پنچایتی راج کی وزارت
نئی دہلی میں قومی پنچایت ایوارڈز- 2025 کی تقریب کے دوران دیہی تبدیلی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی 42 پنچایتوں کو اعزاز سے نوازا گیا
‘گرام اُودے سے بھارت اُدے’ ہی ترقی یافتہ بھارت کا راستہ ہے: جناب راجیو رنجن سنگھ
بیالیس(42 )قومی ایوارڈ یافتہ پنچایتوں میں 22 خواتین کی قیادت والی پنچایتیں شامل، بہترین عملی نمونوں پر مبنی مختلف معلومات کامجموعہ بھی جاری کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
03 JUN 2026 9:09PM by PIB Delhi
قومی پنچایت ایوارڈز-2025 آج نئی دہلی میں ملک بھر کی 42 نمایاں پنچایتوں کو عطا کیے گئے۔ یہ ایوارڈز مرکزی وزیر برائے پنچایتی راج اور ماہی و مویشی پروری اور ڈیری جناب راجیو رنجن سنگھ (عرف للن سنگھ) نے مرکزی وزیرمملکت برائے پنچایتی راج پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل، حکومت آسام کے وزیر برائے تبدیلی و ترقی، مزدور کی بہبود، چائے قبائل اور آدیواسی فلاح جناب رامیشور تیلی، وزارتِ پنچایتی راج کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج، مرکز اور ریاستوں کے سینئر حکام، نیز مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے پنچایتی راج اداروں کے منتخب نمائندوں کی موجودگی میں پیش کیے۔یہ ایوارڈز ملک بھر کی اُن پنچایتوں کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دئیے گئے ہیں جنہوں نے شاملہ، عوامی شراکت پر مبنی اور پائیدار دیہی ترقی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جو ‘وکست بھارت- 2047’ کے ویژن سے ہم آہنگ ہے۔تقریب کے دوران ‘قومی پنچایت ایوارڈز-2025 حاصل کرنے والی پنچایتوں کے کاموں اور بہترین عملی نمونوں پر مشتمل ایک ای- بک بھی جاری کی گئی۔ اس کے علاوہ پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی بہترین عملی مثالوں کا مجموعہ (سی بی پی) بھی منظرِ عام پر لایا گیا۔ان اشاعتوں کا مقصد باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دینا اور نچلی سطح پر کامیاب طرزحکمرانی کے نمونوں کو دیگر علاقوں میں اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے ایوارڈ حاصل کرنے والی پنچایتوں کو ان کی لگن، جدت اور عوامی مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے عزم پر مبارکباد پیش کی۔ایوارڈ یافتہ پنچایتوں کے نمائندوں اور ملک بھر سے ورچوئل طور پر شریک افراد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈز نچلی سطح پر جمہوریت کی بڑھتی ہوئی مضبوطی اور ‘وکست بھارت’ کے ویژن کی تکمیل میں پنچایتوں کے کلیدی کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیر موصوف نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن کو دہراتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کا سفر بااختیار دیہات کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کی بنیاد ‘گرام اُودے سے بھارت اُودے’ کے اصول پر ہے۔انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ 42 میں سے 22 ایوارڈ یافتہ پنچایتیں خواتین کی قیادت میں ہیں، جسے انہوں نے دیہی بھارت میں خواتین کی قیادت اور شمولیتی حکمرانی کے انقلابی اثرات کا ثبوت قرار دیا۔وزیر موصوف نے وزارت کی مختلف اقدامات جیسے‘پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس’(پی اے آئی) 2.0، ای-گرام سوراج، اور اے آئی پر مبنی سبھا سار پلیٹ فارم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنچایتوں کو ٹیکنالوجی، وسائل اور صلاحیت سازی کے ذریعے بااختیار بنایا جا رہا ہے تاکہ شفاف، جوابدہ اور عوامی مرکزیت پر مبنی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے ایوارڈ یافتہ پنچایتوں پر زور دیا کہ وہ بہترین عملی نمونوں کو شیئر کرکے، جدت کو فروغ دے کر، خواتین کی قیادت کو مضبوط بنا کر اور خدمات کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنا کر دیگر کے لیے مثال بنیں۔
