وزیراعظم کا دفتر
ایف اے او ایگریکولا میڈل کے لیے وزیراعظم کی تہنیتی تقریر کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 MAY 2026 11:00PM by PIB Delhi
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل،
معزز مہمانان گرامی،
خواتین و حضرات،
نمسکار!
آپ کی پرتکلف میزبانی اور مجھے “ایگریکولا میڈل” سے نوازنے پر میں ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہندوستان کے بارے میں ان کے دوستانہ الفاظ اور ایف اے او میں برسوں کی خدمات کے لیے میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
یہ صرف میرا اعزاز نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کے کروڑوں کسانوں، مویشی پروری سے وابستہ افراد، ماہی گیروں، زرعی سائنس دانوں اور ہمارے محنت کشوں کا اعزاز ہے۔ یہ ہندوستان کے اس مضبوط عزم کا بھی اعتراف ہے ،جس کے مرکز میں انسانی فلاح، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی شامل ہے۔ میں اس میڈل کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے ان داتاؤں(اناج پیدا کرنے والوں)کے نام وقف کرتا ہوں۔
دوستو!
ہندوستانی تہذیب میں زراعت صرف فصلیں اگانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ اسے انسان اور ماتر بھومی کے درمیان ایک گہرے اور مقدس تعلق کا درجہ حاصل ہے۔
ہندوستان میں زراعت زندگی کی بنیادی عنصر ہے۔ یہ ہماری ثقافت کا لازمی حصہ ہے اور ہمارے اخلاقی و سماجی اقدار کا عکس ہے۔ ہمارے یہاں زمین کو ’ماں‘اور کسان کو ’زمین کا بیٹا’ کہا جاتا ہے۔ ہزاروں سال پرانے یہی اقدار آج بھی ہماری جدوجہد کے لیے باعث تحریک ہیں۔
دوستو!
ہزاروں سال کی تعلیم اور ہندوستان کی زرعی روایت کے ساتھ آج ہمارا ملک زرعی شعبے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی طریقۂ کار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
دوستو!
ہم صرف پیداوار بڑھانے کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک ایسا زرعی نظام (فارمنگ ایکو سسٹم) بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں جو پائیدار بھی ہو، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط (کلائمٹ ریزیلینٹ) بھی ہو اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بھی ہو۔ اسی لیے پورے ہندوستان میں سائنسی زراعت کو مشن موڈ میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
سائل ہیلتھ کارڈز کی مدد سے ہم کسانوں کو مٹی کی سائنسی جانچ اور غذائی اجزاء کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
’پرڈراپ، مور کراپ‘جیسے پروگرام مائیکرو اریگیشن اور پریسیژن فارمنگ کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ کسان کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔
دوستو!
ٹیکنالوجی آج ہندوستانی زراعت کی نئی طاقت بن رہی ہے۔ ایگریک سٹیک جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، اے آئی پر مبنی مشاورتی نظام، ڈرونز، ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجیز اور سینسر بیسڈ مشینری ہندوستان میں زراعت کو زیادہ اسمارٹ اور ڈیٹا ڈرون بنا رہی ہیں۔ آج دیہات کا چھوٹا کسان بھی موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے موسم کی معلومات، فصلوں سے متعلق مشورے اور مارکیٹ کی معلومات تک رسائی حاصل کر رہا ہے اور ہندوستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق مضبوط (کلائمٹ ریزیلینٹ) زراعت پر بھی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں ملک میں تقریباً 3000 کلائمٹ ریزیلینٹ (موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط فصلوں کی اقسام)فصلوں کی اقسام تیار کی گئی ہیں۔ تین ہزار- اس سے ملک کے کروڑوں کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ساتھیو!
ہم مانتے ہیں کہ زراعت کا مستقبل صرف ’زیادہ پیداوار‘ میں نہیں بلکہ ’بہتر پیداوار‘ میں ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کو بڑھانے اور کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کا تجربہ دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ وسعت (اسکیل) اور پائیداری (سسٹین ایبلیٹی) ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، ٹیکنالوجی اور شمولیت ایک دوسرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور سائنس پر مبنی زراعت عالمی غذائی تحفظ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔
دوستو!
