وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے حیدرآباد، تلنگانہ میں تقریباً 9,400 کروڑ روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور ملک کے نام وقف کیا
یہ پورے تلنگانہ میں بہتر بنیادی ڈھانچے اور ہموار رابطہ کاری کی جانب ایک بڑا قدم ہے: وزیر اعظم
آج بھارت ”ریفارمز ایکسپریس“ پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے؛ اسی کے ساتھ آج کا بھارت جدید بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر کر رہا ہے: وزیر اعظم
ماضی میں جب بھارت ایک بڑی عالمی معیشت تھا، ہماری ٹیکسٹائل صنعت نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا؛ اب ہم اس ورثے کو دوبارہ مضبوط بنا رہے ہیں؛ وارنگل میں پی ایم مترا پارک ملک میں ٹیکسٹائل انقلاب کو تیز کرے گا: وزیر اعظم
گزشتہ 12 برسوں کے دوران جدید رابطہ کاری بھی حکومت ہند کی ایک بڑی ترجیح رہی ہے؛ چاہے سڑکیں ہوں، ریلوے ہو یا ہوائی اڈے، ہر قسم کے رابطہ نظام میں بے مثال سرمایہ کاری کی جا رہی ہے: وزیر اعظم
آج دنیا بھر کا ہر فرد توانائی کے تحفظ کی اہمیت کو محسوس کر رہا ہے؛ اسی لیے ہماری مرکزی حکومت بھارت کے توانائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری کر رہی ہے: وزیر اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 MAY 2026 5:59PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج حیدرآباد، تلنگانہ میں تقریباً 9,400 کروڑ روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور ملک کے نام وقف کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے حیدرآباد کی اس تبدیلی آمیز اہمیت کو اجاگر کیا جو اسے قومی اور عالمی سطح پر ایک نمایاں مرکز بناتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خطہ تلنگانہ اور پورے ملک کی تیز رفتار ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اور آج شروع کیے گئے متعدد بڑے منصوبے تلنگانہ کو ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر قائم کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان منصوبوں سے ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقائی رابطہ کاری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے ان منصوبوں پر تلنگانہ کے عوام کو مبارکباد بھی پیش کی۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت ”ریفارمز ایکسپریس“ پر آگے بڑھتے ہوئے مختلف شعبوں میں جدید بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر کر رہا ہے۔ انہوں نے ظہیرآباد انڈسٹریل ایریا کو اس تبدیلی کا ایک اہم ستون قرار دیا، جو حکومتِ ہند کے صنعتی کوریڈور کی ترقی کے قومی مشن کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھرنے والا یہ کمپلیکس ایک ”انڈسٹریل اسمارٹ سٹی“ کے طور پر کام کرے گا، جہاں عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ، بہترین بجلی کی فراہمی اور جدید آئی سی ٹی نیٹ ورکس دستیاب ہوں گے، تاکہ عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے ادارے قائم کرنے کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ مالیاتی عزم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت ان سہولیات کے لیے ہزاروں کروڑ روپے فراہم کر رہی ہے، جس سے تلنگانہ اور حیدرآباد کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس کے وسیع اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ”یہاں تیار ہونے والی گاڑیاں، مشینری، اور اس زون میں قائم فوڈ پروسیسنگ صنعتیں تلنگانہ کے مزدوروں اور کسانوں دونوں کو بااختیار بنائیں گی۔“
بھارت کے اُس تاریخی دور کو یاد کرتے ہوئے جب ملک ایک بڑی عالمی معیشت تھا اور ٹیکسٹائل صنعت نے تبدیلی آمیز کردار ادا کیا تھا، وزیر اعظم نے اس اسٹریٹجک شعبے کو جدید اقدامات کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وارنگل میں قائم ہونے والا پی ایم مترا پارک ملک میں ٹیکسٹائل انقلاب کو نئی رفتار دے گا، جبکہ اس میں شامل یونٹس کو مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں، بشمول پی ایل آئی اسکیم، کے تحت جامع فوائد حاصل ہوں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مستفید ہونے والے ادارے پہلے ہی پی ایل آئی اسکیم کے فوائد حاصل کرنا شروع کر چکے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ”یہ ٹیکسٹائل پارک بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے لیے۔“
