ہے، اور حکومت مینوفیکچرنگ، کاروبار کرنے میں آسانی، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور عالمی تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، اور انہیں یقین ہے کہ یہ حیثیت آئندہ دو دہائیوں تک برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ بحرانوں کو مواقع میں تبدیل کیا ہے اور بدلتے ہوئے جغرافیائی و اقتصادی حالات کے مطابق اپنے نظام اور کاروباری حکمتِ عملیوں کو ڈھالا ہے، جس کے باعث ملک تجارت، کاروبار، مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مرکز بنا ہوا ہے۔

وزیر  موصوف نے کہا کہ کینیڈا اور امریکہ میں سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں میں بھارت کی معیشت کے بارے میں مضبوط عالمی اعتماد ظاہر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کینیڈا کے دورے کے دوران، جو بھارت سے اب تک کا سب سے بڑا کاروباری وفد تھا، مجوزہ بھارت-کینیڈا آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو مثبت ردِعمل ملا، اور پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور دیگر بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے نمایاں دلچسپی دیکھنے میں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ نیویارک میں بڑی سرمایہ کاری کمپنیوں اور تقریباً 50 کمپنیوں کے ساتھ بات چیت نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ بھارت مینوفیکچرنگ کا ایک قابلِ اعتماد متبادل مرکز ہے، جو جمہوریت، قانون کی عمل داری ، مضبوط قیادت، تکنیکی صلاحیتوں اور 1.4 ارب افراد کی بڑی مارکیٹ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی خاطر  ایک محفوظ اور مستحکم  مقام ہے ۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ طویل مدتی عالمی سرمایہ کاری اب تیزی سے بھارت کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔ نیویارک اور ٹورنٹو کے بڑے سرمایہ کاروں کے ساتھ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ملاقات نے بھارت کی مستقبل کی ترقی کے بارے میں اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت میں سرمایہ کاری کرنی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ بھارت کی ترقی کی کہانی کو کتنی تیزی سے سمجھ کر اس کا حصہ بنتے ہیں۔

بھارت میں طویل مدتی کامیاب سرمایہ کاریوں کی مثالیں دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ہنڈائی نے 1999 میں تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ بھارت میں قدم رکھا۔ اس وقت بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باوجود کمپنی نے بھارت میں مینوفیکچرنگ کے ذریعے بتدریج بڑی قدر پیدا کی اور منافع، رائلٹی اور سرمایہ جاتی اضافہ کی صورت میں نمایاں فوائد حاصل کیے۔انہوں نے جے سی بی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنی اس وقت بھارت آئی جب ملک میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی ابتدائی مرحلے میں تھی، لیکن آج یہ بھارت میں تیار کردہ مصنوعات تقریباً 130 ممالک کو برآمد کر رہی ہے اور ساتھ ہی اندرونِ ملک بڑھتی ہوئی مانگ کو بھی پورا کر رہی ہے۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے لیے ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جو ملکی اور عالمی دونوں منڈیوں کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔

وزیر موصوف نے بھارت کی عالمی تجارتی سرگرمیوں میں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں بھارت نے 38 ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ 9 آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے ) ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے بھارت کی ترقی کی کہانی کو مزید مضبوط بناتے ہیں کیونکہ یہ مارکیٹ تک رسائی کو بڑھاتے ہیں، تجارت کو آسان بناتے ہیں، ہنرمند افراد کی نقل و حرکت کو ممکن بناتے ہیں اور بھارت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں، جن میں گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز کا قیام بھی شامل ہے۔

بھارت کے وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے عالمی سرمایہ کاروں کو بھارت کی ترقی کے سفر میں  شامل ہونے  کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت صرف ایک بڑا اور تیزی سے بڑھتا ہوا بازار نہیں بلکہ جدت، ڈیزائن اور جدید مینوفیکچرنگ کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کار بھارت کی نئی ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی صنعتوں کی طرف منتقلی کے لیے صبر اور طویل مدتی سرمایہ کاری کریں۔

انہوں نے بتایا کہ عمان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ یکم جون سے نافذ ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ چھ ماہ میں مزید دو سے تین اہم آزاد تجارتی معاہدوں کے نافذ ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ ایک سال کے دوران مزید تین سے چار بڑے تجارتی معاہدے کیے جائیں گے اور حال ہی میں طے پانے والے9 تجارتی معاہدوں کو اگلے نو سے دس ماہ میں مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔

کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے حالیہ اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپریل میں منظور ہونے والے جن وشواس ایکٹ 2.0 کا حوالہ دیا، جس کے تحت تقریباً ایک ہزار ایسے جرائم کو غیر فوجداری قرار دیا گیا جن میں دھوکہ دہی کی نیت یا عوامی صحت و تحفظ کو خطرہ شامل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات حکومت کے اعتماد پر مبنی نظام کی عکاسی کرتی ہیں، جس سے کاروباری بوجھ کم ہوگا اور عدالتی نظام پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

