امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محکمۂ امورِ صارفین کی جانب سے جنوبی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ  لیگل میٹرولوجی کی  اصلاحات پر علاقائی جائزہ اجلاس کا انعقاد


لیگل میٹرولوجی کے شعبے میں  عوامی اعتماد کی  اصلاحات کے تیز تر نفاذ پر مرکزی حکومت کا  زور

اجلاس میں رجسٹریشن پر مبنی نظام، جی اے ٹی سی کی توسیع اور ای۔ماپ کے  انضمام کا جائزہ

سہل ضابطہ بندی اور صارفین کے پختہ تحفظ پر خصوصی توجہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAY 2026 3:41PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کے محکمۂ امورِ صارفین نے 27 مئی 2026 کو آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالہ، پڈوچیری، تمل ناڈو اور تلنگانہ کے ساتھ علاقائی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں  ضابطہ جاتی اصلاحات سے متعلق  اعلیٰ سطحی کمیٹی (ایچ ایل سی) اور کابینہ سکریٹریٹ کے ڈی ریگولیشن سیل کی سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔ اس اجلاس کا مقصد قانونی  نانپ  تول ایکٹ 2009 میں جن وشواس (ترمیمی دفعات) ایکٹ 2026 کے تحت متعارف کی جانے والی  اصلاحات کے نفاذ کا جائزہ لینا تھا۔

اجلاس میں درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دی گئی:

  • نئے رجسٹریشن پر مبنی نظام کا نفاذ
  • معمولی ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کو فوجداری دائرے سے باہر کرنا اور ’اصلاحی نوٹس‘ کا نفاذ
  • سرکاری منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سی) کی توسیع اور قانونی نانپ  تول کی خدمات کا  ڈیجیٹلائزیشن
  • صلاحیت سازی

لائسنسنگ سے رجسٹریشن نظام کی جانب منتقلی

 جائزہ اجلاس میں گفتگو کے دوران ریاستوں سے کہا گیا کہ ’’لائسنسنگ‘‘ سے ’’رجسٹریشن‘‘ نظام کی جانب منتقلی کو حقیقی معنوں میں اعتماد پر مبنی اور سہولت فراہم کرنے والا ضابطہ جاتی نظام بنایا جائے۔ اس بات پر خصوصی  زور دیا گیا کہ مطلوبہ دستاویزات جمع ہونے کے بعد رجسٹریشن بلا تاخیر اور بغیر غیر ضروری جانچ یا پیشگی معائنے کے خودکار طریقے سے فراہم کی جائے۔

فوجداری کارروائی سے استثنا اور ’’اصلاحی نوٹس‘‘ کا  نظام

محکمہ  امور صارفین نے جن وشواس کی اصلاحات کے تحت متعارف کرائے گئے نئے ’’اصلاحی نوٹس‘‘ کے  نظام کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا۔ اس نظام کے تحت قانونی نانپ   تول ایکٹ کی مخصوص دفعات کے تحت پہلی مرتبہ ہونے والی ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر کسی تعزیری کارروائی سے پہلے ’’اصلاحی نوٹس‘‘ جاری کیا جائے گا۔ اس اصلاح کا مقصد رضاکارانہ تعمیل کی حوصلہ افزائی، قانونی مقدمات میں کمی اور کاروبار میں آسانی کو فروغ دینا ہے، جبکہ صارفین کے مفادات کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

سرکاری منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سی) کی توسیع

ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ ترمیم شدہ قانونی ناپ   تول کے  فریم ورک کے مطابق اپنے تنفیذی قواعد اور سرکاری منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سی) کے ضوابط  میں جلد از جلد ترمیم کریں۔ اجلاس میں شریک ریاستوں نے بتایا کہ نظرثانی شدہ قواعد کی تیاری اور منظوری کا عمل آخری مرحلے میں ہے اور جلد ہی انہیں باضابطہ طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔

محکمہ نے اس بات پر بھی  زور دیا کہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے جلد از جلد اپنے جی اے ٹی سی کے  قواعد کا نوٹیفکیشن جاری کریں اور جی اے ٹی سی نظام کے تحت شامل آلات کے دائرہ کار کو وسعت دیں۔ اس اقدام سے تصدیقی بنیادی ڈھانچے کو مضبوطی ملے گی، تصدیق کنندگان کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور صنعتوں، تاجروں اور صارفین کو خدمات کی تیز تر فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

اجلاس کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ قانونی  نانپ  تول ایکٹ 2009 میں، منسوخ شدہ اسٹینڈرڈز آف ویٹس اینڈ میژرز ایکٹ 1976 کے برعکس، بین ریاستی سطح پر وزن و پیمائش کی تصدیق کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اسی لیے حکومتِ ہند کے ڈائریکٹر آف لیگل میٹرولوجی کی جانب سے منظور شدہ سرکاری جانچ مراکز (جی اے ٹی سی) صرف اسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تصدیق اور دوبارہ تصدیق کا عمل انجام دے سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں منظوری دی گئی ہو۔ یہ وضاحت فریم ورک کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانے اور جی اے ٹی سی کے دائرۂ اختیار سے متعلق عملی ابہام کو دور کرنے کے لیے جاری کی گئی۔

صلاحیت سازی

محکمہ  امور صارفین نے بتایا کہ قانونی پیمائش و  نانپ تول کے  افسران کی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میٹرولوجی (آئی آئی ایل ایم)، رانچی کے ذریعے تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

اجلاس کے دوران جن اہم امور پر گفتگو ہوئی، ان میں ای۔ماپ پورٹل کے ذریعے خدمات کی تیز اور ہموار فراہمی، تیسرے فریق کے تصدیقی نظام کو مضبوط بنانا، سرکاری منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سی) کے ذریعے تصدیقی بنیادی ڈھانچے کی توسیع، جی اے ٹی سی فریم ورک کے تحت وزن و پیمائش کے نئے شامل کردہ آلات کو شامل کرنا، اور قانونی پیمائش و تول افسران کی صلاحیت سازی و تکنیکی تربیت شامل تھے۔

محکمہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگرچہ ایماندار کاروباریوں اور تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے، تاہم دھوکہ دہی، چھیڑ چھاڑ اور صارفین کے مفادات کو متاثر کرنے والی خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی پیمائش و تول فریم ورک کے تحت سخت کارروائی جاری رہے گی۔ ان اصلاحات کا مقصد ایک ایسا شفاف، جدید اور متوازن ضابطہ جاتی نظام قائم کرنا ہے، جو کاروبار میں آسانی کے ساتھ ساتھ صارفین کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔

***

(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)

UR No-7663


(ریلیز آئی ڈی: 2266344) وزیٹر کاؤنٹر : 8