آج ہندوستان میں زراعت کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہندوستان خوراک کی اضافی پیداوار رکھنے والا ملک (فوڈ سرپلس نیشن) ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی غذائی تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ دودھ اور مصالحہ کی پیداوار میں ہندوستان سرفہرست ہے۔ چاول، گندم، پھل، سبزیاں اور کپاس کی پیداوار میں بھی ہندوستان سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ ہندوستان کی زرعی برآمدات 2020 میں 35 ارب ڈالر سے بڑھ کر گزشتہ برس 51 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
دوستو!
یہ کامیابیاں اس لیے اہم ہیں ،کیونکہ ہندوستان کے پاس دنیا کی صرف ڈھائی فیصد زرعی زمین ہے، لیکن دنیا کی 18 فیصد آبادی ہندوستان میں رہتی ہے۔ ہندوستان کا کامیاب تجربہ پورے گلوبل ساؤتھ کو نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارے لیے غذائی تحفظ صرف ایک پالیسی معاملہ نہیں ،بلکہ انسانیت کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے۔
دوستو!
ہندوستان کا ایف اے او کے ساتھ تعاون کئی دہائیوں پرانا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ڈاکٹر سوامی ناتھن اور ڈاکٹر بینوئے رنجن سین جیسے عظیم سائنس دانوں نے ایف اے او کے ساتھ وابستہ ہو کر عالمی غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان ہمیشہ سے یہ مانتا آیا ہے کہ جب سائنس، پالیسی اور انسانی اقدار ایک ساتھ آتے ہیں تو تاریخ بدل جاتی ہے۔ بانی رکن کے طور پر ہندوستان نے ایف اے او کے ساتھ مل کر عالمی غذائی تحفظ، پائیدار زراعت اور بھوک سے پاک دنیا کے اہداف کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ ہماری شراکت کی بہترین مثال ہمیں “انٹرنیشنل ایئر آف ملیٹس” کے دوران دیکھنے کو ملی۔ ایف اے او کے تعاون سے دنیا نے باجرے کی اہمیت کو ایک نئے انداز میں پہچانا۔ ہم آئندہ بھی کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے رہیں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی میں باجرے (ملیٹس) کے بارے میں بات کرتا ہوں تو ہر کسی کی توجہ غذائیت کی طرف جاتی ہے، لیکن ملیٹس ایک ماحول دوست فصل بھی ہے۔ اس کے لیے بہت کم پانی درکار ہوتا ہے اور یہ بغیر کیمیائی کھادوں کے بھی اگ سکتی ہے۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 85 فیصد کسان چھوٹے اور محدود زمین رکھنے والے ہیں۔ جہاں آبپاشی کی سہولت نہیں ہے اور جہاں صرف بارش پر انحصار کرنا پڑتا ہے، وہاں کے کسان باجرےکی کاشت کے ذریعے نہ صرف غذائیت کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔
دوستو!
ہندوستان میں ہم کہتے ہیں: ’جے جوان، جے کسان‘۔ جب کسان ایک بیج بوتا ہے تو وہ صرف فصل نہیں اگاتا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے اعتماد بھی بوتا ہے۔ آج جب دنیا غیر یقینی اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، تو کسانوں کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ آج جو اعزاز دیا گیا ہے، وہ ہندوستان کے ہر کسان کے عزم کو مزید مضبوط کرے گااور آئندہ بھی بھوک، غربت اور غذائی کمی کے خلاف عالمی کوششوں میں ہندوستان اپنی پوری وابستگی کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ جیسا بتایا گیا کہ کل آپ چائے کا دن منانے والے ہیں، تو چائے کا دن منانے کے لیے چائے والا ایک دن پہلے ہی آپ کے درمیان آ گیا ہے۔ ہندوستان میں چائے کی اقسام بھی بہت ہیں اور چائے کی طاقت بھی بہت زیادہ ہے۔
ایک بار پھر میں ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
آپ سب کا بھی میں بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
****
ش ح۔م ع ن۔ م ش
U. No. 7544
(ریلیز آئی ڈی: 2265290)
وزیٹر کاؤنٹر : 9