سڑکوں، ریلوے اور ہوائی اڈوں سمیت جدید رابطہ کاری کے بنیادی ڈھانچے میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران حکومت ہند کی غیر معمولی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ صرف قومی شاہراہوں کی ترقی کے لیے تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو اس قومی ترجیح سے نمایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں، اور گزشتہ 12 برسوں میں ریاست کے قومی شاہراہی نیٹ ورک میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ-کرناٹک قومی شاہراہ کی توسیع کے منصوبے کے فوری فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے سفر کا وقت کم ہوگا اور نقل و حمل کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منظم بنیادی ڈھانچہ جاتی سرمایہ کاری کے عملی نتائج عوام تک براہِ راست پہنچ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا، ”تلنگانہ اور کرناٹک کو جوڑنے والی قومی شاہراہ کی توسیع سے عوام کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔“
تلنگانہ میں ریلوے سرمایہ کاری کی موجودہ صورتحال کا 2014 سے پہلے کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نمایاں اضافے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے قبل متحدہ آندھرا پردیش کا ریلوے بجٹ ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھا، جبکہ آج تلنگانہ کے لیے سالانہ ریلوے مختص رقم ساڑھے پانچ ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے مالیت کے ریلوے منصوبے بیک وقت زیر عمل ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ تلنگانہ میں پانچ وندے بھارت اور چھ امرت بھارت ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، جو جدید ریل نقل و حمل میں تبدیلی کی واضح مثال ہیں۔ کازی پیٹ-وجے واڑہ ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ کے منتخب حصوں کے افتتاح اور کازی پیٹ ریل انڈر بائی پاس لائن کو ملک کے نام وقف کرنے کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا، ”یہ سہولیات سفر کو آسان بنائیں گی اور نقل و حمل کی رفتار میں اضافہ کریں گی۔“
اکیسویں صدی کے عالمی تناظر میں توانائی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، جہاں توانائی میں رکاوٹ پورے معاشی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا بھر کا ہر فرد توانائی کے تحفظ کی تزویراتی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہند قومی توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری کر رہی ہے، اور ملکاپور میں انڈین آئل کے نئے ٹرمینل کے افتتاح کو ایک اہم قدم قرار دیا۔ اس منصوبے کی علاقائی ترقی کے لیے اہمیت بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ”یہ ٹرمینل تلنگانہ کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرے گا اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنائے گا۔“
حالیہ برسوں میں بھارت کے عالمی سطح پر شمسی توانائی پیدا کرنے والے سرِفہرست ممالک میں شامل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نے اس شعبے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش میں نمایاں کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی مرحلہ وار توانائی تنوع حکمتِ عملی کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں توجہ سب کے لیے ایل پی جی کی فراہمی پر مرکوز تھی، جو اب سستی پائپ والی نیچرل گیس کی تقسیم اور ملک بھر میں سی این جی پر مبنی نظاموں کے فروغ کی جانب بڑھ چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسی نوعیت کے جامع اقدامات بھارت کو موجودہ عالمی توانائی بحران کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔ انہوں نے توانائی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمد شدہ توانائی مصنوعات کو صرف حقیقی ضرورت کے مطابق اور محتاط انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ زرمبادلہ کے تحفظ اور جنگی بحرانوں کے منفی اثرات میں کمی کے مالیاتی اور جغرافیائی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب مودی نے کہا، ”ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ صرف اتنی ہی توانائی استعمال کریں جتنی ضرورت ہو، تاکہ زرمبادلہ کی بچت ہو اور جنگی بحرانوں کے منفی اثرات کم کیے جا سکیں۔“
تلنگانہ کے نوجوانوں کو نئی امنگوں کا معمار اور ریاست کے کسانوں کو نئی امید کی علامت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے صنعتوں، ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپ کے اس اجتماعی عزم کو سراہا کہ وہ ایک ترقی یافتہ تلنگانہ کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بنیادی اصول پر زور دیا کہ تلنگانہ کی ترقی دراصل قومی ترقی کا لازمی حصہ ہے، اور ریاست کی خوشحالی براہِ راست ملک کی خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے ہر خاندان کو یقین دہانی کراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتِ ہند ریاست کے عوام کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی ترقیاتی کوششیں جاری رکھے گی۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ”اگر تلنگانہ ترقی کرے گا، تو بھارت بھی ترقی کرے گا۔“
*************
ش ح۔ ف ش ع
U: 6879
(ریلیز آئی ڈی: 2259602)
وزیٹر کاؤنٹر : 8