آخر میں جناب سنگھ نے حکومت کے پنچایتوں کو بااختیار بنانے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ‘‘16ویں مالیاتی کمیشن کے تحت مختص 4.35 لاکھ کروڑ روپے (15ویں مالیاتی کمیشن کے مقابلے میں 84 فیصد اضافہ) نچلی سطح کی حکمرانی کو مزید مضبوط کرے گا اور ‘وکست بھارت ’کے ویژن کو آگے بڑھائے گا’’۔مرکزی وزیرمملکت پروفیسرایس پی سنگھ بگھیل نے کہا کہ ملک بھر کی 2.5 لاکھ سے زائد پنچایتوں میں سے 42 ایوارڈ یافتہ پنچایتوں کا انتخاب ایک شفاف اور سخت جانچ کے عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈز لوکلائزڈ سسٹینیبل ڈیولپمنٹ گولز (ایل ایس ڈی جی ایس) اور پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس (پی اے آئی) کی بنیاد پر دئیے گئے ہیں، جس سے ایک معروضی اور کارکردگی پر مبنی جانچ کو یقینی بنایا گیا ہے۔مرکزی وزیرِ مملکت نے پنچایت نمائندوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحت، پنشن اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں سرکاری فلاحی اسکیموں کی مکمل رسائی کو یقینی بنائیں تاکہ جامع اور ہمہ جہت ترقی حاصل کی جا سکے۔
وزارتِ پنچایتی راج کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج نے اپنے خطاب میں پنچایتی راج اداروں کی اس شاندار تبدیلی کو اجاگر کیا جس کے تحت یہ ادارے اب ڈیٹا پر مبنی، شفاف اور جوابدہ نچلی سطح کی حکمرانی کے مؤثر نظام میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس سفر کو بھارت کی جمہوری تاریخ کے سب سے متاثر کن ابواب میں سے ایک قرار دیا۔انہوں نے ملک بھر کی ہر پنچایت پر زور دیا کہ وہ ان مثالی ماڈلز سے حوصلہ لے کر عوامی شمولیت پر مبنی اور شہری مرکز حکمرانی کو مزید مضبوط بنائے۔
قومی پنچایت ایوارڈز کے بارے میں
قومی پنچایت ایوارڈز ہر سال وزارتِ پنچایتی راج کی جانب سے اُن بہترین کارکردگی دکھانے والی پنچایتوں کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے جامع، شمولیتی اور پائیدار دیہی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ ان ایوارڈز کا مقصد بہترین کارکردگی کی حوصلہ افزائی اور اسے تسلیم کرنا ہے۔اس ایوارڈکا فریم ورک کو 2023 میں جامع طور پر ازسرنو تشکیل دیا گیا اور اسے ‘لوکلائزیشن آف ایل ایس ڈی جیز کے نو موضوعاتی شعبوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ جانچ کا نظام زیادہ جامع، شفاف اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ این پی اے 2025 دو بڑے زمروں میں دیا گیا: دین دیال اُپادھیائے پنچایت سَتت وکاس پُرسکار (ڈی ڈی یوپی ایس وی پی)یہ ایوارڈ 34 گرام پنچایتوں کو 17 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں سے دیا گیا، جنہوں نے ایل ایس ڈی جی ایس کے نو موضوعاتی شعبوں میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ ان شعبوں میں شامل ہیں: غربت سے پاک اور روزگار پر مبنی ترقی، صحت، بچوں کے لیے دوستانہ حکمرانی، پانی کی خود کفالت، صاف اور سرسبز ماحول،بنیادی ڈھانچہ، سماجی انصاف اور تحفظ، اچھی حکمرانی، خواتین کے لیے دوستانہ پنچایتیں-ان کی انتخابی بنیاد‘پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس(پی اے آئی) 2.0 اسکورز تھے۔ نانا جی دیشمکھ سرواُتم پنچایت سَتت وکاس پُرسکار (این ڈی ایس پی ایس وی پی)یہ ایوارڈ مجموعی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر 8 پنچایتوں کو دیا گیا، جن میں شامل ہیں: 3 بہترین ضلع پنچایتیں، 2 بہترین بلاک پنچایتیں،3 بہترین گرام پنچایتیں۔ یہ ایوارڈز مجموعی طور پر اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے اداروں کو تسلیم کرتے ہیں۔ مالی مراعات
ایوارڈ حاصل کرنے والی پنچایتوں کوانسنٹیوائزیشن آف پنچایتس (ایل او پی) اسکیم کے تحت مالی معاونت بھی دی جاتی ہے، جو راشٹریہ گرام سوراج ابھیان ( آر جی ایس اے) کا حصہ ہے۔ یہ مالی گرانٹ ہر پنچایت کو50 لاکھ روپے سے 5 کروڑ روپے تک فراہم کی جاتی ہے، جسے مزید ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔
For more details please click.
********
ش ح- ظ الف- ج
UR- 7957
(रिलीज़ आईडी: 2268799)
आगंतुक पटल : 9