وزیر  موصوف نے ملک بھر میں 100 صنعتی پارکس کے قیام کے لیے شروع کی گئی ’’بھاویا اسکیم‘‘ کا بھی ذکر کیا، جس کے لیے تقریباً 3.5 ارب امریکی ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت پلگ اینڈ پلے صنعتی بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا، جس میں فیکٹری کے لیے تیار یونٹس، مزدوروں کی رہائش، تفریحی سہولیات، ماحولیاتی منظوری، مشترکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، پانی، بجلی اور ڈیجیٹل  بنیادی ڈھانچہ  شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایم ایس ایم ای اور صنعتوں کو سہولت دینا ہے اور حکومت کو ریگولیٹر کے بجائے ایک سہولت کار کے طور پر آگے لانا ہے۔

بھارت کے وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے کہا کہ لیبر اصلاحات کے تحت اب چار لیبر کوڈز نافذ کیے جا چکے ہیں اور کئی ریاستوں نے ان کے  ضابطوں کو اختیار کرنا  اور ان میں ترامیم کرنا شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 29 لیبر قوانین کو چار کوڈز میں یکجا کرنے سے قوانین پر عمل درآمد اور تعمیل کا عمل بہت آسان ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی چیلنجز کے باوجود بھارت نے مؤثر انداز میں صورتِ حال کا سامنا کیا۔  مغربی ایشیا ٰ میں پیش آنے والے حالات اور خلیجی خطے سے توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے باوجود بھارت نے توانائی کے بحران کو کامیابی سے سنبھالا۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی کے ذرائع کو پہلے ہی متنوع بنانے کی وجہ سے ملک میں پٹرول، ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن، ایل این جی اور ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہوئی، جبکہ قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے کسانوں کے لیے کھاد کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا اور اس کا بوجھ خود مرکزی حکومت نے برداشت کیا۔

 جناب  گوئل نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں وزیرِ اعظم جناب  نریندر مودی کی قیادت میں مضبوط مالی بندوبست  نے بھارت کو کسانوں،  ایم ایس ایم ای، کاروباری طبقے اور کمزور طبقات کی مدد کے قابل بنایا ہے، جبکہ معاشی استحکام بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

 بنیادی ڈھانچے  کی ترقی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت بندرگاہوں، شاہراہوں، سڑکوں، دیہی رابطوں اور ہوائی اڈوں کی ترقی پر تقریباً 130 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دہائی میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی صلاحیت دگنی ہو چکی ہے۔ انہوں نے جل جیون مشن، قومی پاور گرڈ اور 500 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سمیت اہم عوامی سہولتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اب 50 فیصد سے زائد حصہ قابلِ تجدید توانائی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو 250 گیگاواٹ سے بڑھا کر 500 گیگاواٹ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سیمی کنڈکٹرز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے پر توجہ دیتے ہوئے افرادی قوت کی ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ کے بڑے پروگراموں کا ذکر کیا، تاکہ ملک کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹاٹا اور ایس ایم ایل بھارت میں سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے پہلی کیپٹل ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ فیسلٹی قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور اقتصادی ترقی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے مسلسل اور طویل مدتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

بھارت کے وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے کہا کہ دنیا نے ابتدا میں صرف بھارتی ہنرمند افرادی قوت میں سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اب یہ رجحان بدل رہا ہے اور عالمی سرمایہ کار تیزی سے بھارت میں سرمایہ اور ٹیکنالوجی بھی منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب صرف اسمبلنگ پر مبنی مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر جدت پر مبنی ترقی کی طرف جا رہا ہے، جس میں ڈیزائن، تحقیق و ترقی، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور مقامی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے بھارت کے خود انحصار 5جی اسٹیک، ملک گیر تیز رفتار 5جی نیٹ ورک کے پھیلاؤ، کم قیمت ڈیٹا، مضبوط بجلی کے نظام اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے محفوظ ماحول کو اس تبدیلی کی نمایاں مثالیں قرار دیا۔

پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت ایک محفوظ اور مستحکم نظام فراہم کرتا ہے جہاں دانشورانہ املاک کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے، ٹیکنالوجی محفوظ رہتی ہے اور ڈیٹا پرائیویسی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا سینٹرز کو 2047 تک انکم ٹیکس میں چھوٹ حاصل رہے گی، کیونکہ بھارت اس سال تک ’’وکست بھارت 2047‘‘کے وژن کے تحت 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف رکھتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ بھارت اعلیٰ معیار کی مصنوعات، اشیاء اور خدمات کے ذریعے بے پناہ امکانات، مواقع اور منافع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے دوبارہ زور دیا کہ بھارت عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل ہے اور انہیں یقین ہے کہ 1.4 ارب عوام اور بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد سے بھارتی معیشت 21ویں صدی کی سب سے بڑی اور سب سے مؤثر ترقی کی داستان بنے گی۔

 

 

*****

(ش ح ۔ اع خ۔ م ذ)

 U.No: 7967


(रिलीज़ आईडी: 2268873) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam